پیمرا نے بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ کے لائسنس منسوخ کر دیے

بول ٹی وی
Image caption یہ پہلا موقع نہیں کہ بول ٹی وی کے لائسنس کا معاملہ تنازع کا شکار ہوا ہو

پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران اور منتظم ادارے پیمرا نے نجی ٹی وی چینل 'بول' اور بول انٹرٹینمنٹ کے لائسنس منسوخ کر دیے ہیں۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے پیمرا کے اِس فیصلے کو بدنظمی پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادیِ صحافت کے عالمی دن پر ایسا فیصلہ حکومت کی انتظامی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

پیمرا کی جانب سے بدھ کی صبح جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ قدم وزارتِ داخلہ کی جانب سے ان چینلز کی مالک کمپنی لبیک پرائیویٹ لمیٹڈ کے ڈائریکٹرز کی سکیورٹی کلیئرنس مسترد کیے جانے کے بعد اٹھایا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے حکم پر عامر لیاقت کا پروگرام بند

کمپنی کے ڈائریکٹرز میں ایگزیکٹ گروپ اور بول گروپ کے مالک شعیب شیخ اور ان کی اہلیہ عائشہ شعیب کے علاوہ وقاص عتیق اور ثروت بشیر شامل ہیں۔

بول ٹی وی کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پیمرا کی جانب سے لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ غیر قانونی ہے کیونکہ عدالت نے پیمرا کو ادارے کے خلاف کوئی قدم اٹھانے سے روکا ہوا ہے۔

نامہ نگار عبداللہ فاروقی کے مطابق بول ٹی وی کے میزبان عامر ضیا نے جو کہ انتظامیہ کا حصہ بھی ہیں، بی بی سی کو بتایا کہ موجودہ حکومت بول کے خلاف اِس لیے کارروائیاں کر رہی ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ یہ ادارہ پاکستان کا بیانیہ آگے بڑھا رہا ہے اور حزبِ اختلاف کی آواز کو اٹھاتا اور حقائق پیش کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Pemra

عامر ضیا کا کہنا تھا کہ 'سکیورٹی کلیئرنس ایک بہانہ ہے۔ آج تک کسی کو کلیئرنس دے کر واپس نہیں لی گئی تو یہ صرف بول کے ساتھ کیوں اور جب کاروبار کرنے کی اجازت مل جاتی ہے اور سرمایہ کاری ہو جاتی ہے تو آپ ایسے فیصلے نہیں کرسکتے علاوہ اِس کے آپ کے پاس ٹھوس ثبوت ہوں اور اگر ایسا ہے تو پیش کریں'۔

عامر ضیا کا کہنا تھا لائسنس منسوخ کیے جانے کے فیصلے کے خلاف ہر سطح پر احتجاج کریں گے اور عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹائیں گے۔

پیمرا کا کہنا ہے کہ لائسنس منسوخ کرنے کا فیصلہ اتھارٹی کے اجلاس میں سندھ کی شکایات کونسل کی سفارشات کی روشنی میں کیا گیا ہے۔

پیمرا کے مطابق اس فیصلے پر فوری عملدرآمد ہوگا اور کیبل آپریٹرز کو بھی ان چینلز کی نشریات فوری طور پر روکنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں جن کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ ادارے کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اِس معاملے پر اپنا ردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ کے صدر افضل بٹ نے پیمرا کے اِس فیصلے کو بدنظمی پر مبنی فیصلہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آزادیِ صحافت کے عالمی دن پر ایسا فیصلہ حکومت کی انتظامی حالات کی عکاسی کرتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ جہاں بھی صحافی کارکن بے روزگار ہوگا یا اس کی آواز دبانے کی کوشش کی جائے گی تو پی ایف یو جے اس کے لیے آواز بلند کرے گی۔

افضل بٹ کا کہنا تھا کہ ’ہم جائزہ لے رہے ہیں کہ کیا وجہ تھی کہ حکومت نے ادارے کے ملازمین سے سکیورٹی کلیئرنس واپس لی۔ ہم جمعرات کو بول کے ملازمین، انتظامیہ اور پیمرا کے چیئرمین سے ملاقات کے بعد آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔‘

خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ بول ٹی وی کے لائسنس کا معاملہ تنازع کا شکار ہوا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

گذشتہ برس بھی پیمرا نے ایگزیکٹ گروپ کے جعلی ڈگریوں کے سکینڈل میں مبینہ طور پر ملوث ہونے کا معاملہ سامنے آنے کے بعد اپنی شکایات کونسل کی سفارش پر ستمبر 2016 میں بول کا لائسنس معطل کر دیا تھا۔

ایک برس بعد سندھ ہائی کورٹ نے اس فیصلے کے خلاف بول کی اپیل پر حکمِ امتناع جاری کرتے ہوئے لائسنس بحال کر دیا تھا۔

لائسنس کی بحالی کے بعد بول نے باقاعدہ طور پر دسمبر 2016 میں نشریات کا آغاز کیا تھا جبکہ اس کے دوسرے چینل بول انٹرنیمنٹ (پاک نیوز) نے چند ہفتے قبل ہی نشریات شروع کی تھیں۔

بول کی نشریات کے آغاز کے بعد بھی اس کے پروگرامز تنازعات کا شکار رہے ہیں اور پیمرا نے جنوری میں اس کے پروگرام ’ایسے نہیں چلے گا‘ پر ضابطہ اخلاق کی مختلف شقوں کی مسلسل خلاف ورزی کرنے پر پابندی لگائی تھی تاہم عدالتِ عالیہ نے اس پابندی کو بھی معطل کر دیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں