چترال: توہین مذہب کے ملزم کے اہلِ خانہ کو پولیس کا تحفظ

Image caption چترال کے شہری نے 21 اپریل کو نماز جمعہ کے وقت مبینہ طور پر گستاخانہ گفتگو کی تھی جس پر مقامی لوگ مشتعل ہو گئے تھے۔

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں مبینہ طور پر مسجد میں گستاخی کے واقعہ کے بعد حالات اب معمول پر ہیں تاہم اس مبینہ گستاخی کے مرتکب شخص کے خاندان کے افراد نے آبائی علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقے میں پناہ لی ہے جہاں پولیس انھیں تحفظ فراہم کر رہی ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق چترال سے مقامی صحافیوں نے بتایا کہ علاقے میں اب صورتحال معمول پر ہے چند روز پہلے تک سکیورٹی کے حوالے سے جو بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اب اسے تقریباً واپس کر دیا گیا ہے۔ علاقے میں پائی جانے والی کشیدگی میں بھی قدرے کمی واقع ہوئی ہے۔

٭’میرے مقتدیوں نے میرا مان رکھ لیا‘

٭چترال: توہین مذہب کے ملزم کے طبی معائنے کا حکم

ادھر مبینہ طور پر گستاخی کے مرتکب ذہنی بیمار شخص کے خاندان کے افراد نے اپنا علاقہ چھوڑ کر دوسرے علاقے میں پناہ لی ہے۔

اس علاقےکے پولیس اہلکاروں نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ خاندان کے ان افراد کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے اور یہاں وہ محفوظ ہیں۔

انھوں نے اس علاقے کا نام اس خاندان کے تحفظ کی خاطر نہیں بتایا۔ خاندان کے افراد میں ملزم کی بزرگ والدہ، بیوی اور بچی شامل ہیں۔

یہ خاندان چترال سے کوئی 80 کلومیٹر دور اپر چترال میں تورخو وادی کے ایک گاؤں میں رہائش پزیر تھا۔ اب یہ خاندان محفوظ مقام کی جانب منتقل ہو گیا ہے۔

چترال کے شہری نے 21 اپریل کو نماز جمعہ کے وقت مبینہ طور پر گستاخانہ گفتگو کی تھی جس پر مقامی لوگ مشتعل ہو گئے تھے۔ اس شہری کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس کا دہنی توازن درست نہیں ہے جسے اس موقع سے شاہی مسجد کے امام نے پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ امام مسجد کا کہنا تھا کہ جب اس کے لیے قانون موجود ہے تو لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

Image caption خوش اخلاق اور ہنس مکھ شخصیت کے مالک امام مسجد خلیق الزمان کا کہنا ہے کہ انھیں فخر ہے کہ انھوں نے عوام کو قتل کے جرم سے بچا لیا

مقامی لوگوں نے مبینہ گستاخی پر سخت رد عمل کا اظہار کیا تھا جہاں انھوں نے پولیس تھانے پر ہلہ بول دیا تھا اور توڑ پھوڑ کی تھی۔ مشتعل ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے آنسو گیس کے گولے پھینکے تھے اور علاقے میں فرنٹییر کور تعینات کر دی گئی تھی۔

ایسی اطلاعات ہیں کہ مبینہ گستاخی کے مرتکب شخص کو اس کا بھائی علاج کے لیے پشاور لے جا رہا تھا اور ایک دن کے لیے انھوں نے چترال شہر میں قیام کیا تھا جہاں اچانک یہ واقعہ پیش آگیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں