’بڑھاپے میں بیٹے کا ناقابل برداشت درد‘، آرمی چیف سے مدد کی درخواست

Image caption 15 مارچ کو سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن عبداللہ جان کو اغوا کیا گیا

صوبہ بلوچستان سے اغوا ہوئے سیکریٹری ہائیر ایجوکیشن عبداللہ جان کی بازیابی کی ڈیڑھ ماہ سے جاری تمام کوششوں سے ناامید ہو کر ان کے والد نے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے مدد کی اپیل کی ہے۔

عبداللہ جان کے 82 سالہ والد محمد اسماعیل بلوچستان پولیس میں ڈپٹی ڈائریکٹر رہ چکے ہیں اور وہ 1996 ریٹائر ہوئے تھے۔

٭ بلوچستان کے سیکریٹری ایجوکیشن اغوا

محمد اسماعیل نے جنرل باجوہ کو ایک تحریری خط میں لکھا ہے کہ ان کے بیٹے انتہائی دیانتدار، اور اپنے فرائض سے مخلص افسر ہیں اور یہ کہ وہ بطور ایک سول اہلکار 30 سال سے ملک کی خدمت سرانجام دے رہے ہیں۔

55 سالہ عبداللہ جان کو 15 مارچ کو دفتر جاتے ہوئے تاوان کے لیے اغوا کیا گیا ہے۔

پشین سے تعلق رکھنے والے محمد اسماعیل کا کہنا ہے کہ اگر ان کے پاس اتنی رقم ہوتی بھی تو وہ کسی دہشت گرد کو اس کی ادائیگی نہیں کریں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’82 سال کی عمر میں مجھے ناقابل برداشت درد سے دوچار کر دیا گیا ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج نے ردالفساد آپریشن میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں لہٰذا وہ ذاتی طور پر ان کی بازیابی کے لیے کوششوں کی نگرانی کریں تاکہ انہیں بحفاظت رہا کروایا جا سکے۔

عبداللہ جان کے بیٹے نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کو تاوان کی بھاری رقم کا مطالبہ موصول ہوا ہے جس کے بعد انھوں نے یہ اپیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں کہ آیا انہیں ایک سرکاری افسر ہونے کے ناطے اغوا کیا گیا ہے یا کسی اور وجہ سے تو بیٹے کا کہنا تھا کہ سرکاری افسر ہی وجہ دکھائی دیتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'وہ مسجد بھی جاتے تھے۔ اکثر اکیلے چہل قدمی بھی کیا کرتے تھے لیکن اغوا انہیں دفتر جاتے ہوئے ہی کیا گیا ہے۔ یہ اغوا کاروں کی جانب سے واضح اشارہ تھا کہ کوئی سرکاری افسر بھی محفوظ نہیں ہے۔‘

اسی بارے میں