’میسج بینظیر انکم سپورٹ سے تو نہیں آیا؟‘

عمران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے قومی سیاست اور عوام میں ایک بار پھر تہلکہ اس وقت مچا دیا جب گذشتہ دنوں ایک اجلاس میں خطاب کرتے انھوں نے دعویٰ کیا کہ ان کو 'چپ رہنے کے لیے 10 ارب روپے' کی پیشکش کی گئی تھی۔

انھوں نے ایک اجلاس میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز پر الزام لگایا کہ حکمراں جماعت نے پاناما کیس کے حوالے سے چپ سادھنے کے لیے 10 ارب روپے کی پیشکش کی۔

٭’عمران خان کی ویڈیو اور اظہارِ یکجہتی ‘

٭پھٹیچر، ریلو کٹّے اور عمران خان

اس الزام کے بعد وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے تو پوری پریس کانفرنس کر ڈالی۔

دیگر سیاسی جماعتوں نے تو اپنے اپنے بیان دیے جیسے عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی خان نے میڈیا سے بات کر تے ہوئے کہا کہ 'عران خان صاحب سے پوچھیں کہ یہ الف والے ہیں یا عین والے ہیں'۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک بیان میں کہا کہ عمران خان کی جانب سے یہ بہت سنگین الزام لگایا گیا ہے اور ان کو اس شخص کا نام منظر عام پر لانا چاہیے جس نے ان کو یہ پیشکش کی ہے۔

سیاسی جماعتوں کا واویلا تو ایک طرف لیکن سوشل میڈیا پر اس الزام پر کافی چرچا ہوا اور IwasOffered10BillionFor # کا ہیش ٹیگ پاکستان میں پہلے 10 ٹرینڈز میں آیا۔

نعمان ڈار نامی ایک صارف نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’خان صاحب کو 10 ارب کا میسج کہیں بینظیر انکم سپورٹ والوں کی طرف سے تو نہیں آیا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سماجی کمنٹیٹر اور کالم نگار ندیم فاروق پراچہ نے ٹرینڈ IwasOffered10BillionFor پر ٹویٹ میں لکھا ’دس ارب روپے ملیں گے۔ پانچ ارب عید مبارک کے نوٹوں کی شکل میں اور باقی روپے مونوپلی کی رقم کی شکل میں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک اور صارف نعمان یوسف نے حکمراں جماعت پر طنز کرتے ہوئے لکھا ہے ’بریانی پر مان جانے والے سپورٹرز کے لیے یہ یقین کرنا مشکل ہے کہ کوئی بندہ دس ارب کی بڑی پیشکش بھی ٹھکرا سکتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

صحافی غریدہ فاروقی کے ٹویٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے ٹویٹ کیا کہ ’عمران خان کو ضرور وضاحت کرنی ہو گی کیونکہ یہ الزام نہایت سنگین ہے اور جس رقم کا ذکر ہے وہ بہت بڑی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

ایک اور صارف ٹویٹ میں لکھتے ہیں کہ عمران خان نے پیشکش کے حوالے سے مبہم بیان دیا ہے۔

لیکن ایک اور صارف جن کا ٹوئٹر ہینڈل ’لائف از رِگڈ‘ ہے کا کہنا ہے ’اگر نواز شریف گاڈ فادر ہیں بقول جسٹس کھوسہ کے تو وہ عمران خان کو وہ پیشکش کرتے جو وہ ٹھکرا نہ سکتے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں