اداروں کے درمیان ٹویٹس پر بات نہیں ہوتی: چوہدری نثار

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ڈان لیکس انکوائری کمیٹی کی رپورٹ کی روشنی میں وزیر اعظم کی طرف سے جاری ہونے والے نوٹیفیکشن کی وضاحت کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ اس بارے میں اصل نوٹیفیکشن جاری کیا جانا تو باقی ہے۔

ہفتے کی سہ پہر کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے کی گئی ٹویٹ پر بھی تبصرہ کیا اور سرکاری معاملات پر ٹویٹس کو پاکستان کے نظام کے لیے زہر قاتل قرار دیا۔

* ’ڈان لیکس‘: سفارشات کو عوام کے سامنے رکھا جائے گا

* ڈان لیکس پر وزیراعظم کا نوٹیفیکیشن فوج کی طرف سے مسترد

ان کا کہنا تھا ’اداروں کے درمیان ٹویٹس کے ذریعے بات نہیں ہوتی۔ یہ ٹویٹس جمہوریت اور اورنظام کے لیے زہرِ قاتل ہیں۔ ‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ہم اس قوم سے زیادتی کر رہے ہیں۔ مسائل ہیں لیکن ٹویٹس پر ان کا ذکر کرنا مناسب نہیں۔ ‘

پاکستان کے وزیر داخلہ کی طرف سے وزیر اعظم کے نوٹیفیکشن کو وزارتِ داخلہ کے لیے ایک ریفرنس قرار دینے پر ایک انتہائی غیر معمولی صورت حال پیدا ہو گئی ہے جس نے مقامی میڈیا میں ایک ہیجان پیدا کر دیا ہے اور خود وزیر داخلہ نےکہا کہ میڈیا نے ایک طوفان کھڑا کر دیا ہے۔

چوہدری نثار علی نے وزیر اعظم کی طرف سے ہفتے کی صبح جاری ہونے والے 'نوٹیفیکشن' پر مزید تبصرہ کرتے ہوئے کہا وزارت داخلہ نوٹیفیکیشن من و عن کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں جلد جاری کرے گی۔

ان کا کہنا تھا ’افسوس ہے کہ ایک نان ایشو کو ایشو بنایا گیا۔ کسی کو بچانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ ‘

واضح رہے کہ سنیچر کی دوپہر وزیر اعظم ہاوس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا تھا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کے خلاف 1973 کے آئین کے ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈی) رولز کے تحت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ظفر عباس اور سرل المائڈہ کا معاملہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے سپرد کر دیا جائے جبکہ اے پی این ایس سے کہا جائے گا کہ وہ پرنٹ میڈیا کے حوالے سے ضابطۂ اخلاق تشکیل دے۔

اسی بارے میں