میرے مقتدیوں نے میرا مان رکھ لیا: خلیق الزمان

خلیق الزمان
Image caption خوش اخلاق اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک خلیق الزمان کا کہنا ہے کہ انھیں فخر ہے کہ انھوں نے عوام کو قتل کے جرم سے بچا لیا

پاکستان کے شمالی علاقے چترال کی شاہی مسجد کے خطیب خلیق الزمان نے حال ہی میں مبینہ طور پر توہین رسالت کرنے والے شخص کو مشتعل ہجوم کے غضب سے بچا کر یہ ثابت کیا ہے کہ مذہبی رہنما پاکستانی معاشرے میں مذہب کی بنیاد پر ہونے والے تشدد کو روکنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

48 سالہ خلیق الزمان گذشتہ 25 برس سے شاہی مسجد میں مذہبی یگانگت کا درس دے رہے ہیں اور اس مسجد کی دیکھ بھال کے ذمہ داری تین نسلوں سے ان کے خاندان نے سنبھال رکھی ہے۔

’جب چترالیوں کا مان ٹوٹ گیا‘

چترال: توہین مذہب کے ملزم کے طبی معائنے کا حکم

مسلم دنیا میں توہینِ مذہب کے قوانین

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا 'میرے مقتدیوں نے میرا مان رکھ لیا۔ مجھے ذرا سا خوف تھا کہ اتنے جذباتی مسئلے پر دو سو کے قریب نمازی مشتعل ہیں، جانے میری بات سنیں نہ سنیں۔'

انھوں نے بتایا 'لوگ توہین رسالت کے مبینہ مرتکب پر ٹوٹ پڑے۔ میں نے ان کو بہت مشکل سے بٹھایا اور سمجھایا کہ چترال میں امن آپ لوگوں کی وجہ سے ہے، کیوں اپنے گھر کو جلانا چاہتے ہو؟'

خلیق الزمان کا کہنا تھا کہ 'لوگ جلال میں تھے مگر میں مسجد میں کسی شخص کا خون بہتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔میں نے انھیں سمجھایا کہ ہم ایک ریاست میں رہتے ہیں۔ یہاں قانون اور ایک نظام موجود ہے تو ہم اپنے اوپر قتل کا الزام کیوں لیں۔ توہین رسالت کا قانون موجود ہے اسے اپنا کام کرنے دیں۔'

خلیق الزمان اس وقت تو اپنی جان کی پروا کیے بغیر اس شخص کو مشتعل ہجوم سے بچانے اور پولیس کے حوالے کرنے میں کامیاب رہے مگر وہ دن ان پر کافی بھاری گزرا۔

جب مشتعل ہجوم نے پولیس کے خلاف تھانے کے باہر احتجاج کیا تو نہ صرف وہ ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے تھے بلکہ خطیب خلیق الزمان پر بھی بھڑکے ہوئے تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ اگر ملزم نہ ملے تو کم از کم خطیب صاحب کو تو سامنے لایا جائے جنہوں نے اس شخص کی جان بچائی۔

Image caption 48 سالہ خلیق الزمان گذشتہ 25 برس سے شاہی مسجد میں مذہبی یگانگت کا درس دے رہے ہیں

اس ہجوم نے اشتعال میں آ کر خلیق الزمان کی گاڑی بھی نذرِ آتش کر دی۔ خلیق الزمان اس رات اپنی حفاظت کے لیے گھر بھی نہیں گئے لیکن انھیں گھر والوں کی اور اہلِ خانہ کو ان کی فکر کھائے جا رہی تھی اور وہ رات اسی کشمکش میں گزر گئی۔

انتظامیہ نے اگلے دن تمام علما سے ملاقات کی تاکہ وہ عوام کا غصہ ٹھنڈا کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔ یوں حالات کچھ سنبھلے تبھی خلیق الزمان منظر عام پر آئے۔

خوش اخلاق اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک خلیق الزمان کہتے ہیں 'مجھے فخر ہے کہ میں نے اپنے لوگوں کو قتل کے جرم سے بچا لیا۔ میرے گھر والے پہلے تو پریشان تھے مگر اب وہ مطمئن ہیں۔'

ان کا کہنا ہے کہ 'اسلام تو حکم دیتا ہے کہ کسی بھی مسئلے کے حل کے لیے ہر ذہن رکھنے والے شخص پر لازم ہے کہ وہ پہلے معاملے کی تحقیقات کرے اور ریاست اگر قوانین کی عملداری یقینی بنائے تو جرائم ختم ہو جائیں گے۔'

اسی بارے میں