پاکستان نے انڈین جاسوس کلبھوشن یادو تک قونصلر رسائی کی انڈین درخواست ایک بار پھر مسترد کر دی

یادو تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں تعینات انڈین ہائی کمشنر گوتھم بمبانوالے نے بدھ کو سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ سے ملاقات میں انڈین جاسوس کلبھوشن یادو تک قونصلر رسائی کی ایک مرتبہ پھر درخواست کی ہے جسے حکام نے مسترد کر دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق سیکریٹری خارجہ نے انڈین ہائی کمشنر پر واضح کیا ہے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان قیدیوں کے بارے میں معلومات اور ان تک قونصلر رسائی کا معاہدہ موجود ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ کلبھوشن یادو پر پاکستان میں جاسوسی کے علاوہ شدت پسندی کے واقعات میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے اس لیے ایسے قیدی تک قونصلر رسائی نہیں دی جا سکتی ہے۔

'کلبھوشن پاکستان میں دہشت گردی کا مرتکب پایا گیا'

کلبھوشن یادو کی سزا پر انڈیا کا پاکستان سے احتجاج

'انڈین جاسوس' کلبھوشن یادو کو سزائے موت دینے کا فیصلہ

جب مناسب موقع ہوگا تو وزیراعظم کلبھوشن یادو کا نام ضرور لیں گے: سرتاج عزیز

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق انڈین ہائی کمشنر اس سے پہلے بھی کلبھوشن یادو تک قونصلر رسائی کے لیے پاکستانی حکام سے ملاقات کر چکے ہیں لیکن انھیں اس ضمن میں کامیابی نہیں ملی۔

انڈین جاسوس کو پاکستان کی فوجی عدالت کی جانب سے ملنے والی سزائے موت کے بعد پاکستان میں تعینات انڈین ہائی کمشنر نے عدالتی فیصلے کی مصدقہ کاپی دینے کا بھی مطالبہ کیا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستانی خفیہ اداروں نے مارچ سنہ 2016 میں انڈین خفیہ ایجنسی کے لیے مبینہ طور پر جاسوسی کرنے والے انڈین بحریہ کے افسر کلبھوشن یادو کو گرفتار کیا تھا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
’کلبھوشن یادو کے معاملے پر انڈیا نےعدم تعاون کا مظاہرہ کیا‘

انڈین جاسوس کی گرفتاری کے چند دن بعد ان کا ایک اعترافی ویڈیو بیان میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا جس میں کلبھوشن یہ کہتے دکھائی دیے کہ وہ انڈین بحریہ کے حاضر سروس افسر ہیں اور وہ انڈیا کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کر رہے تھے۔

اس وقت انڈیا کی وزراتِ خارجہ نے ایک بیان میں کلبھوشن یادو کے اعترافی بیان کی ویڈیو کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ بلوچستان میں گرفتار کیے گئے شخص کا انڈین حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ ویڈیو جھوٹ پر مبنی ہے۔

تاہم بعد میں انڈین حکومت کی جانب سے تسلیم کیا گیا تھا کہ کلبھوشن انڈین شہری ہیں اور انڈین وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ وہ ماضی میں انڈین بحریہ کے لیے کام کرتے رہے ہیں۔

قانونی ماہرین کے مطابق کلبھوشن یادو کے پاس فوجی عدالت سے ملنے والی سزائے موت کے خلاف ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں اپیل کرنے کا حق حاصل ہے۔

ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ سے کلبھوشن کی درخواستیں مسترد ہونے کی صورت میں ان کے پاس صدر مملکت سے رحم کی اپیل کرنے کا حق رہ جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں