’جب چترالیوں کا مان ٹوٹ گیا‘

چترال

پاکستان کے صوبے خیبر پختونحوا کے ضلع چترال میں گذشتہ ہفتے ایک شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد تاحال حالات کشیدہ، بازار بند اور سڑکوں پر ویرانی چهائی ہوئی ہے۔

توہین رسالت کے الزام پر برپا ہونے والے واقعے کے بعد پہلی نماز جمعے کے موقع پر تقریباً سو برس پرانی چترال کی شاہی مسجد کو کم از کم سو کے قریب ایف سی اور پولیس کے اہلکاروں نے گهیر رکها تھا۔

چترال: توہین مذہب کے ملزم کے طبی معائنے کا حکم

مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

’مقامی امام نے مشال کی نماز جنازہ پڑھانے سے انکار کیا تھا‘

نمازیوں سے توہین مذہب کے ملزم کو چھڑوانے والے مسجد کے خطیب کو احتیاط برتنے کا مشورە دیا گیا اور کہا گیا کہ وە نماز جمعہ نہ پڑهائیں لیکن وہ خوف کو خاطر میں نہ لائے۔

سرسبز اور پرامن اس وادی کے بیشتر رہائشی ابهی تک یہ تسلیم نہیں کر پا رہے کہ ان کے پڑوسی یا خیبر پختواخوا کے دیگر علاقوں سے یہاں آ کر بسنے والے لوگ مبینہ طور پر توہین مذہب کرنے والے اس شخص کی جان پتھر مار کر لینے کو تیار تھے۔

بعض افراد یہ ماننے کو تیار نہیں کہ وە لوگ چترالی تهے اور بعض نوجوانوں کے خیال میں مسئلہ مسجد کے اندر ہی حل ہو جاتا تو انھیں کم از کم خوف کی فضا میں سانس نہ لینا پڑتا۔

ایف اے تک تعلیم حاصل کرنے والے 24 سالہ شخص نے اپنی پوری زندگی میں چترال میں کبھی گولی چلنے کی آواز تک نہیں سنی، مگر ایف سی، پولیس اور احتجاج کرنے والوں کے درمیان جاری رہنے والی شیلنگ اور ہوائی فائرنگ سے وە اب سہم گئے ہیں۔

ان میں سے ایک کا کہنا تھا کہ'اس شحض کو پولیس کے حوالے کر کے غلطی ہوئی ہے۔ وہیں اس سے نمٹ لیا جاتا تو شاید یہ عالم نہ ہوتا۔ واقعے کے بعد تین دن تک بازار مکمل بند رہا۔ اب بهی ایک دو دکانیں ہی کهلی ہیں، میں تو خود تین دن سے بازار نہیں گیا۔'

یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گذشتہ جمعے کو شاہی مسجد میں سنی، اسمائیلی شیعہ سب ایک ہی صف میں کهڑے تهے۔ اسی بات پر چترالیوں کا سر فخر سے بلند ہوا ہے اور ہونا بهی چاہیے لیکن اس واقعہ نے جیسے کئی لوگوں کا مان توڑ دیا ہو۔

مسجد میں موجود ڈیڑھ سو کے قریب لوگوں کی موجودگی جمعے کے خطبے اختتام پر ایک شحض نے خطیب خلیق الزمان کے منع کرنے کے باوجود اونچا اونچا بولنا شروع کر دیا۔

محض 30 سے 40 سکینڈز میں جب اس نے اپنی بات ختم کی تو لوگ سرگوشی کرنے لگے کہ اس نے مبینہ طور پر مذہب کی توہین کی ہے اور نوجوان مشتعل ہونے لگے۔

1992 میں والد کی وفات کے بعد سے اس مسجد کی امامت سنبھالنے والے خلیق الزمان نے جب نمازیوں کو مشتعل دیکها تو انھوں نے ذہن میں ترکیب بنائی کہ کس طرح لوگوں کے جذبات کو ٹهنڈا کیا جائے۔

انھیں یقین تها کہ وە حق کے راستے پر ہیں اس لیے لوگ ان کی بات مان لیں گے۔ انھوں نے اپنی جان کی پروا کیے بغیر فوراً اس شخص کو غصے سے اپنی طرف کهینچا اور اپنے پاس ڈانٹ ڈپٹ کر بٹھا لیا۔

پهر پولیس کو مطلع کیا اور پولیس کے آنے تک انھوں نے ایک مرتبہ پهر روایت کے برعکس اپنا خطبہ دوبار شروع کر دیا جس میں لوگوں سے کہا 'اسلام تو چیونٹی کو مارنے کی اجازت نہیں دیتا تو ہم انسان کی بے حرمتی کیسے کر سکتے ہیں۔ جب ریاست میں توہین مذہب کی سزا موجود ہے تو آپ لوگ قانون کو ہاتھ میں کیوں لیتے ہیں۔'

چترال میں مردم شماری کی وجہ سے پولیس بہت مصروف تھی اور یہی وجہ ہو سکتی ہے کہ ہنگامہ آرائی کے موقع پر مسجد میں صرف سات سے آٹھ پولیس اہلکار ہی پہنچ پائے۔

خطیب صاحب نے اس شحض کو موقع پاتے ہی فوراً پولیس کے حوالے کر دیا۔ وە مسجد کا تشخص تو برقرار رکهنے میں کامیاب ہو گئے اور ان کے فیصلے سے ریاستی ادارے بهی حرکت میں آئے مگر معاملہ وہاں ختم نہیں ہوا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
چترال میں ایک شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد کشیدگی

ہجوم نے تهانے پر دھاوا بول دیا۔ خطیب صاحب کی گاڑی جلائی مشتعل ہجوم کو روکنے کے لیے ڈی پی او علی اکبر اور ڈی سی شہاب حامد نے اپنی پوری کوشش کی مگر ماحول اتنا گرم تها کہ ڈی سی او کی جان کو بهی خطرە ہو سکتا تها، اس لیے وە وہاں سے نکل گئے تاکہ بہتر حکمت عملی سے نمٹا جائے۔

ایف سی اور پولیس کی مزید نفری آنے تک بیشتر یہ چلاتے رہے: 'گستاخ مذہب کو ہمارے حوالے کرو، ہم اس کا سر قلم کریں گے، ہم پتھروں سے ماریں گے۔‘

ملزم تک پہنچنے کی کوشش میں انھوں نے تهانے کے شیشے توڑے، شیلینگ میں کم سے کم پانچ افراد زخمی بهی ہوئے۔ بعد میں ملزم کو اس شہر سے دور ایک جیل میں منتقل کر دیا گیا اور گشیدگی پهیلانے والے دو سو کے قریب لوگوں کو حراست میں لیا گیا۔

مقامی ٹی وی اور ریڈیو نے ذمہ داری کے ساتھ خبر کو نشر کیا۔ تمام چترال کے سکیورٹی اداروں نے مل کر مذہبی انتہا پسندی کی کوشش کو پسپا کر دیا۔ یہ صورتحال تقریباً آٹھ گهنٹے تک جاری رہی مگر یہ پیغام سختی سے دیا گیا کہ کوئی چترالی قانون ہاتھ میں نہیں لے سکتا۔

چترال کے خطیب اور انتطامیہ کے عزم نے مذہب کے نام پر ہونے والے اس پرتشدد ریلے کا رخ تو موڑ دیا بس اب امید یہی ہے کہ یہ خاموشی علاقے میں کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ نہ ہو۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں