’مزدوروں کو یہ علم ہی نہیں کہ یوم مزدور کیا ہوتا ہے‘

پاکستان

پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں نوکری پیشہ خواتین کی تنظیم ’دہ حوا لور‘ یا حوا کی بیٹی کے زیراہتمام یکم مئی کو یوم مزدور کی مناسبت سے پہلی مرتبہ گھروں کے اندر اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی مزدور پیشہ خواتین کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کےلیے تقریب منعقد کی گئی جہاں انھیں اعزازت سے نوازا گیا۔

تقریب میں شریک ایک مزدور پیشہ خاتون شہزادی نے کہا کہ مزدور سے جو کام لیا جاتا ہے اتنا ان کو معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ انھوں نے کہا کہ 'آج مزدوروں کا دن تو منایا جارہا ہے لیکن اکثریت مزدوروں کو یہ علم ہی نہیں کہ یوم مزدور کیا ہوتا ہے۔'

انھوں نے مزید کہا کہ ہر سال یوم مزدور کے مناسبت سے مختلف پروگراموں کا انعقاد کیا جاتا ہے اور مزدور طبقے کی حالت بہتر بنانے کےلیے بڑے بڑے دعوے اور وعدے کئے جاتے ہیں لیکن اس دن کے گزرنے کے ساتھ ہی پھر ایک سال تک خاموشی چھا جاتی ہے ۔

خاتون شہزادی کے مطابق ’مزدور کی حالت ہر سال بہتر ہونے کی بجائے مسلسل خراب ہوتی جارہی ہے۔‘

بی بی سی کے فیس بک لائیو میں بات کرتے ہوئے دہ حوا لور تنظیم کی پروگرام منیجر شہوانہ شاہ نے کہا کہ پاکستان میں عام طورپر دیکھا گیا ہے کہ گھروں اور فیکٹریوں میں کام کرنے والی مزدور پیشہ خواتین کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی اور نہ ہی انکے مسائل کے حل کی طرف کوئی خاص توجہ دی جاتی ہے۔

شہوانہ شاہ کے مطابق ان کی تنظیم کی طرف سے پہلی مرتبہ مزدور پیشہ خواتین کو ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا کیا گیا اور ان کو مـختلف اعزازات سے نوازا گیا تاکہ ان کے خدمات کا اعتراف کیا جائے۔

دہ حوا لور کے ایگزیکٹو افیسر خورشیدہ بانو نے کہا کہ آج کا دن ان مزدور پیشہ خواتین کے نام ہے جو ایک طرح کی گمنامی کی زندگی گزارہے ہیں اور جن کی کاوشوں کا کبھی اعتراف نہیں کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں گھروں کے اندر کام کرنے والی خواتین کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں ہے بلکہ ایسے مزدوروں کا سارا منافع مزدور اور دوکاندار کے درمیان رابطے کام کرنے والے افراد لے جاتے ہیں۔

ان کے مطابق ایسے مزدوروں کو مختلف طریقوں سے ہراساں کیا جاتا ہے اور ان کو مارکیٹ تک رسائی نہ ہونے کے ساتھ ساتھ تربیت کی بھی ضرورت ہے تاکہ وہ انفرادی طور پر اور آزادانہ طورپر کام کرسکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں