چیئرمین نیب کے خلاف پہلا ریفرنس: مگر کیوں؟

چیئرمین نیب تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں پاناما کیس کا فیصلہ آنے کے بعد حزب اختلاف کی جماعت پاکستان تحریک انصاف نے قومی احتساب بیورو کے سربراہ قمر زمان چوہدری کے خلاف ریفرنس دائر کیا ہے جو کسی بھی چیئرمین نیب کے خلاف دائر کیے جانے والا پہلا ریفرنس ہے۔

یہ ریفرنس آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت دائر کیا گیا ہے جو عدلیہ کے ججوں کو اُن کے عہدوں سے ہٹانے کے لیے بھی دائر کیا جاتا ہے۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نیب آرڈیننس کے مطابق چیئرمین نیب کو سوائے آئین کے آرٹیکل 209 کے ان کی مدت ملازمت پوری ہونے سے قبل عہدے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔

’شکر ہے بچت ہو گئی ورنہ میں تو بہت ڈرا ہوا تھا‘

’نیب کے چیئرمین اپیل دائر نہ کرنے کی تجویز سے متفق تھے‘

قمر زمان چوہدری نے اکتوبر 2013 میں چیئرمین نیب کا عہدہ سنبھالا تھا اور رواں سال اکتوبر میں ان کی مدت ملازمت ختم ہونے والی ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے قمر زمان چوہدری کی تقرری کو اس وقت بھی چیلنج کیا تھا۔

ایک ایسے وقت میں جب چیئرمین نیب کی مدت ملازمت ختم ہونے میں صرف چھ ماہ باقی ہیں پاکستان تحریک انصاف کو ان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

گذشتہ دنوں پاکستان کی عدالت عظمیٰ پاناما نے پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کا حکم دیا تھا۔

ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں بننے والی تحقیقاتی ٹیم میں نیب، سٹیٹ بینک آف پاکستان، سکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)، آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلی جنس کے نمائندے شامل کرنے کا کہا گیا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے چیئرمین نیب کو ان کے عہدے سے ہٹانے اور فوری طور پر کام کرنے سے روکنے کے لیے ریفرنس دائر کیا ہے۔

ان کے بقول چونکہ نیب کے چیئرمین کے خلاف پاناما کیس کے فیصلے میں بھی ججوں نے تحفضات کا اظہار کیا، ایسے میں ان کے ہوتے ہوئے وزیر اعظم اور اُن کے اہل خانہ کے خلاف شفاف تحقیقات نہیں ہو سکتیں۔

پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے ریفرنس دائر کرنے کی تین وجوہات بیان کی گئی ہیں:

  1. چیئرمین نیب پاکستان میں احتساب کے نظام کو نافذ کرنے کے ذمہ دار تھے لیکن پی ٹی آئی کے مطابق نیب ملک کے کرپٹ ترین اداروں میں سے ایک ادارہ بن گیا ہے۔
  2. ’نیب کے چیئرمین کے خلاف پاناما کیس کا فیصلہ سنانے والے سپریم کورٹ کے بینچ نے ریمارکس دیے۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ’اگر 20 کروڑ آبادی والے ملک میں اس شخص کو چیئرمین نیب بنانا ہے تو کرپشن کو جائز کر دیں۔‘
  3. پاناما کیس کے فیصلے میں بھی تمام ججوں نے یہ کہا کہ چیئرمین نیب کے ہوتے ہوئے ادارہ غیر فعال ہے لہٰذا پاناما کیس کی مشترکہ تحقیقات کے لیے متبادل مکینزم بنایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے چیئرمین نیب کو پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا تھا اور انھیں کڑے سوالات کا سمانا کرنا پڑا تھا۔

پاناما کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جسٹس کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں نیب کے سربراہ کے بارے میں کہا تھا کہ وزیراعظم نواز شریف کے معاملے میں قمر زمان چوہدری کا کردار مشکوک ہے اس لیے وہ ان فریقین کے سلسلے میں ہونے والی کسی تفتیش میں کسی قسم کا اختیار استعمال نہیں کر سکتے۔

اسی بارے میں