ناروے کی خواتین سے مار پیٹ کرنے والی اہلکار برطرف

بے نظیر بھٹو انٹرنیشنل ایئرپورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یہ واقعہ بےنظیر انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پیش آیا جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی تھی

وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کے حکام نے اسلام آباد کے بےنظیر بھٹو انٹرنیشل ایئرپورٹ پر دو خواتین پر تشدد کرنے والی خاتون اہلکار کو نوکری سے برطرف کر دیا ہے۔

چند روز قبل ناروے کی پاکستانی نژاد ماں بیٹی اسلام آباد سے ناروے جا رہی تھیں کہ بےنظیر بھٹو ایئرپورٹ کے راول لاؤنج میں دستاویزات کی کلیئرنس کے معاملے پر وہاں پر تعینات ایف آئی اے امیگریشن حکام کے ساتھ اُن کی تلخ کلامی ہو گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق ناروے کی شہری خواتین کی تلخ کلامی کاؤنٹر پر تعینات مرد امیگریشن اہلکاروں کے ساتھ ہوئی تاہم اس دوران خاتون اہلکار غزالہ شاہین وہاں آ گئیں اور اُنھوں نے دونوں خواتین کو، جن کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ماں بیٹی تھیں، نہ صرف بالوں سے گھسیٹا بلکہ اُنھیں مارا پیٹا۔

عینی شاہدین کے مطابق وہاں پر تعینات امیگریشن کے اہلکار کچھ دیر تو خاموش تماشائی بن کر کھڑے رہے اور اس کے بعد اُنھوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا۔

اس واقعے سے متعلق جب ایک ویڈیو ٹی وی چینلوں اور سوشل میڈیا پر چلی جس میں خواتین کو امیگریشن حکام کے ساتھ جھگڑا کرتے ہوئے دکھایا گیا تو وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے اس کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دے دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس واقعے کے بارے میں سوشل میڈیا پر بحث کے بعد تحقیقات کا حکم جاری کیا گیا

تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ وزیر داخلہ کو بھجوا دی ہے جس میں ناروے کی شہری خواتین کو ذمہ دار قرار دیا گیا ہے لیکن اسی دوران غزالہ شاہین کی ان غیر ملکی خواتین پر تشدد کی ویڈیو سامنے آئی تو وزیر داخلہ کی جانب سے سخت ناراضی کا اظہار کیا گیا اور اُنھوں نے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر جنرل کو اس واقعے سے متعلق تحقیقات کا حکم دیا۔

ایف آئی اے کے حکام کے مطابق تفتیش کے دوران غزالہ شاہین کو ذمہ دار قرار دیا گیا جس کے بعد اُنھیں نوکری سے برطرف کر دیا تھا۔ غزالہ شاہین کانسٹیبل کے عہدے پر تعینات تھیں۔

تحقیقاتی کمیٹی نے شفٹ انچارج محمد ندیم کے خلاف تادیبی کارروائی کے لیے ایف آئی اے حکام کو سفارش کی ہے۔

واضح رہے کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے بھی اس واقعے کا از خود نوٹس لیا ہے اور اُنھوں نے حکام سے اس ضمن میں رپورٹ بھی طلب کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں