لاہور: پولیس اہلکار نے ’غیرت کے نام‘ پر بھتیجی کو قتل کر دیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پولیس کے مطابق ملزم شہریار اپنی بھتیجی کائنات بی بی اور اس کے شوہر زربادشاہ کو قتل کرنے کے بعد ان کے ڈیڑھ سالہ بچے کو اغوا کرکے فرار ہو رہا تھا جب اس کو گرفتار کیا گیا۔ (فائل فوٹو)

صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کے علاقے آصف ٹاؤن میں مبینہ طور پر غیرت کے نام پر قتل کے ایک واقعے میں ایک شخص نے اپنی 19 سالہ بھتیجی اور اس کے 22 سالہ شوہر کو گولیاں مار کر قتل کر دیا ہے۔

کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی کے آرگنائزڈ کرائم ونگ لاہور کے مطابق ملزم شہریار صوبہ خیبر پختونخواہ کے شہر چارسدہ کا رہائشی اور وہیں پر پولیس میں کانسٹیبل تھا جسے ایک کارروائی کے دوران بدھ کے روز موٹروے سے گرفتار کر لیا گیا ہے۔

نامہ نگار عمر دراز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ منگل کو پیش آیا اور ملزم شہریار اپنی بھتیجی کائنات بی بی اور اس کے شوہر زربادشاہ کو قتل کرنے کے بعد ان کے ڈیڑھ سالہ بچے کو اغوا کر کے فرار ہو رہا تھا جب اس کو گرفتار کیا گیا۔

پولیس کے سامنے دورانِ تفتیش اپنے جرم کا اعتراف کرتے ہوئے شہریار نے بتایا کہ زربادشاہ دو سال قبل کائنات بی بی کو اس کی شادی کے ایک روز قبل گھر سے بھگا کر لے گیا تھا جس کے بعد انھوں نے پسند کی شادی کر لی تھی۔

قتل ہونے والے لڑکے اور لڑکی کے خاندان والے چارسدہ میں ایک ہی گاؤں کے رہائشی اور آپس میں رشتہ دار ہیں۔

سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرائم انویسٹیگیشن ایجنسی لاہور طارق مستوئی کا کہنا تھا کہ یہ غیرت کے نام پر قتل کا واقعہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بظاہر ملزم نے لڑکی کو مبینہ طور پر خاندان کی عزت اچھالنے پر جبکہ لڑکے کو اپنے خاندان کی بے عزتی کا بدلہ لینے کی پاداش میں قتل کیا۔

پولیس نے مقتولین کے بچے کو بازیاب کروا کر زربادشاہ کے بھائی یعنی اس مقدمے کی مدعی کے حوالے کر دیا ہے۔

ملزم شہریار کو بدھ کے روز میڈیا کے نمائندوں کے سامنے لایا گیا تو بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ملزم شہریار نے بتایا کہ زربادشاہ اس کا پھوپھی زاد بھائی تھا اور یہ کہ وہ کائنات بی بی کو اُس کی کسی اور سے ہونے والی شادی سے ایک رات قبل مبینہ طور پر گھر سے بھگا کر لے گیا تھا۔

ان کا دعوٰی تھا کہ ان کے خاندان کو اس بات کا علم نہیں تھا کہ زربادشاہ اور کائنات ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے اور نہ ہی ان دونوں نے کبھی شادی کرنے کی خواہش کا اظہار کیا تھا۔ ان کے اس دعوے کی تصدیق پولیس کی طرف سے مزید تفتیش کے دوران ممکن ہو پائے گی۔

تاہم زربادشاہ کے بھائی طارق عزیز نے پولیس کو بتایا کہ زربادشاہ اور کائنات بی بی نے دو سال قبل پسند کی شادی کی تھی جس کے فوراٌ بعد سے انھیں لڑکی کے خاندان کی طرف سے قتل کی دھمکیاں موصول ہو رہیں تھیں جس کی وجہ سے وہ لاہور آ کر چھپ کر زندگی گزار رہے تھے۔

قتل کے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے ایس پی طارق مستوئی نے بتایا کے ملزم شہریار کافی عرصے سے لڑکی اور لڑکے کو تلاش کر رہا تھا۔ اس نے مقامی پولیس کی مدد سے کال ڈیٹا ریکارڈز یعنی موبائل سے کی جانے والی کالز کی مدد سے لاہور میں ان کی رہائش گاہ کو تلاش کیا۔

واقعے سے کچھ روز قبل اس نے لاہور میں ایک مقامی ہوٹل میں رہائش اختیار کی جہاں سے اس نے زربادشاہ کی نقل و حمل پر نظر رکھی۔ زربادشاہ آصف ٹاؤن میں واقع ایک قالین بنانے کی فیکٹری میں کام کرتا تھا اور قریب ہی واقع ایک گھر میں اپنی بیوی اور بچے کی ساتھ رہائش پذیر تھا۔

منگل کے روز ملزم شہریار نے زربادشاہ کو اس کی فیکٹری کے سامنے گولیاں مار کر قتل کیا۔ وہاں سے وہ زربادشاہ کے گھر پہنچا جہاں اس نے کائنات بی بی کو قتل کیا اور وہاں موجود ان کے بچے کو اغوا کر کے ایک نامعلوم شخص سے موٹر سائیکل چھین کر فرار ہو گیا۔

زربادشاہ کے خاندان کی طرف سے پولیس کو اطلاع دینے کے بعد ملزم شہریار کے لاہور سے ممکنہ فرار کے راستوں کی ناکہ بندی کی گئی جس کے دوران اسے اسلام آباد جانے والی ایک بس سے گرفتار کر لیاگیا۔

ملزم شہریار نے پولیس کو بتایا کہ وہ بچے کو کسی پناہ گاہ یا کسی مستحق بے اولاد جوڑے کو دینے کا ارادہ رکھتا تھا۔ اس نے مزید بتایا کہ گھر سے نکلنے سے پہلے اس نے اپنے بھائی یعنی کائنات بی بی کے والد روح الامین کے ساتھ مشورہ کیا تھا کہ وہ لڑکے اور لڑکی کو قتل کرنے کے ارادے سے لاہور جا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں