’طالبان کو پاکستان میں تخریب کاری کے لیے اگر اسرائیل سے بھی مدد لینی پڑی تو لیں گے‘

لیاقت علی المعروف احسان اللہ احسان تصویر کے کاپی رائٹ facebook
Image caption احسان اللہ احسان اپنی اعترافی ویڈیو بہت مطمئن اور پرسکون نظر آیے

تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار کے منحرف ہونے والے ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان کے لیے افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس اور انڈین ایجنسی 'را' پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے اہداف مقرر کرتی تھیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے کی قیمت بھی ادا کی جاتی تھی۔

٭ترجمان تو ہمیشہ پکڑے جاتے ہیں!

٭جماعت الاحرار، لشکر جھنگوی العالمی کالعدم تنظیموں میں شامل

پاکستان میں دہشت گردی کے بدترین دور میں شدت پسند تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار میں مرکزی ترجمان کی حیثیت سے تقریباً دس سال سرگرم رہنے والے احسان اللہ احسان نے گذشتہ دنوں ان تنظیموں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اپنے آپ کو پاکستان فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اپنے اعترافی بیان میں جس کی ویڈیو پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی اس میں وہ بہت اطمینان سے اپنی پوری کہانی بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انھوں نے اپنا اصلی نام لیاقت علی بتایا اورکہا کہ ان کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔

احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ انھوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور وہ بعد میں تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے ترجمان بھی رہے۔

احسان اللہ احسان نے اپنے دس سال کے مشاہدات بیان کرتے ہوئے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان اسلام کے نام پر لوگوں کو اور خاص طور پر نوجوانوں کو گمراہ کر کے اپنے ساتھ شامل کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ طالبان رہنما خود اپنے نعروں اور دعوؤں پر پورا نہیں اترتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری بھی احسان اللہ احسان نے قبول کی تھی

انھوں نے کہا کہ ان تنظیموں میں ایک مخصوص ٹولا بے گناہ مسلمانوں سے بھتہ وصول کرتا ہے، ان کا قتل عام کرتا ہے، عوامی مقامات پر دھماکہ کرتا ہے، سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں پر حملہ کرتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اسلام تو ان سب چیزوں کا درس نہیں دیتا۔

قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ فوجی آپریشن شروع ہوتے ہی ان لوگوں میں قیادت کی رسہ کشی اور بھی تیز ہو گئی اور ہر کوئی چاہتا تھا کہ تنظیم کا لیڈر بنے۔

حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کے احوال بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نئے امیر کو نامزد کرنے کا مرحلہ آیا تو تنظیم میں انتخابی مہم کی طرز پر تگ و دو شروع ہو گئی۔ احسان اللہ احسان کے بقول اس دوڑ میں عمر خالد خراسانی، خان سیعد سجنا، مولوی فضل اللہ شامل تھے۔ اس موقع پر تنظیم کی شوریٰ نے فیصلہ کیا کہ قرعہ اندازی کے ذریعے تنظیم کا قائد نامزد کیا جائے۔

انھوں نے کہا کہ قرعہ مولوی فضل اللہ کے نام نکلا اور ایسی تنظیموں سے کیا توقع کی جا سکتی ہے جس میں قرعہ اندازی کے ذریعے اہم فیصلے کیے جاتے ہوں۔

انھوں نے کہا کہ ’امیر بھی ایک ایسے شخص کو بنایا گیا جس کا کردار ایسا تھا کہ اُس نے اپنے استاد کی بیٹی کے ساتھ زبردستی شادی کی۔‘

احسان اللہ احسان کے بقول ایسی شخصیات اور ایسے لوگ نہ اسلام کی خدمت کر سکتے ہیں اور نہ کر رہے ہیں۔

شمالی وزیرستان کے آپریشن کی وجہ سے تنظیم کے افغانستان منتقل ہونے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ افغانستان منتقل ہونے کے بعد تنظیم کے این ڈی ایس اور را کے ساتھ تعلقات بڑھے اور تنظیم کو افغانستان اور انڈیا کی طرف سے حمایت اور مالی معاونت ملنے لگی۔

تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان نے مزید بتایا کہ را اور افغانستان کی خفیہ ایجنسی طالبان کے لیے پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے اہداف مقرر کرتی تھیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے میں قیمت بھی ادا کی جاتی تھی۔

انھوں نے کہا کہ تنظیم کے جنگجوؤں کو پاکستان کی فوج سے لڑنے کے لیے چھوڑ دیا اور خود پوری قیادت محفوظ ٹھکانوں میں چھپ گئی۔

عمر خالد خراسانی سے این ڈی ایس اور را سے مدد لینے کے معاملے پر اپنے ایک مکالمے کو یاد کرتے ہوئے انھوں نے دعویٰ کیا کہ جب اس بارے میں انھوں نے اعتراض کیا تو اور کہا کہ اس طرح تو وہ اپنے ملک میں کارروائیاں کر کے کفار کی مدد کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اس اعتراض پر عمر خالد خراسانی کا جواب تھا کہ ’پاکستان میں تخریب کاری کرنے کے لیے اگر انھیں اسرائیل سے بھی مدد لینی پڑی تو وہ لیں گے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ’پاکستان کی فوج کی افغانستان کے پرچہ اور لال پورہ علاقے میں کارروائی سے اُن کے کیمپس تباہ ہوئے‘

این ڈی ایس اور را سے مدد لینے کے طریقہ کار کے بارے میں بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ان لوگوں نے اس سلسلے میں خصوصی کمیٹیاں تشکیل دی ہوئی ہیں۔ این ڈی ایس سے ملنے والی معاونت کے بارے میں مزید تفصیل بتاتے ہوئے انھوں نے کہا کہ افغان حکومت نے انھیں 'تذکرے' یا شناختی کارڈ جاری کیے ہوئے ہیں تاکہ انھیں افغانستان کے اندر نقل و حرکت میں دشواری پیش نہ آئے۔

انھوں نے مزید کہا کہ افغانستان کے اندر نقل و حرکت سے قبل باقاعدہ این ڈی ایس اور افغان سکیورٹی فورسز سے رابط کیا جاتا تھا اور وہ (افغان سکیورٹی فورسز) ان کو راستہ فراہم کرتے تھے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان کی فوج کی افغانستان کے پرچہ اور لال پورہ علاقے میں کارروائی سے اُن کے کیمپس تباہ ہوئے اور کئی کمانڈر بھی ہلاک ہوئے۔ ان کارروائیوں کی وجہ سے جماعت الحرار کو یہ علاقہ جو ان کا گڑھ تھا وہ چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد جماعت کے اندر کمانڈروں اور نچلے درجے کے جنگجوؤں میں مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔

اپنے سابق ساتھیوں کو ایک پیغام دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ جو لوگ وہاں پھنسے ہوئے ہیں اور نکلنا چاہتے ہیں انھیں ان کو وہ یہی کہیں گے کہ 'اب بس کریں اور امن کا راستہ اختیار کریں۔'

انھوں نے کہا کہ یہ عناصر ذاتی مفادات کی وجہ سے غیروں کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں اور ان ہی وجوہات کی بنا پر انھوں نے تنظیم چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں