’پشاور میں پولیو کے قطرے پلانے سے انکار میں ڈاکٹرز بھی شامل ‘

پولیو تصویر کے کاپی رائٹ EPA

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ پولیو ویکسین سے انکار کرنے والے والدین میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ اب چند سرکاری اہلکار اور طب کے شعبے سے وابستہ ڈاکٹرز بھی شامل ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یہ ڈاکٹرز مسلسل اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کررہے ہیں۔

پولیو قطرے پلانے سے انکاری والدین کو منانے کی کوشش

پشاور میں انسداد پولیو کے لیے قائم ضلعی مرکز کے ایک اعلیٰ اہلکار ڈاکٹر شعیب نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ ہفتے ختم ہونے والی انسداد پولیو مہم کے دوران ضلع بھر سے دو ہزار سے زیادہ والدین نے بچوں کو پولیو قطرے پلانے سے انکار کیا۔

نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی نے بتایا کہ ڈاکٹر شعیب نے کہا کہ انکار کرنے والوں میں عام لوگوں کے ساتھ ساتھ 50 کے قریب سرکاری ملازمین اور ڈاکٹرز بھی شامل ہیں جو صوبے کے مختلف محکموں میں کام کرتے ہیں۔

ان کے مطابق انکار کرنے والوں میں 11 ڈاکٹروں کے علاوہ درجن بھر واپڈا کے اہلکار، ایئرفورس کے اہلکار اور دیگر محکموں کے سرکاری ملازمین شامل ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر شعیب کا کہنا تھا کہ انکار کرنے والے بیشتر ڈاکٹرز کلینکل سائیڈ پر تو کام کرتے ہیں لیکن انھیں پبلک ہیلتھ کے بارے میں کچھ معلوم نہیں لہٰذا وہ اس ضمن میں غلط فہمی کا شکار ہیں۔

انھوں نے کہا کہ زیادہ تر انکار کرنے والے ڈاکٹرز یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچوں کو معمول کی ویکسنیشن ہو چکی ہے اس لیے ان کے بچوں کو مزید ضرورت نہیں رہی حالانکہ انسداد پولیو کے ہر مہم میں تمام بچوں کو پولیو کے قطرے پلانا لازمی ہے۔

ڈاکٹر شعیب نے مزید بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے انکار کرنے والے اہلکاروں سے بات چیت کا سلسلہ جاری ہے تاہم اگر وہ پھر بھی انکار کرتے رہے تو ایسی صورت میں ان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ہوسکتی ہے۔

ادھر پولیو قطروں سے انکار کرنے والے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے سے وابستہ ایک والد نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ بچوں کو پولیو کے قطرے دینے کے ضمن میں جو طریقہ کار رائج ہے ان سے وہ مطمئین نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق پولیو کے قطرے انتہائی سرد درجہ حرارت میں رکھنا ضروری ہوتا ہے لیکن گلیوں میں قطرے دینے والے پولیو کارکن اس کا کوئی خاص خیال نہیں رکھتے جس سے فائدے کی بجائے الٹا نقصان کا خدشہ ہوتا ہے۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ پولیو قطروں میں استعمال ہونے والے اجزا کے منفی اثرات بھی ہوتے ہیں اسی وجہ سے وہ بچوں کو دینے سے انکار کررہے ہیں۔ تاہم انھوں نے اس بات کو سختی سے مسترد کیا کہ وہ مذہبی بنیادوں پر بچوں کو قطرے دینے سے انکار کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ گذشتہ دو سالوں سے ملک بھر بالخصوص فاٹا اور خیبر پختونخوا میں پولیو کے کیسسز میں کافی حد تک کمی آئی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں