اسلام آباد میں کینیڈین سینیٹر سے راہزنی کی واردات،تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم

سلمی عطا اللہ جان تصویر کے کاپی رائٹ SENATE OF CANADA
Image caption سلمی عطا اللہ جان منگل کی رات اپنے رشتہ داروں کے ہمراں ایف سکس کی سپر مارکیٹ میں کھانا کھانے گئی تھیں

پاکستان میں وزارتِ داخلہ کے حکام نے منگل کی شب اسلام آباد میں پاکستانی نژاد کینیڈین سینیٹر سے راہزنی کے واقعے کے تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

یہ واقعہ دارالحکومت کے متمول علاقے ایف سکس میں پیش آیا تھا جب موٹرسائیکل پر سوار مسلح افراد سلمیٰ عطا اللہ جان کا پرس چھین کر فرار ہو گئے تھے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کینیڈین رکنِ پارلیمان سے لاکھوں روپے چھین کر فرار ہونے والے ملزمان کا سراغ تین روز میں لگانے کا ٹاسک دیا ہے۔

اس واقعے کی تحقیقات کے لیے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی گئی ہے اور پولیس حکام کینیڈین سینیٹر کی مدد سے ملزمان کا تصویری خاکہ بھی تیار کروا رہے ہیں۔

علاقے کے سب ڈویژنل پولیس افسر اشرف شاہ نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ سلمی عطا اللہ جان منگل کی رات اپنے رشتہ داروں کے ہمراں ایف سکس کی سپر مارکیٹ میں کھانا کھانے گئی تھیں۔

چیک پوسٹ پر مسافر لٹ گئے،پولیس اہلکار مفرور

پولیس افسر کے مطابق وہ کھانے کے بعد پیدل اپنی گاڑی کی جانب جا رہی تھیں کہ اسی دوران دو نامعلوم مسلح افراد موٹرسائیکل پر سوار وہاں آئے اور زبردستی ان کا ہینڈ بیگ چھین کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

ڈی ایس پی اشرف شاہ کے مطابق مذکورہ خاتون کے ہینڈ بیگ میں چار ہزار کینڈین ڈالر کے علاوہ 16 ہزار پاکستانی روپے بھی تھے۔

پولیس کو کینیڈین سینیٹر کا خالی بیگ ایف سکس کے گرین ایریا سے ملا ہے اور پولیس کے مطابق ملزمان نے اس میں سے صرف رقم نکالی ہے جبکہ دیگر دستاویزات برآمد ہونے والے بیگ میں ہی موجود تھیں۔

مقامی پولیس کے مطابق متاثرہ خاتون مردان کی رہائشی ہیں اور وہ اسلام آباد میں اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے آئی تھیں۔

پولیس نے سرقہ بالجبر کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے اور تفتیش جاری ہے۔۔

متعلقہ عنوانات