مشال خان قتل: مرکزی ملزم گرفتار، تحقیقاتی ٹیم کی ازسر نو تشکیل

مشال خان تصویر کے کاپی رائٹ FACEBOOK
Image caption مشال خان قتل کیس میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد اب 41 ہو گئی ہے

خیبر پختونخوا میں پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طالب علم مشال خان کی توہینِ مذہب کے الزام میں ہلاکت کے واقعے کے مرکزی ملزم کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

یہ بات ڈی آئی جی مردان عالم خان شنواری نے جمعرات کی شام ایک پریس کانفرنس میں بتائی۔

مشال خان قتل: ’ویڈیو کی مدد سے دو اہم ملزمان گرفتار‘

’مشال خان کے قتل کا مقدمہ فوجی عدالت میں منتقل کیا جائے‘

ان کا کہنا تھا کہ عمران نامی ملزم یونیورسٹی کا ہی طالبعلم ہے اور اس نے پستول سے مشال کو دو گولیاں ماریں۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ عمران کو مردان سے گرفتار کیا گیا ہے اور ان سے پستول بھی برآمد کر لیا گیا ہے۔

عالم خان شنواری کے مطابق مرکزی ملزم نے مجسٹریٹ کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف بھی کر لیا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مشال خان قتل کیس میں گرفتار ہونے والے ملزمان کی تعداد اب 41 ہو گئی ہے اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اس معاملے کی ہر زاویے سے تفتیش کر رہی ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کو ہی صوبہ خیبر پختونخوا کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے سپریم کورٹ کو بتایا تھا کہ مشال خان قتل کے مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم کی ازسرنو تشکیل کر دی گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ DPO MARDAN
Image caption ملزم عامر کو ویڈیو میں مشال خان کی لاش کی بے حرمتی کرتے اور شدید ضربیں لگاتے دیکھا جا سکتا ہے

یہ بات سپریم کورٹ میں اس معاملے پر چیف جسٹس کے ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران بتائی گئی۔

یاد رہے کہ مشال خان کو 13 اپریل کو مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلبا اور دیگر افراد پر مشتمل ہجوم نے توہین مذہب کا الزام لگانے کے بعد شدید تشدد کا نشانہ بنا کر قتل کر دیا تھا۔

اس واقعے پر ملک بھر میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے اس معاملے کا ازخود نوٹس لیا تھا۔

جمعرات کو از خود نوٹس کی سماعت کے دوران اس مقدمے کی تحقیقات میں پیش رفت کے بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کروائی گئی۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ اس معاملے کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی از سر نو تشکیل کی گئی ہے اور اب اس میں فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ایم آئی کے علاوہ ایف آئی اے اور سپیشل برانچ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

تین رکنی بینچ نے شواہد لاہور میں فارنزک لیب بجھوانے کا حکم دیتے ہوئے اس معاملے کی سماعت 15 روز کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں