’فوج نے حکومتیں الٹائی ہیں لیکن ایسے بیانات نہیں دیے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکومت کی جانب سے سنیچر کو ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کے حوالے سے جاری ہونے والے نوٹیفیکیشن اور اس کے بعد فوج کی جانب سے اس کی تردید کے بارے میں ٹویٹ کے بعد تجزیہ نگاروں نے کہا کہ فوج کا بیان غیر معمولی اور نامناسب تھا۔

پاکستان مسلم لیگ کے سابق رکن اور سابق رکن اسمبلی ایاز امیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے بارے میں کہا کہ 'یہ بہت ہی غیر معمولی بات ہے اور یہ اس چیز کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان تناؤ بڑھ جائے گا اور اس کا نتیجہ شاید پاناما پیپرز کی تفتیش میں نکلے گا جہاں وزیر اعظم کا فوج کے نمائندوں سے سامنا ہو سکتا ہے۔ ‘

* وزیراعظم کا نوٹیفیکیشن فوج کی طرف سے مسترد

* ’حکومت کا رویہ شروع سے ہی مناسب نہیں تھا‘

* ’اداروں کے درمیان ٹویٹس پر بات نہیں ہوتی‘

ایاز امیر نے مزید کہا کہ شاید سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے نواز حکومت کو بہت اختلافات تھے لیکن نئے سربراہ جنرل قمر باجوہ تو بالکل غیر سیاسی شخصیت ہیں اور حکومت سے فوج کے تناؤ کی کوئی کیفیت نہیں تھی۔

انھوں نے کہا کہ حکومت کو اس بات کا احساس نہیں ہوا کہ ڈان لیکس کا معاملہ فوج کے لیے کتنا ضروری ہے لیکن حکومت نے اس معاملے کو اتنا ضروری نہیں سمجھا کہ جلد حل کیا جائے۔

ایاز امیر نے کہا کہ ’لگتا یہی ہے کہ حالات مستقبل میں شاید مزید گھمبیر ہو جائیں۔ فوج کی طرف سے دیا جانے والا یہ بیان بہت غیر معمولی ہے اور مجھے نہیں یاد پڑتا کہ پہلے ایسا کوئی بیان دیا ہو۔ فوج نے حکومتیں الٹائیں ہیں لیکن ایسے بیانات نہیں دیے ہیں۔'

دوسری جانب دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیر شوکت قادر نے بی بی سی بات کرتے ہوئے فوج کے رد عمل کے بارے میں کہا کہ 'یہ نا مناسب تھا۔ آئی ایس پی آر کو ایسے بات نہیں کرنی چاہیے تھی اور اس سے ایک بار پھر دونوں جانب تعلقات کشیدہ ہو جایئں گے۔‘

آئی ایس پی آر کی ٹویٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے مزید کہا کہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نئے ہیں اور شاید اتنے تجربہ کار نہیں ہیں لیکن بات یہ ہے کہ اختلاف ضرور ہے دونوں فریقین کے درمیان اور فوج کی شکایت جائز ہے۔ فوج کی تنبیہ کرنا ٹھیک ہے لیکن ڈھکی چھپی بات نہیں کرنی چاہیے۔

انھوں نے مزید کہا کہ اگر معاملے کی تہہ میں جائیں تو جب یہ واقعہ ہوا تھا تو فوج نے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

’میں اتفاق کرتا ہوں کہ اگر فوج کی تنبیہ کرنی تھی تو کھل کر کرتے او ر وہ کوئی ایسی بات نہیں ہوتی لیکن یہ چھپ کر کام کرنا اچھی بات نہیں تھی اور کیونکہ ہمارے ملک میں رواج نہیں ہے کہ فوج کو اس طرح بولا جائے جس پر وہ برا مان گئے۔ اور برا مان کر اعتراض کیا تو پرویز رشید کو فارغ کر دیا اور سرل المائڈا پر بھی دباؤ ڈالا گیا جس کا کوئی قصور ہی نھیں تھا۔ اور جن لوگ کی وجہ سےیہ خبر لیک ہوئی ان کا کچھ نہیں ہوا۔ ‘

دفاعی تجزیہ نگار بریگیڈیر اسد منیر نے اس رائے کا اظہار کیا کہ اداروں میں اختلاف ظاہر ہو گیا ہے۔

’میرا خیال ہے کہ ٹویٹ کرنا مناسب نہیں تھا۔ یہ کام وزیر داخلہ کا تھا کہ وہ فوج کو بتاتے کہ ہم یہ فیصلہ کر رہے ہیں اور آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے۔ لیکن ٹویٹ کرنا درست نہیں تھا۔ وزیر داخلہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ ادارے ایک صفحہ پر ہیں لیکن آج کے واقعہ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اور فوج میں واضح اختلافات ہیں۔‘

اسی بارے میں