پیمرا نے سابق طالبان ترجمان احسان اللہ احسان کے انٹرویو پر پابندی لگا دی

احسان اللہ احسان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احسان اللہ احسان نے گذشتہ دنوں اپنے آپ کو پاکستان فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے پیمرا نے کالعدم شدت پسند تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے انٹرویو نشر کرنے پر پابندی لگا دی ہے۔

پاکستانی فوج کے ترجمان نے 17 اپریل کو ایک پریس کانفرنس میں احسان اللہ احسان کے فوج کی تحویل میں ہونے کا انکشاف کیا تھا جس کے بعد 26 اپریل کو ان کا اعترافی بیان بھی جاری کیا گیا۔

’طالبان تخریب کاری کے لیے اسرائیل کی مدد بھی لے سکتے ہیں‘

ترجمان تو ہمیشہ پکڑے جاتے ہیں!

اس اعترافی بیان کے بعد پاکستان کے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز نے جمعرات کی شام ان کا انٹرویو نشر کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی تشہیر ٹی وی کے علاوہ اخبارات میں بھی کی گئی تھی۔

اس سلسلے میں سوشل میڈیا پر شدید ردعمل سامنے آیا تھا جس کے بعد جمعرات کی صبح پیمرا کی جانب سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پیمرا آرڈیننس کے سیکشن 27 کے تحت احسان اللہ احسان کے اس انٹرویو یا اس کے تشہیری پرومو کی نشریات پر فوری پابندی لگا دی گئی ہے۔

پیمرا کا یہ بھی کہنا ہے کہ طالبان کے سابق ترجمان کو کسی بھی ٹی وی پروگرام میں بطور مہمان مدعو نہیں کیا جا سکتا۔

الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بنائے گئے نیشنل ایکشن پلان اور سپریم کورٹ کے منظور کردہ ضابطۂ اخلاق میں بھی واضح طور پر کہا گیا ہے کہ میڈیا پر کالعدم تنظیموں کے ارکان یا نمائندوں کے بیانات نشر نہیں کیے جا سکتے۔

پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے چونکہ احسان اللہ احسان نے تحریک طالبان پاکستان کے رکن ہونے کی حیثیت سے ’ہزاروں پاکستانیوں کو شہید کرنے کا اعتراف‘ کیا ہے اس لیے کسی بھی پلیٹ فارم پر اس کا انٹرویو دکھانا ان پاکستانیوں کے لواحقین کے لیے ’انتہائی تکلیف دہ عمل ہے۔‘

تاہم پیمرا کا کہنا ہے کہ کسی بھی پروگرام میں احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان کا وہ حصہ نشر کیا جا سکتا ہے جس میں ’مذہب کے غلط استعمال‘ اور ’غیر ملکی ایجنسیوں کے ساتھ تعلقات‘ کا اعتراف ہو۔

پاکستان میں دہشت گردی کے بدترین دور میں شدت پسند تنظیموں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار میں مرکزی ترجمان کی حیثیت سے تقریباً دس سال سرگرم رہنے والے احسان اللہ احسان نے گذشتہ دنوں ان تنظیموں سے علیحدگی اختیار کرنے کے بعد اپنے آپ کو پاکستان فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اپنے اعترافی بیان میں جس کی ویڈیو پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کی گئی اس میں وہ بہت اطمینان سے اپنی پوری کہانی بیان کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

انھوں نے اپنا اصلی نام لیاقت علی بتایا اورکہا کہ ان کا تعلق مہمند ایجنسی سے ہے۔

احسان اللہ احسان کا کہنا ہے کہ انھوں نے زمانہ طالب علمی ہی میں تحریک طالبان پاکستان میں شمولیت اختیار کر لی تھی اور وہ بعد میں تحریک طالبان پاکستان مہمند ایجنسی کے ترجمان بھی رہے۔

اسی بارے میں