تحریکِ طالبان پاکستان کا میڈیا سینٹر کیسا تھا؟

احسان تصویر کے کاپی رائٹ AFP

کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے جس میڈیا سینٹر کی سربراہی احسان اللہ احسان کرتے تھے وہ تمام جدید سہولیات سے آراستہ تھا، یہیں پاکستان کی ٹی وی چینلز کو مانیٹر اور مخصوص پروگرامز کو ریکارڈ کیا جاتا تھا۔

کراچی کے صحافی فیض اللہ خان نے افغان صوبے ننگرہار کے علاقے لال پورہ میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے اس میڈیا سیل میں چار روز گزارے جہاں ان کی احسان اللہ احسان سے طویل نشستیں ہوئیں۔

مان میرا احسان

’مشال خان قتل اور احسان اللہ احسان سلیبرٹی‘

’طالبان تخریب کاری کے لیے اسرائیل کی مدد بھی لے سکتے ہیں‘

فیض اللہ خان اپنی کتاب ’ڈیورنڈ لائن کا قیدی‘ میں لکھتے ہیں کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا میڈیا سینٹر ایک بہت بڑے کمپاؤنڈ پر مشتمل تھا، جو مٹی اور پتھر سے تعمیر کیا گیا تھا، اس کمپاونڈ میں تین کمرے تھے اور وسیع صحن تھا اور دیواروں پر بیڈ شیٹس لگائی گئی تھیں۔

’میڈیا سینٹر میں شمسی توانائی کا طاقتور سسٹم نصب کرکے 24 گھنٹے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی گئی تھی، جبکہ انٹرنیٹ کی تیزرفتار سروس بھی موجود تھی۔ یہاں کمروں میں پرانے قالین بچھے ہوئے تھے اور پرانے صوفے بھی رکھے گئے تھے۔‘

مصنف کے مطابق ان کی مہمان نوازی کے لیے کمپاؤنڈ میں ایک بکرا بھی ذبح کیا گیا تھا جبکہ چار روز کے دوران کھانا احسان اللہ احسان کے گھر سے پک کر آتا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ اس بڑے کمپاؤنڈ کے ایک حصے میں ٹوائلٹ اور غسل خانے کا انتظام تھا جبکہ پانی کے لیے ہینڈ پمپ موجود تھا۔ کمپاؤنڈ کے اندر تحریک طالبان کے رہنماؤں کے گاڑیاں بھی موجود رہتی۔

Image caption احسان اللہ احسان

’ایک کمرے میں ٹی وی کی بڑی سکرین نصب تھی جہاں سیٹلائیٹ ڈش کی مدد سے پاکستانی چینلز کو مانیٹر کیا جاتا تھا۔ کمپاؤنڈ کے دوسرے کمرے میں سوشل میڈیا پروپیگنڈہ کے لیے مختص لیپ ٹاپ اور تحریک طالبان کے لیے بنائی جانے والی ویڈیوز کی ایڈیٹنگ کا کام ہوتا تھا۔ جبکہ تیسرا کمرہ سٹوڈیو کا کام دیتا تھا جہاں ویڈیوز کے ریکارڈنگ کی جاتی تھی۔

کتاب کے مصنف کے مطابق طالبان کی میڈیا ٹیم کے ارکان ٹاک شوز دیکھ کر محظوظ ہوتے اور قہقہے لگاتے تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’میڈیا سیٹر میں دس سے بارہ افراد رہتے تھے جس میں سے ایک افغان تھا باقی پاکستان کے صوبے خیبر پختونخواہ کے مختلف شہروں سے تعلق رکھتے تھے۔ کمپاؤنڈ کے یہ تینوں کمرے آرام کے لیے بھی استعمال ہوتے لیکن گرمی کی شدت کی وجہ سے زیادہ تر طالبان کھلے آسمان تلے چارپائی بچھا کر سوتے تھے۔‘

میڈیا سینٹر کے کمپاؤنڈ میں تحریک طالبان کے میڈیا ونگ کے اراکان کبھی کبھی نشانہ بازی کی مشق بھی کرتے تھے جبکہ شام میں اسی کمپاونڈ میں والی بال کھیلنے کا بھی اہتمام ہوتا تھا۔

اسی بارے میں