’بلوچستان، کراچی اور لاہور کے بعد اب کیا گلگت بلتستان کی باری ہے؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد نے وزارتِ داخلہ کی جانب سے گلگت بلتستان جانے والے غیر ملکی سیاحوں کے لیے این او سی یا پیشگی اجازت نامہ لازمی قرار دینے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

چند روز قبل وزارت داخلہ نے گلگت بلتستان کو ایک خط میں کہا تھا کہ تمام غیر ملکی سیاحوں کو وزارت داخلہ سے این او سی لینا ضروری ہے۔

٭ ’ویزے کی مشکلات سیاحوں کو راغب کرنے کی راہ میں بڑی رکاوٹ‘

وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ 'یہ بات نوٹس میں آئی ہے کہ غیر ملکی سیاح وزارت داخلہ کی این او سی یا کلیئرنس کے بغیر گلگت بلتستان جا رہے ہیں جو قانون کے خلاف ہے۔ حکومت گلگت بلتستان اقدامات اٹھائے تاکہ ایسا نہ ہو۔'

اس فیصلے پر پاکستان ایسوسی ایشن آف ٹوئر آپریٹرز کے سیکریٹری جنرل اصغر علی نے بی بی سی کو بتایا کہ وزارت داخلہ کی جانب سے این او سی کے حوالے سے خط ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب سیزن کا آغاز ہونے والا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hunza On Foot

'غیر ملکی سیاحوں کے پروگرام کئی ماہ قبل بن چکے ہیں اور ان کو ویزے جاری ہو چکے ہیں۔ ہم گلگت بلتستان کونسل کے علم میں اس بات کو لائے ہیں کہ یہ خط گلگت بلتستان میں سیاحت کو ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ کوئی غیر ملکی پاکستان آ کر این او سی حاصل کرے۔

'جب بھی کوئی غیر ملکی گلگت بلتستان کے لیے ویزہ لینا چاہتا ہے تو وہ اپنے پاسپورٹ کے ساتھ یا تو ٹوئر آپریٹر کا خط لگاتا ہے یا اپنے سپانسر کا۔ اس کا ویزہ پاکستانی سفارتخانہ دو ہفتے تک رکھتا ہے اور جب سب کلیئر ہو جاتا ہے تو تب ویزہ دیا جاتا ہے۔'

انھوں نے کہا کہ اگر یہ سب کام سفارتخانے میں ہو جاتا ہے تو پاکستان آ کر این او س لینے کی سمجھ نہیں آتی۔

'غیر ملکی سیاح اپنے پورے سفر کی منصوبہ بندی کر کے آیا ہوتا ہے اور پاکستان آمد پر اس کے پاس وقت ہی نہیں ہوتا۔ کوئی بھی غیر ملکی سیاح اپنی چھٹیوں میں این او سی کے لیے ایک دو دن یا تین کا وقت نہیں رکھے گا۔'

انھوں نے بتایا کہ ہر سال کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے لیے ہزاروں غیر ملکی آتے ہیں۔ 'کوہ پیمائی اور ٹریکنگ کے باعث پاکستان میں زر مبادلہ آتا ہے۔'

'ہنزہ آن فٹ' کے نوید خان نے کہا کہ ایک طرف تو پاکستانی حکومت سیاحت کے فروغ کی باتیں کرتی ہے اور دوسری جانب اس قسم کی قدغنیں لگا رہی ہے۔

'یہ نہ صرف ٹوئر آپریٹرز کے لیے نقصان دہ ہے بلکہ پاکستانی حکومت کے لیے بھی۔ وہ غیر ملکی جو انٹرنیٹ پر پڑھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کتنا خوبصورت ہے، کتنا محفوظ ہے اور وہاں کے لوگ کتنے مہمان نواز ہیں اور پھر ان کو یہ معلوم چلے کے گلگت بلتستان کی خوبصورتی دیکھنے کے لیے این او سی لینا ہو گا تو کون ہے جو اس جھنجھٹ میں پڑے۔ کیا ہم پاکستانی اس جگہ جانا پسند کریں گے جہاں پہلے ان کو این او سی لینا ہو۔ میرے خیال میں نہیں۔'

ان کا مزید کہنا تھا کہ جتنا پیسہ غیر ملکی پاکستان میں لاتے ہیں اتنا پیسہ پاکستانی اس علاقے میں نہیں خرچ کرتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Hunza On Foot

نوید خان نے مزید کہا کہ ان کے ساتھ سیاحت کے لیے ایک درجن سے زیادہ غیر ملکی آئندہ ایک دو ہفتے میں پاکستان پہنچ رہے ہیں۔

'ان لوگوں کو ویزہ بھی مل گیا ہے، انھوں نے ٹکٹیں بھی لے لی ہیں اور انھوں نے اپنی رقم بھی دے دی ہے جو ناقابل واپسی ہے۔ اب اگر یک دم حکومت کی جانب سے ایسا نوٹیفیکیشن جاری ہو گیا ہے تو وہ آئندہ کیوں پاکستان آئیں گے۔'

پاکستان میں کوہ پیمائی کے ادارے الپائن کلب کے ترجمان قرار حیدری نے کہا کہ غیر ملکی سیاح کی ٹوئر آپریٹر کے ساتھ ایک ڈیل ہوئی ہوتی ہے۔

'غیر ملکی سیاح نے واپس بھی جانا ہوتا ہے۔ اگر وہ این او سی کے لیے دو روز زیادہ پاکستان میں بیٹھ جائے تو اس کا خرچہ ٹوئر آپریٹر کو اٹھانا پڑے گا۔ ٹوئر آپریٹر تو مارا گیا۔'

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا دارومدار حالات پر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ 'جیسے ہی لاہور میں دھماکے ہوئے تو کئی سیاحوں نے اپنا ٹرپ منسوخ کر دیا۔ کراچی، لاہور، بلوچستان وغیرہ میں تو سیاحت ختم ہو چکی ہے اور اب رہ گئی ہے تو گلگت بلتستان میں، لیکن اگر اس قسم کی پابندیاں لگائی گئیں تو وہاں بھی سیاحت ختم ہو جائے گی۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں