ڈان لیکس میں کب کیا ہوا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف نے سنیچر کے روز ڈان لیکس سے متعلق انکوائری کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ خارجہ امور سے متعلق معاون خصوصی طارق فاطمی سے عہدہ لے لیا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کے 18ویں پیرے کی منظوری دی ہے۔

تاہم 'ڈان لیکس' کے بارے میں حکومت پاکستان اور فوجی قیادت میں باہمی اختلافات اس وقت کھل کر سامنے آ گئے جب اس نوٹیفیکیشن کو فوج نے مسترد کر دیا ہے۔

وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی انگریزی اخبار ڈان کی 'قومی سلامتی کے منافی' خبر کی اشاعت کی تحقیقات میں کب کیا ہوا۔

چھ اکتوبر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

انگریزی اخبار ڈان میں سیرل المائڈہ نے وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس کے حوالے سے خبر دی۔ اس خبر میں غیر ریاستی عناصر یا کالعدم تنظیموں کے معاملے پر فوج اور سول حکومت میں اختلاف کا ذکر کیا گیا تھا تاہم حکومت اور فوج دونوں نے اس خبر کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔

10 اکتوبر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وزیر اعظم پاکستان محمد نواز شریف نے چند روز قبل قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والی گفتگو کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کا نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے ذمہ داران کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لیے ان کی نشاندہی کی جائے۔

وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے ایک بیان میں کہا گیا کہ جنرل راحیل شریف نے آئی ایس آئی کے سربراہ جنرل رضوان اختر کے ہمراہ محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔

اس ملاقات میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف بھی موجود تھے۔

وزیر اعظم ہاؤس کے پریس آفس کی طرف سے سول اور فوجی قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بارے میں جو بیان جاری کیا گیا اس میں گذشتہ ہفتے ملک کے مقتدر ترین اخبار ڈان میں ذرائع کے حوالے سے شائع ہونے والی خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئےاس پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں کہا گیا کہ اجلاس کے شرکاء اس بات پر مکمل طور پر متفق تھے کہ یہ خبر قومی سلامتی کے امور کے بارے میں رپورٹنگ کے مسلمہ اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

10 اکتوبر

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

معروف صحافی سرل المائڈا نے گذشتہ شب سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام میں کہا تھا کہ ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیا گیا ہے۔

سینئر صحافی نے ٹوئٹر پر لکھا: 'مجھے بتایا گیا ہے اور شواہد دکھائے گئے ہیں کہ میرا نام ای سی ایل میں ڈال دیا گیا ہے۔' انھوں نے ایک اور ٹویٹ میں کہا: 'میں آج رات بہت اداس ہوں۔ یہ میری زندگی، میرا ملک ہے۔ کیا غلط ہو گیا۔'

ایک اور ٹویٹ میں انھوں نے لکھا: 'میرا کہیں جانے کا ارادہ نہیں تھا۔ یہ میرا گھر ہے۔ پاکستان۔'

پاکستان کی صحافتی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے انگریزی روزنامے ڈان کے رپورٹر سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالے جانے کے حکومتی اقدام کی مذمت کی جاری ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ان کا نام ای سی ایل سے خارج کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔

13 اکتوبر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ ڈان اخبار کے صحافی سرل المائڈہ کی سکیورٹی معاملات کے بارے میں ایک اہم اجلاس کے بارے میں خبر سے دشمن ملک کے بیانیے کی تشہیر ہوئی ہے لہٰذا اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی۔

جمعرات کے روز پریس کانفرنس سے خطاب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ انہی تحقیقات کی وجہ سے سرل المائڈہ کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

'وزیراعظم اور بری فوج کے سربراہ نے فیصلہ کیا کہ اس معاملے کی انکوائری ہوگی اور اس فیصلے کے ڈھائی گھنٹے کے بعد مجھے بتایا گیا کہ اس معاملے کے مرکزی کردار (سرل) نے ملک سے باہر جانے کے لیے نشست بک کروائی ہے۔ اس وقت میرے پاس کوئی اور چارہ نہیں تھا کہ میں ان کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ پر ڈال دیتا۔'

وزیرداخلہ نے کہا کہ اگر ایسے نہ کیا جاتا تو کہا جاتا کہ حکومت نے خود خبر لیک کی اور پھر خود ہی خبر دینے والے کو ملک سے بھگا دیا۔

14 اکتوبر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکومت پاکستان نے انگریزی اخبار ڈان کے نامہ نگار پر بیرون ملک جانے پر پابندی واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

سرل المائڈا کا نام فوج اور سول حکومت میں مبینہ اختلافات کی ایک خبر کو شائع کرنے کی وجہ سے ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر لیا گیا تھا۔ تاہم دوسری جانب اعلیٰ فوجی کمانڈروں کے ایک اجلاس میں اس خبر کو من گھڑت قرار دیتے ہوئے اس پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ فوج نے اسے قومی سلامتی کی خلاف ورزی بھی قرار دیا ہے۔

وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اسلام آباد میں اخبارات کی دو تنظیموں کونسل آف نیوز پیپز ایڈیٹرز اور آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی کے مشترکہ وفود سے ایک ملاقات میں اخبار ڈان کے نامہ نگار سرل المائڈا کے مسئلہ پر تبادلہ خیال کیا۔

اجلاس کے بعد بتایا گیا کہ سرل المائڈا کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلنے کا فیصلہ ہوا ہے۔ ایک سرکاری بیان کے مطابق تاہم اس فیصلے سے اس خبر کے بارے میں جاری تحقیقات پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور اسے منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا۔

30 اکتوبر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کو انگریزی اخبار ڈان میں قومی سلامتی کے منافی خبر کی اشاعت رکوانے کے سلسلے میں اپنا کردار ادا نہ کرنے پر ان کے عہدے سے ہٹایا گیا ہے۔

اس خبر پر حکومت نے تحقیقات کروانے کا اعلان بھی کیا ہے اور اسی سلسلے میں وزیرِ اطلاعات پرویز رشید کو بھی ان کے عہدے سے سبکدوش کر دیا گیا ہے۔

اس بارے میں اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ وہ جھوٹی خبر نہ رکوانا پرویز رشید کا قصور ہے اور ان کی کوتاہی یہ ہے کہ بطور وزیرِ اطلاعات انھوں نے اپنی ذمہ داری درست طریقے سے ادا نہیں کی۔

ان کے مطابق پرویز رشید کے حوالے سے دستاویزی اور دیگر معلومات سے معلوم ہوا کہ جب انھیں پتہ چلا کہ ایک صحافی کے پاس وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کے حوالے سے کوئی خبر ہے تو انھوں نے اس صحافی کو دفتر طلب کیا اور اس سے ملاقات کی۔

سات نومبر

حکومتِ پاکستان نے وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی انگریزی اخبار ڈان کی 'قومی سلامتی کے منافی' خبر کی اشاعت کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں بیوروکریٹس کے علاوہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔

وزارتِ داخلہ کے نوٹیفیکیشن کے مطابق سات رکنی کمیٹی کی سربراہی ریٹائرڈ جج جسٹس عامر رضا خان کو سونپی گئی ہے جبکہ دیگر ممبران میں سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ طاہر شہباز، محتسبِ اعلیٰ پنجاب نجم سعید اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عثمان انور کے علاوہ آئی ایس آئی، ملٹری انٹیلیجنس اور انٹیلیجنس بیورو کا بھی ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔

12 نومبر

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ گذشتہ ماہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی انگریزی اخبار ڈان کی خبر سکیورٹی لیک نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ صحافی سرل المائڈہ ملک واپس آ کر تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے۔

خیال رہے کہ حکومتِ نے گذشتہ ماہ وزیر اعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک اہم اجلاس سے مبینہ طور پر لیک ہونے والی انگریزی اخبار ڈان کی 'قومی سلامتی کے منافی' خبر کی اشاعت کی تحقیقات کے لیے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے۔

جس میں بیوروکریٹس کے علاوہ خفیہ اداروں کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ تاہم پاکستان میں حزبِ مخالف کی بڑی جماعتوں نے حکومت کی تشکیل کردہ کمیٹی کو مسترد کر دیا ہے۔

25 اپریل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ انگریزی اخبار ڈان میں مبینہ طور پر قومی سلامتی کے منافی خبر شائع ہونے کی تحقیقاتی رپورٹ میں کمیٹی کی سفارشات کو وزیر اعظم کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد عوام کے سامنے رکھ دیا جائے گا۔

اس تحقیقاتی رپورٹ کو وزیراعظم کو پیش کیے جانے کے بارے میں حکومتی حلقوں سے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

وفاقی وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب نے منگل کی شب نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'تاحال رپورٹ وزیراعظم کو پیش نہیں کی گئی اور اس حوالے سے میڈیا کی رپورٹس درست نہیں ہیں۔'

29 اپریل

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے ڈان لیکس سے متعلق انکوائری کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے کہا ہے کہ خارجہ امور سے متعلق معاون خصوصی طارق فاطمی سے عہدہ لے لیا ہے۔

سنیچر کو وزیر اعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے انکوائری کمیٹی کے 18ویں پیرے کی منظوری دی ہے۔

وزیر اعظم ہاوس سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وزارت اطلاعات و نشریات کے پرنسپل انفارمیشن آفیسر راؤ تحسین کے خلاف 1973 کے آئین کے ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈی) رولز کے تحت کارروائی کا حکم دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ظفر عباس اور سرل المائڈہ کا معاملہ آل پاکستان نیوز پیپرز سوسائٹی (اے پی این ایس) کے سپرد کر دیا جائے جبکہ اے پی این ایس سے کہا جائے گا کہ وہ پرنٹ میڈیا کے حوالے سے ضابطہ اخلاق تشکیل دے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ ضابطہ اخلاق خاص طور پر پرنٹ میڈیا کے لیے ملکی سلامتی کے معاملات پر رپورٹنگ کے حوالے سے قواعد و ضوابط کا تعین کرے گی اور ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ قومی اہمیت اور سکیورٹی سے متعلق معاملات پر خبریں صحافت کے بنیادی اور ادارتی اصولوں کے خلاف شائع نہ ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے ڈان لیکس کے حوالے سے جاری کیے گئے اعلامیہ کی تردید کر دی ہے۔

انھوں نے اپنی ٹویٹ میں کہا: 'ڈان لیکس کے حوالے سے جاری کیا گیا اعلان انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے۔ یہ نوٹیفیکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔'

متعلقہ عنوانات