’مشال خان قتل اور احسان اللہ احسان سلیبرٹی‘

احسان تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار کے منحرف ہونے والے ترجمان احسان اللہ احسان کی طرف سے اپنے اعترافی بیان میں کئی قسم کے انکشافات کے بعد گذشتہ روز سے ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی ویب سائٹوں پر ان کا انٹرویو چھایا ہوا ہے۔

سکیورٹی فورسز کی تحویل میں دیے جانے والے اس انٹرویو کو سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں پر بڑے پیمانے پر شیئر کیا جا رہا ہے اور اس پر لوگوں کی طرف سے مختلف قسم کے تبصرے اور دلچسپ آرا کا اظہار کیا جارہا ہے۔

٭پیمرا نے احسان اللہ احسان کے انٹرویو پر پابندی لگا دی

٭’طالبان تخریب کاری کے لیے اسرائیل کی مدد بھی لے سکتے ہیں‘

٭ترجمان تو ہمیشہ پکڑے جاتے ہیں!

ٹویٹر پر کل شام سے احسان اللہ احسان کے نام سے ایک سرفہرست ٹرینڈ چل رہا ہے جس میں اکثریتی صارفین کی جانب سے ان کے اعترافی بیان کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

بیشتر تبصروں میں لوگوں کی جانب سے احسان اللہ احسان کے ان بیانات اور ٹویٹس کو بھی شائع کیا جا رہا ہے جس میں ان کی جانب سے مختلف اوقات میں بڑے بڑے حملوں اور دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی۔

بعض افراد نے احسان اللہ احسان کی طرف سے ان کو براہ راست طور پر دی جانے والے دھمکی آمیز بیانات کو بھی ٹویٹر کا زینت بنایا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سینیئر صحافی اویس توحید نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ احسان اللہ احسان اب ٹی ٹی پی کے مخالف ہوگئے ہیں، مگر انھوں نے ہی مجھے اس وقت گولی مارنے کی دھمکی دی تھی جب ان کے چینل نے حکیم اللہ محسود کو شہید قرار دینے سے انکار کردیا تھا۔

نائلہ عنایت نے سوال کیا ہے کہ ’یہ وہی احسان اللہ احسان ہیں جس نے پاکستان کے وزیر داخلہ کو کھلے عام چیلنج کیا تھا اور اب وہ کیسے مقدس گائے بن گئے؟‘

دفاعی امور کے ماہر اور سابق بریگیڈیر اسد منیر کی طرف سے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے تصویر پر مبنی ایک ٹویٹ شائع کی گئی ہے جس میں ماضی میں احسان اللہ احسان کی طرف سے ان کو اور ایک اور صحافی رضا رومی کو قتل کی دھمکیاں دی گئی تھیں۔

محمد عمران نے لکھا ہے کہ ’نیشنل ایکشن پلان کے تحت کسی دہشت گرد کو ہیرو بنا کر پیش کرنے پر پابندی ہے لیکن پھر بھی کچھ لوگ احسان اللہ احسان کو ایسا دکھا رہے ہیں کہ جیسے اس نے جرم کے بعد معافی مانگ لی ہے۔‘

ایک اور صارف انمز نے کہا ہے کہ ’ہم ایک ایسی قوم ہے جس نے مشال خان جیسے طالبعلم جو علم اور مکالمے پر یقین رکھنے والا تھے ان کو قتل کر دیا اور جو کئی لوگوں کا قاتل ہے ان کو سلیبرٹی بنادیا گیا۔‘

بعض صارفین نے نجی ٹی وی چینلز کی طرف سے احسان اللہ احسان کا انٹرویو نشر کر کے ان کو ہیرو ثابت کرنے کی کوششوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک صارف صدف اعوان نے لکھا ہے کہ ’جیو ٹی وی کیوں احسان اللہ احسان کو ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں، وہ آرمی پبلک سکول کے بچوں کا سفاک قاتل ہیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

نبیل فرید نے اپنے ٹویٹ میں کہا ہے کہ احسان اللہ احسان جیسے شخص کے لیے عام معافی مانگنا بھی ان کا ساتھ دینے کے مترادف ہے کیونکہ لوگ اے پی ایس اور باقی سب کچھ بھول گئے۔

سینیئر صحافی مطیع اللہ جان نے احسان اللہ احسان کے اعترافی بیان پر مذاق پر مبنی تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے ’ہمارے ساتھ موجود ہیں پاک افغان امور کے ماہر اور سینیئر دفاعی تجزیہ کار احسان اللہ احسان، جی تو آپ ڈان لیکس رپورٹ کو کیسے دیکھتے ہیں۔‘

خیال رہے کہ تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الحرار کے منحرف ہونے والے ترجمان احسان اللہ احسان نے انکشاف کیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کے لیے افغان خفیہ ادارے این ڈی ایس اور انڈین ایجنسی 'را' پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے اہداف مقرر کرتی تھیں اور ان اہداف کو حاصل کرنے کی قیمت بھی ادا کی جاتی تھی۔

اسی بارے میں