’وہاں بہنیں کیا کر رہی تھیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption وزیرِ اعظم کے اس مبہم بیان اور سوال پر سوشل میڈیا پھر ایک طوفان امڈ آیا

پاکستان کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے اوکاڑہ میں سنیچر کو ہونے والے جلسے میں ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کیا اور حکومتی کارکردگی پر اظہارِ مسرت کرتے کرتے وہ عوام کے جوش و خروش کو دیکھتے ہوئے خود بھی شاید جذباتی ہو گئے۔ پہلے تو انھوں نے اپنے جلسے کو عوام کی شرکت کے اعتبار سے ’جلسہ‘ اور اپنے مخالفین کے جلسوں کو ’جلسیاں‘ قرار دیا۔ پھر ان کی نظر اپنے جلسے میں موجود بہنوں پر پڑ گئی۔

اپنے خطاب میں انھوں نے کہا ’میں اپنی اِن بہنوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جو کونے میں کھڑی ہیں۔ یہ اُس طرح کا جلسہ نہیں جیسا مخالفین کا جلسہ ہوتا ہے۔ آپ نے کل بھی ٹی وی میں دیکھا ہے، وہاں بہنیں کیا کر رہی تھیں؟‘

* حزب اختلاف کی خواتین بھی نالاں

* مسلم خواتین کی برابری کی مخالفت کیوں؟

وزیرِ اعظم کے اس مبہم بیان اور سوال پر سوشل میڈیا پھر ایک طوفان اُمڈ آیا جہاں لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ وزیرِ اعظم نے پاکستان تحریکِ انصاف کے اسلام آباد میں ہونے والے جلسے میں ایسا کیا دیکھا؟

پی ٹی آئی کی رہنما شیریں مزاری نے شدید ردِ عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’وزیرِ اعظم یہ بھول گئے ہیں کہ وہ ایک وزیرِ اعظم ہیں۔‘

’وزیرِ اعظم اپنے ملک کی عورتوں کے بارے میں ایسی بات کریں محض اس لیے کہ وہ ان کی سیاسی مخالفین ہیں۔‘

شیریں مزاری کا مزید کہنا تھا کہ ’مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں نے بھی ایسی باتیں کہیں کیونکہ یہ اُن کی ذہنیت ہے اور یہ(نواز شریف) پورے ملک کے وزیرِ اعظم ہیں اس کے لیے انہیں معافی مانگنی چاہیے۔‘

سماجی کارکن فرزانہ باری نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ قابلِ مذمت بیان ہے، جو خواتین پی ٹی آئی کے جلسے میں آتی ہیں اُن کی بھی سیاسی وابستگی ہے اور اس میں کوئی برائی نہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’کونے میں کھڑی عورتوں کی تعریف ہو رہی ہے تو اِسی کے خلاف تو ہم پاکستان میں جدوجہد کر رہے ہیں۔ عورت کا مقام کونے میں نہیں بلکہ اسے مرکزی دھارے میں شامل ہونا چاہیئے۔‘

فرزانہ باری نے کہا کہ ’ایسا تاثر دینا کہ پی ٹی آئی کے جلسے میں آنے والی عورتیں بری اور اُن کے جلسے میں کونے میں کھڑی عورتیں اچھی ہیں تو وزیرِ اعظم کی جانب سے یہ ایک غلط پیغام دیا گیا ہے۔‘

ٹوئٹر پر کچھ وقت کے لیے ’ویمن‘ کا ہیش ٹیگ ٹرینڈ کرتا رہا۔ ایک صارف مہوش اعجاز نے لکھا ’جو لوگ نواز شریف کے بیان کی حمایت کر رہے ہیں پہلے تو انہیں بتا دُوں کے عورت کی عزت کرنے کے لیے اسے بہن کہنا ضروری نہیں۔‘

پاکستان تحریکِ انصاف کی رہنما عندلیب عباس نے ٹویٹ کیا کہ ’نواز شریف کو نہ صرف عورتوں سے معافی مانگنی چاہیے بلکہ ان کے خلاف ہراسمنٹ کے قانون کے تحت مقدمہ قائم ہونا چاہیے۔‘

ایک صارف طاہر خان قیصرانی نے ٹویٹ کیا کہ اپنے سیاسی مستقبل کے لیے عورتوں کو نشانہ بنانا شرمناک ہے۔

سید آئی حسین نے وزیرِ اعظم کو مخاطب کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’اگر آپ ہی عورتوں کی عزت نہیں کریں گے تو اپنے منہ پھٹ وزرا سے کیا توقع کریں گے۔ آپ کو معافی مانگنی چاہیے۔‘

اسی بارے میں