’لاہور والے اچھی بریانی کیسے بنا سکتے ہیں؟‘

بریانی تصویر کے کاپی رائٹ AFP

سوشلستان میں اس وقت احسان اللە احسان کا نام صفِ اول کا ٹرینڈ ہے اور اس میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان کے میڈیا پر آنے اور اس کے بعد پابندی پر تبصرے کیے جا رہے ہیں۔

کسی نے اس پر تبصرە لکها ’آخر احسان اللہ احسان جیسے ہائی ویلیو ٹارگٹ کی ویلیو ہمارے میڈیا اور ان کے بیان نشر کرنے والوں سے زیادە کون جانتا ہو گا‘ مگر ہمارا آج کا موضوع یہ نہیں۔

بغیر تصدیق کے میسجز فارورڈ

اس ہفتے کے اہم موضوع پر ہم پہلے بات کریں گے بغیر تصدیق کے وٹس ایپ میسیج آگے بڑهانے کی۔ انٹرنیٹ اور وٹس ایپ کے دور میں اس بات کی آسانی پیدا ہو گئی ہے ایک سیکنڈ میں آپ بغیر تصدیق کے فارورڈ کر دیتے ہیں۔

اسی طرح کے میسیج روزانہ کی بنیاد پر آگے فاروڈ کرنے والے کبهی یہ نہیں سوچتے کہ بهجوانے والے نے تو جو غلطی کی سو کی میں ہی اس کی تحقیق کر لوں۔

چاند کے سورج کے قریب گزرنے کی خبر، مریخ سے عجیب شعائیں نکلنے کی خبر، انٹرنیٹ سرہانے یا اپنے قریب رات کو رکھ کر مت سوئیں وغیرە وغیرە۔

اور ان سب فضولیات کو قابلِ اعتبار بنانے کے لیے یہ تک لکھ دیا جاتا ہے کہ بی بی سی نیوز پر ایسا آیا۔

اگر ایسا ہے بهی تو ایک سینکڈ میں بی بی سی یا کسی بهی ویب سائٹ یا گوگل سے آپ کو اندازہ ہوجائے گا اس میں کتنی سچائی ہے۔

اور یہ بات بھی اہم ہے کہ اگر معاملہ اتنا ہی حساس ہو گا تو کیا حکومت یا مختلف ادارے اس پر حرکت میں نہیں آئیں گے؟

بریانی کون اچھی بناتا ہے؟

ایک کھانا پکانے کے مصالحے کے اشتہار میں چینی خاتون کے بریانی بنانے پر جتنے تبصرے آئے اتنے ہی اس بات پر آئے کہ لاہور میں اچھی بریانی کیسے بن سکتی ہے۔

اس موضوع پر میمز اور ٹویٹس میں سی پیک سے زیادە اس بات پر بحث نظر آئی کہ کراچی والوں کے علاوہ کون اچهی بریانی بنا سکتا ہے اور اس کے ساتھ بے تحاشا تبصرے۔

علی کا خیال تها کہ ’اشتہار نے ایک بات ثابت کردی کہ پاکستانیوں کو بریانی مل جائے سہی، منٹ لگاتے ہیں ہاتھ صاف کرنے میں۔‘

صدف زبیری نے لکها ’مصالحے اشتہار میں چینی لڑکی کتنی خوش قسمت ہے کہ اس کے گهر کے پڑوس میں کوئی خڑوس بڈھا نہیں رہتا۔‘

اس ہفتے کی تصاویر

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ایک بچی بلوچستان میں ہنگلاج کی درگاہ پر جانے سے قبل کراچی کے ایک مندر کے پاس اپنا لباس دیکھ رہی ہے۔

ایک جائزے کے مطابق پاناما کیس کے حوالے سے پاکستان کے 50 سے زیادە نیوز چینلز میں سے صرف 14 نیوز چینلز پر 3400 سے زیادە پروگرام نشر کیے گئے۔ صرف ایک چینل پر پانچ سو زیادە پروگرام نشر ہوئے۔ اس دوران ملک میں دہشت گردی کے عفریت نے ایک بار پهر سر اٹهایا، بہت سے دوسرے گھمبیر مسائل کا سامنا رہا مگر چینلز کی ترجیحات کا اندازە اس جائزے سے کر لیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں