’ڈان لیکس‘: طارق فاطمی نے الزامات مسترد کر دیے

فاطمی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption طارق فاطمی کو جون 2013 میں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے خارجہ امور تعینات کیا گیا تھا

پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف کے سابق معاون خصوصی برائے خارجہ امور طارق فاطمی نے ’ڈان لیکس‘ کے حوالے سے ان پر عائد کیے گئے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

طارق فاطمی کو پاکستان کے انگریزی اخبار ڈان میں گذشتہ برس فوج اور حکومت کے تعلقات کے بارے میں شائع ہونے والی خبر کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارش پر ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا ہے۔

ڈان لیکس میں کب کیا ہوا

ڈان لیکس پر وزیراعظم کا نوٹیفیکیشن، فوج کی طرف سے مسترد

’اہم اور تلخ سیاسی فیصلے کرنے کا وقت‘

بی بی سی کے پاس موجود ایک الوداعی خط میں جو کہ وزارتِ خارجہ کے افسران کے نام لکھا گیا ہے، طارق فاطمی نے اپنے اوپر لگنے والے تمام الزامات کو بےبنیاد قرار دیا ہے۔

اس خط میں انھوں نے کہا ہے کہ ’میں خود پر لگائے جانے والے تمام الزامات کو مسترد کرتا ہوں‘

اپنے طویل کریئر کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا ہے کہ ’یہ الزامات ایسے شخص کے لیے تکلیف کا باعث ہیں جو قریباً پانچ دہائیوں سے پاکستان کی خدمت کر رہا ہو۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس عرصے میں انھیں قومی سلامتی سے وابستہ کئی حساس معاملات بھی دیکھنے پڑے جس کے دوران انھیں انتہائی خفیہ اور اہم معلومات سے آگاہی بھی ہوئی۔

خیال رہے کہ 28 اپریل کو وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والی ایک دستاویز میں ’ڈان لیکس' سے متعلق انکوائری کمیٹی کی سفارشات منظور کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ خارجہ امور سے متعلق معاون خصوصی طارق فاطمی سے واپس عہدہ لے لیا گیا ہے۔

ان کے علاوہ وزارت اطلاعات و نشریات کے پرنسپل انفارمیشن افسر راؤ تحسین کے خلاف 1973 کے آئین کے ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن (ای اینڈ ڈی) رولز کے تحت کارروائی کا حکم جاری کیا تھا جس کے بعد ان سے بھی یہ عہدہ واپس لیا جا چکا ہے۔

اس حکومتی فیصلے کے خلاف پاکستانی فوج کی جانب سے سخت ردعمل آیا تھا اور پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'ڈان لیکس کے حوالے سے جاری کیا گیا اعلان انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے۔ یہ نوٹیفیکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔‘

طارق فاطمی کو جون 2013 میں وزیراعظم کا معاون خصوصی برائے خارجہ امور تعینات کیا گیا تھا۔ وہ ماضی میں امریکہ، اردن، بیلجیئم، لکزمبرگ میں پاکستان کے سفیر کے طور پر تعینات رہ چکے ہیں۔

سنہ 2004 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے پاکستان مسلم لیگ نون میں شمولیت اختیار کی تھی۔

اسی بارے میں