چیئرمین نیب کے خلاف ریفرنس، سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب

چیئرمین نیب تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قمر زمان چوہدری کے خلاف ریفرنس پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں دائر کیا گیا

پاکستان میں حزب مخالف کی جماعت تحریک انصاف کی طرف سے قومی احتساب بیورو کے چیئرمین قمر زمان چوہدری کے خلاف دائر کیے گئے ریفرنس کی ابتدائی سماعت کے لیے سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس طلب کر لیا گیا ہے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل کا اجلاس 16 مئی کو سپریم کورٹ کی عمارت میں ہوگا جس میں پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان فواد حسین چوہدری کی درخواست کی ابتدائی سماعت ہو گی۔

٭ چیئرمین نیب کے خلاف پہلا ریفرنس: مگر کیوں؟

٭’شکر ہے بچت ہو گئی ورنہ میں تو بہت ڈرا ہوا تھا‘

سپریم جوڈیشل کونسل پانچ ججز پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان کونسل میں چیف جسٹس کے علاوہ سپریم کورٹ کے دو سینیئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ اور جسٹس اعجاز افضل شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ لاہور ہائی کورٹ اور بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحبان بھی کونسل کا حصہ ہوں گے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق یہ پانچ رکنی بینچ فواد حسین کی درخواست قابل سماعت ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فیصلہ کرے گا۔

خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل میں اس درخواست سے قبل اعلیٰ عدلیہ کے چار ججوں کے خلاف درخواستیں بھی دائر کی گئی ہیں تاہم ان کے بارے میں ابھی کوئی کارروائی نہیں ہوئی۔

تحریکِ انصاف نے قمر زمان چوہدری کے خلاف ریفرنس پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت پر عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں دائر کیا ہے۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اس فیصلے میں چیئرمین نیب کے خلاف سخت آبزرویشن دی تھیں۔

ان درخواستوں کی سماعت کے سماعت جب نیب کے چیئرمین عدالت میں پیش ہوئے تھے تو اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے ادا نہ کرنے پر سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ' اُن کی نظر میں نیب وفات پا گیا ہے۔'

Image caption قانونی ماہرین کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں چیئرمین نیب یا اعلیٰ عدلیہ کا جج عمر بھر کے لیے کوئی بھی سرکاری یا عوامی عہدہ رکھنے کا نااہل ہو جاتا ہے

چیئرمین نیب کے خلاف بھی کارروائی کا طریقہ کار وہی اختیار کیا جاتا ہے جو اعلیٰ عدلیہ کے ججز کے خلاف استعمال ہوتا ہے۔

قانونی ماہرین کے مطابق جرم ثابت ہونے کی صورت میں چیئرمین نیب یا اعلیٰ عدلیہ کا جج عمر بھر کے لیے کوئی بھی سرکاری یا عوامی عہدہ رکھنے کا نااہل ہو جاتا ہے۔

قمر زمان چوہدری کو وزیر اعظم اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی مشاورت کے بعد قومی احتساب بیورو کا چیئرمین مقرر کیا گیا تھا۔ ان کے عہدے کی مدت اس سال اکتوبر میں ختم ہو رہی ہے۔

دوسری طرف سپریم کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جنرل سیکریٹری جہانگیر ترین کے خلاف درخواستیں بھی سماعت کے لیے منظور کرلی گئی ہیں۔

یہ درخواستیں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی نے دائر کی تھیں۔ ان درخواستوں کی سماعت چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ 3 مئی کو کرے گا۔

اسی بارے میں