کرّم ایجنسی: گودر میں مسافر بس کے قریب دھماکہ،13 افراد ہلاک

کرم ایجنسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کرم ایجنسی میں تشدد کے واقعات تسلسل سے پیش آ رہے ہیں

پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی میں سڑک کنارے نصب بارودی مواد کے دھماکے میں کم سے کم 13 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ دھماکہ منگل کو صبح سویرے وسطی کرم کے علاقے گودر میں ہوا ہے اور پولیٹکل انتظامیہ کے اہلکاروں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دھماکے کا نشانہ ایک مسافر گاڑی بنی ہے۔

* کرم ایجنسی میں کالعدم تنظیموں کا خوف

* دس سال میں کرم ایجنسی میں کیا بدلا؟

نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پولیٹیکل انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس دھماکے میں 13 افراد کی ہلاکت اور 10 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے جن میں ایک خاتون اور دو بچے بھی شامل ہیں۔

انتظامیہ کے مطابق مسافر گاڑی میں 23 افراد سوار تھے اور دھماکے میں مارے جانے والے تمام افراد عام شہری تھے۔

دھماکے کی نوعیت کے بارے میں متضاد اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ ریموٹ کنٹرول ڈیوائس سے کیا گیا ہے جبکہ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ دھماکہ گاڑی کے بارودی سرنگ سے ٹکرانے کے نتیجے میں ہوا۔

زخمیوں کو ایجنسی ہسپتال صدہ منتقل کیا گیا ہے جبکہ پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق زخمیوں کو سی ایم ایچ پشاور منتقل کرنے کے لیے ایم آئی 17 ہیلی کاپٹر پاڑہ چنار بھجوا دیا گیا ہے۔

گودر پاڑہ چنار سے تقریباً 70 کلومیٹر دور دشوار گزار علاقے میں واقع ہے۔

کرم ایجنسی سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی ساجد حسین طوری سے بی بی سی کو بتایا کہ یہ علاقہ انتہائی پسماندہ ہے اور یہاں زیادہ تر شیعہ آبادی رہتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ مسافر گاڑی کرم ایجنسی کے بڑے شہروں صدہ اور پاڑہ چنار کی جانب روانہ ہو رہی تھی کہ اچانک دھماکہ ہوا۔

اس دھماکے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم جماعت الاحرار کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ کرّم ایجنسی میں پرتشدد اور دہشت گردی کے واقعات تسلسل سے پیش آ رہے ہیں۔

پاڑہ چنار میں گذشتہ ماہ کی 30 تاریخ کو ایک بازار میں دھماکے سے 28 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ اس سے پہلے جنوری کے مہینے میں پاڑہ چنار کی ہی سبزی منڈی میں دھماکے میں 21 افراد مارے گئے تھے۔

ان دونوں دھماکوں کی ذمہ داری کالعدم شدت پسند تنظیم تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں