مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

مظاہرہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دنیا کے 26 فیصد ممالک میں توہین مذہب کے حوالے سے سزاؤں کے قوانین موجود ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد مسلم اکثریتی ممالک ہیں

مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں پڑھنے والے طالبعلم مشال خان پر توہین مذہب کا الزام لگائے جانے کے بعد ان کے ساتھی طالبعلموں کے ہاتھوں ان کی ہلاکت کے بعد پاکستان میں ایک بار پھر توہین مذہب کے قوانین کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے۔

مقامی پولیس مشال کے قتل کی تحقیقات کر رہی ہے اور ابتدائی تفتیش کے بعد پولیس کی جانب سے کہا گیا کہ مشال پر لگائے گئے الزامات میں کوئی صداقت نہیں ہے۔

توہین مذہب قانون کا پاکستان میں ارتقاء

اس اندوہناک واقعے کے بعد ملک بھر میں ایک بار پھر توہین مذہب کے قوانین کے بارے میں بحث چھڑ گئی ہے۔

سنہ 1990 سے لے کر آج تک پاکستان میں مشتعل افراد یا ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں 69 افراد کو قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے قتل کیا ہے۔

مختلف اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں اس وقت 40 افراد توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت کا انتظار کر رہے ہیں یا عمر قید بسر کر رہے ہیں تاہم پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک نہیں جہاں توہین مذہب کے حوالے سے قوانین رائج ہیں۔

تحقیقاتی ادارے پیئو ریسرچ سینٹر کی جانب سے 2015 میں جاری کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق دنیا کے 26 فیصد ممالک میں توہین مذہب کے حوالے سے سزاؤں کے قوانین موجود ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد مسلم اکثریتی ممالک ہیں۔

ان ملکوں میں توہین مذہب کے قوانین کے تحت ملنے والی سزائیں جرمانوں یا مختلف دورانیہ کے لیے قید کی شکل میں ہیں لیکن پاکستان، ایران اور سعودی عرب میں توہین مذہب کا ارتکاب کرنے پر جرمانوں اور قید کے علاوہ موت کی سزا بھی متعین ہے۔

یہاں پر بی بی سی نے چند چیدہ چیدہ مسلم ممالک میں رائج توہین مذہب کے قوانین کا جائزہ لیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سنہ 1990 سے لے کر آج تک پاکستان میں مشتعل افراد یا ہجوم نے توہین مذہب کے الزام میں 69 افراد کو قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے قتل کیا ہے

پاکستان

پاکستان میں توہین مذہب کے قوانین 19ویں صدی میں برصغیر میں انگریزوں کے رائج قوانین کے مرہون منت ہیں۔ تقسیم ہند سے تقریباً ایک صدی قبل 1860 میں انگریزوں نے مذہبی نوعیت کے بڑھتے ہوئے مذہبی جرائم کے سبب دفعہ 295، 296 اور 298 کے نام سے تین نئے قوانین انڈین ضابطہ تعزیرات میں شامل کیے تھے۔

ان کے تحت کسی عبادت گاہ کی بے حرمتی کرنا، مذہبی تقریب میں خلل ڈالنا اور مذہبی جذبات کو دانستہ طور پر مجروح کرنا جرم قرار دیا گیا تھا۔

انگریزوں کے بنائے گئے یہ قوانین کسی مخصوص مذہب کے لیے مختص نہیں تھے اور نہ ہی ان میں سے کسی قانون میں موت کی سزا متعین کی گئی تھی۔

ان قوانین کے لاگو ہونے کے بعد 1860 سے لے کر 1947 تک بر صغیر میں توہین مذہب کے پانچ مقدمے درج ہوئے تھے جب کہ پاکستان بننے کے بعد سے لے کر 1980 تک ملک بھر میں توہین مذہب کے آٹھ مقدماعت درج ہوئے جن میں سے کوئی بھی مقدمہ گستاخی رسول یا قرآن کی بے حرمتی کا نہیں تھا۔

پاکستان بننے کے 30 سال بعد 1977 میں حکومت کا تختہ الٹنے والے آمر جنرل ضیا الحق نے اپنے 11 سال کے دورِ حکومت میں ملک کے آئین میں مزید تبدیلیاں کیں جن میں سے پانچ شقیں توہین مذہب کے قانون میں شامل کی گئیں۔

ان ترامیم میں شامل 295-B کے تحت قرآن کی بےحرمتی کرنے پر عمر قید کی سزا مقرر کر گئی جبکہ سب سے اہم ترمیم، 295-سی کے تحت پیغمبرِ اسلام کی شان میں کسی بھی قسم کی گستاخی کرنے کی سزا موت یا عمر قید بشمول جرمانہ مقرر کی گئی۔

1990 میں ضیا الحق کی ہی قائم شدہ وفاقی شرعی عدالت نے حکم سنایا کہ دفعہ 295-C کے تحت توہین رسالت کی سزا صرف موت ہوگی۔

انگریزوں کے نافذ کردہ قوانین کے برعکس ضیا الحق کے دور میں شامل توہین مذہب کی ترامیم میں توجہ صرف دینِ اسلام سے متعلق بےحرمتی اور گستاخیوں پر تھی۔دوسری اہم تبدیلی اس حوالے سے تھی کہ نئے قوانین کے تحت غیر دانستہ طور پر توہین مذہب کرنا بھی اب جرم قرار پایا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ CHIP SOMODEVILLA
Image caption سعودی عرب میں اسلام کے شرعی قوانین رائج ہیں

سعودی عرب

سعودی عرب میں ملک کے قوانین شرعی نظام کے تحت لاگو ہوتے ہیں۔

سعودی عرب میں نافذ شرعی قوانین کے تحت توہین مذہب کا ارتکاب کرنے والا فرد مرتد قرار دیا جاتا ہے جس کی سزا موت مقرر ہے۔

2014 میں حکومت نے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نیا قانون جاری کیا جس میں لادینیت کو بھی دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔

اس قانون کی دفعہ ایک میں دہشت گردی کی تشریح کرتے ہوئے واضح طور کر کہا گیا ہے ’لادینیت کا کسی بھی شکل میں پرچار کرنا اور اسلام کے بنیادی ارکان جن پر یہ ریاست قائم ہے، ان کے بارے میں سوالات اٹھانا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ایران

ایران کا ضابطۂ تعزیرات 2012 میں نئے سرے سے تشکیل دیا گیا تھا جس میں توہین مذہب کے لیے ایک نیا باب بنایا گیا ہے۔ اس نئے باب میں مرتد اور توہین مذہب کرنے والے شخص دونوں کی سزا موت مقرر کی گئی ہے۔

نئے ضابطے کی شق 260 میں قانون کے تحت کوئی بھی شخص اگر رسولِ خدا یا کسی اور پیغمبر کی گستاخی کا مرتکب ہو اسے ’سب النبی! تصور کیا جائے گا اور اس کی سزا موت ہوگی۔

اسی شق کے مطابق شیعہ فرقے کے 12 اماموں اور پیغمرِ اسلام کی بیٹی کی شان میں توہین کرنے کی بھی سزا موت ہے۔

اس نئے ضابطے میں ایک تبدیلی یہ کی گئی ہے کہ اس میں سے جملہ ’اسلام کی مقدس اقدار کی توہین‘ کو حذف کر دیا گیا ہے البتہ پرانے ضابطۂ تعزیرات کی شق 513 کو ابھی بھی قانونی حیثیت حاصل ہے جس میں یہ جملہ بدستور شامل ہے۔ ان دونوں قوانین میں توہین مذہب کی سزا موت ہے۔

ان دو مخصوص قوانین کے علاوہ ایرانی آئین میں توہین مذہب کا جرم صرف ’سب النبی‘ ہی نہیں بلکہ فساد فی الارض کے بھی زمرے میں آتا ہے لیکن اس کے تحت کوئی مخصوص سزا متعین نہیں ہے۔ البتہ جرم کرنے والے کو سزائے موت اور جیل قید دونوں ہو سکتی ہے۔

مصر

مصر کے آئین میں عرب سپرنگ کے بعد 2014 میں ترامیم کی گئیں جن کے بعد اسلام کو ملک کے مرکزی مذہب کا درجہ دیا گیا جبکہ صرف دیگر الہامی مذاہب کو جائز تصور کیا گیا۔

مصر کی تعزیرات کے مطابق آئین کے قانون 98-f کے تحت توہین مذہب پر مکمل پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی کرنے والے کو کم از کم چھ ماہ اور زیادہ سے زیادہ پانچ سال قید کی سزا ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption انڈونیشیا میں توہین مذہب کے قانون کے مطابق کسی شخص پر مقدمہ درج کرنے سے پہلے تنبیہ کرنا ضروری ہے

انڈونیشیا

دنیا کے سب سے بڑی مسلم آبادی والے ملک انڈونیشیا کی ریاست کے سرکاری نظریے کے مطابق صرف 'ایک خدا پر یقین' کیا جا سکتا ہے۔

1965 میں سابق صدر سوئیکارنو نے میں ملک کے آئین میں توہین مذہب کے قانون 156-A کے مسودے پر دستخط کیا تھا لیکن اس کا اطلاق 1969 میں صدر سوہارتو کے دور میں ہوا۔

اس قانون کے مطابق ملک کے سرکاری مذاہب، اسلام، عیسایئیت، ہندومت، بدھ مت اور کنفیوشنزم سے انحراف کرنا، یا ان مذاہب کی شان میں گستاخی کرنا، دونوں توہین مذہب کے زمرے میں آتا ہے جس کے زیادہ سے زیادہ سزا پانچ سال قید ہے۔

توہین مذہب کے قانون کے مطابق کسی شخص پر مقدمہ درج کرنے سے پہلے تنبیہ کرنا ضروری ہے لیکن اگر وہ شخص دوبارہ اس جرم کا ارتکاب کرے تو اس پر مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

ملک میں قانونی طور پر آزادی رائے کی اجازت ہے لیکن مذاہب پر تنقید کی سختی سے ممانعت ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ لادینیت اور اس کے پرچار پر بھی مکمل پابندی ہے۔

صدر سوہارتو کا 32 سالہ اقتدار 1998 میں ختم ہوا جس کے بعد ملک میں توہین مذہب کے قانون کے تحت مقدمات کی تعداد میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے اعداد و شمار کے مطابق 2005 سے 2016 کے اختتام تک 106 افراد پر توہین مذہب کا الزام ثابت ہو چکا ہے۔

2010 میں ملک کے قوانین کے لیے کیے جانے والے عدالتی جائزے کے مطابق توہین مذہب کے قوانین میں 12 اضافی ترامیم کی تجویز دی گئی تھیں جن کو 2011 میں مذہب کے بل میں شامل کر لیا گیا ہے لیکن ابھی تک وہ قانون کا حصہ نہیں بنی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ملائیشیائی قانون کے تحت شق 295, 298 اور 298-A توہین مذہب کے جرائم کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں

ملائیشیا

ملایئشیا کا ضابطہ تعزیرات پاکستان کے طرز پر انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون کی شکل میں ہے اور دونوں ممالک میں توہین مذہب کے لیے بنائے گئے قوانین بہت حد تک ملتے جلتے ہیں۔

ملائیشیائی قانون کے تحت شق 295, 298 اور 298-A توہین مذہب کے جرائم کے خلاف استعمال ہو سکتی ہیں جن کے مطابق بالترتیب کسی بھی مذہب کی عبادت گاہ کی بےحرمتی کرنا، دانستہ طور پر کسی بھی شخص کے مذہبی جذبات کو مجروح کرنا اور مذہب کی بنیاد پر کسی کے درمیان پھوٹ پڑوانا یا اشتعال دلانا جرم قرار پائے گا جس کے تحت زیادہ سے زیادہ تین سال قید اور جرمانے کی سزا ملے گی۔

اس کے علاوہ ملائیشیا کی ایک عدالت کے فیصلے کے بعد ملک میں غیر مسلم افراد پر ان کی مذہبی کتب میں لفظ 'اللہ' استعمال کرنے کی ممانعت ہے۔

اس کے علاوہ ستمبر 2015 میں بھی ایک وفاقی عدالت کے حکم کے تحت کوئی بھی مسلمان اگر ایسی کتب شائع کرتے ہوئے پکڑا گیا جس میں مذہبی قوانین کے خلاف مواد ہو، تو اس پر فرد جرم عائد کی جا سکتی ہے۔

اسی بارے میں