’توہین مذہب‘: حب میں ہندو برادری نے دکانیں بند رکھیں جبکہ شہر میں سکیورٹی سخت

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مبینہ توہین مذہب کے بعد حب میں کشیدگی

بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں ایک ہندو شخص پر توہینِ مذہب کے الزام کے بعد شہر میں مظاہروں کے بعد کشیدگی کے باعث جمعے کو ہندو برادری نے اپنی دکانیں اور کاروبار بند رکھے اور حکام نے علاقے میں سکیورٹی سخت کر دی ہے۔

اس ے پہلے مقامی پولیس نے بتایا تھا کہ جمعرات کو ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے توہینِ مذہب کے ایک ملزم کے خلاف نکالے جانے والے جلوس نے تھانے پر حملہ کر کے اسے نذرِ آتش کرنے کی کوشش کی اور اس دوران مسلح مظاہرین کی جانب سے فائرنگ سے ایک بچہ ہلاک ہو گیا تھا۔

جلوس کے شرکا پولیس سے اس ملزم کو اان کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے جسے پولیس نے بدھ کو ایک شہری کی شکایت پر گرفتار کیا تھا۔

’پاکستان کا مشتعل ہجوم‘

’میرے مقتدیوں نے میرا مان رکھ لیا‘

مشال خان کے قاتل کا عدالت میں جرم کا اعتراف

مذمت ضرور کیجیے مگر احتیاط سے!

مقامی ایس پی ضیا مندوخیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ دو روز قبل ملزم کے ساتھ کسی نے ایک مبینہ طور پر توہین آمیز تصویر شیئر کی تھی جو اس نے آگے ایک ایسے گروپ میں شیئر کر دی جس کے رکن کی درخواست پر اس کے خلاف توہین مذہب اور اشتعال انگیزی کے الزامات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق مذہبی جماعتوں کی اپیل پر جمعرات کو اس معاملے پر شہر میں جلوس نکالا گیا اور بازار بند کروانے کے بعد جلوس کے شرکا نے تھانے کا گھیراؤ کر لیا۔

Image caption ایس پی ضیا مندوخیل کے مطابق پولیس اور ایف سی کے حکام نے مظاہرین سے ابتدا میں مذاکرات کیے اور کچھ لوگوں کو لاک اپ بھی دکھایا

اس جلوس میں مذہبی جماعتوں کے کارکنوں کے علاوہ عام شہری بھی شامل تھے اور انھوں نے تھانے کے باہر جمع ہو کر مطالبہ کیا کہ توہینِ مذہب کے مبینہ ملزم کو ان کے حوالے کیا جائے تاکہ وہ اسے خود سزا دے سکیں۔

ایس پی ضیا مندوخیل کے مطابق پولیس اور ایف سی کے حکام نے مظاہرین سے ابتدا میں مذاکرات کیے اور کچھ لوگوں کو لاک اپ بھی دکھایا تاکہ انھیں یقین ہو جائے کہ ملزم تھانے میں موجود نہیں بلکہ جیل میں ہے لیکن مشتعل افراد منتشر نہیں ہوئے۔

ان کے مطابق بات چیت میں ناکامی کے بعد پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی جس سے وہ مزید مشتعل ہو گئے اور دو بار تھانے پر حملے اور اسے آگ لگانے کی کوشش کی۔

پولیس افسر کا کہنا ہے کہ ہجوم میں شامل بعض مظاہرین کے پاس اسلحہ بھی تھا جن کی فائرنگ سے ایک 13 سالہ بچہ قدرت اللہ ہلاک ہو گیا ہے۔

Image caption پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس پھینکی جس سے وہ مزید مشتعل ہو گئے

ہجوم کی جانب سے ملزم کو ان کے حوالے کیے جانے کے مطالبے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے لسبیلہ کے ڈپٹی کمشنر مجیب قمبرانی کا کہنا تھا کہ 'مشتعل افراد ایسے مطالبات تو کرتے ہیں لیکن کسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت تو نہیں دی جا سکتی۔'

بقول ان کے 'یہ ایک غیر منظم ہجوم ہے جس میں مقامی تاجر اور شہری شامل ہیں، بظاہر کوئی تنظیم موجود نہیں۔'

مقامی صحافیوں نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ مشتعل افراد کا مطالبہ ہے کہ علاقے میں ہندو برادری کا کاروبار بھی بند کیا جائے۔

یاد رہے کہ ضلع لسبیلہ میں ہندو برادری ایک بڑی تعداد میں آباد ہے اور ہندوؤں کا مقدس مقام ہنگلاج بھی یہاں ہی واقع ہے جہاں ہر سال منعقد ہونے والے میلے میں شرکت کے لیے ہزاروں عقیدت مند آتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں