’دونوں ملکوں میں لڑائیاں ہوتی ہی رہتی ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد انڈیا سے پاکستان واپس بھیجے گئے طالبِ علموں کا کہنا ہے کہ انڈین فوجیوں کی مسخ شدہ لاشوں کی خبر آنے سے وہاں لوگ بھڑک تو ضرور اٹھے تھے لیکن ان کے انڈیا میں میزبانوں نے انھیں مکمل سکیورٹی فراہم کی۔

انڈیا سے واپس آنے والے پاکستانی طلبا کے گروپ میں شامل ایک طالبہ عائرہ متین نے کہا ہے کہ جب انڈیا میں یہ خبر عام ہوئی کہ دو انڈین فوجیوں کو قتل کر دیا گیا ہے تو وہاں لوگ غصے میں آ گئے جس کی وجہ سے پاکستانی طلبا ڈر گئے تھے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عائرہ نے کہا کہ انڈیا پہنچنے پر طلبا نے امرتسر میں دوپہر کا کھانا کھایا اور گولڈن ٹیمپل اور بازار کی سیر کی۔

اس سوال پر کہ جب لوگوں کو معلوم ہوا کہ بچے پاکستان سے ہیں تو ان کا ردعمل کیسا تھا تو عائرہ متین نے کہا 'ہم گولڈن ٹیمپل جا رہے تھے جب ایک شخص نے کہا کہ واہگہ بارڈر جانا ہے۔ ہم میں سے ایک طالب علم نے کہا کہ ہم واہگہ ہی سے آ رہے ہیں تو اس شخص نے کہا آر یو پاکستانی، آر یو مینٹل۔'

’طلبا کی انڈیا سے واپسی کا معاملہ سفارتی سطح پر اٹھائیں گے‘

دلی کے بارے میں عائرہ متین نے کہا کہ دلی میں ان کے میزبانوں نے انھیں اپنے ساتھ ساتھ رکھا اور 'ہم سکیورٹی ہی میں رہے'۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ پہلے دن تو خوب مزہ کیا۔ 'لیکن دہلی میں قطب مینار کے لیے جب ہم بس پر سوار ہوئے تو ہم کو بتایا گیا کہ جب ہم واہگہ بارڈر کراس کر رہے تھے تو اسی دوران دو انڈین فوجیوں کی بھی ہلاکت ہوئی تھی۔ تو ہم گھبرا گئے۔ لیکن ہمارے میزبان نے ہمیں کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں اور پاکستان اور انڈیا میں لڑائیاں تو ہوتی ہی رہتی ہیں۔'

عائرہ متین نے بتایا کہ طلبا تاج محل دیکھنے کی تیاری میں تھے اور کپڑے نکال رہے تھے۔ 'لیکن رات کے کھانے پر ایک دم سے ہوٹل میں ہلچل مچ گئی کہ ایک شدت پسند گروہ نے انڈین فوجیوں کی ہلاکت پر پاکستان سے بدلا لینے کا کہا ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

انھوں نے مزید بتایا کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ یہ سچ ہے یا جھوٹ۔

'ہماری پرنسپل آئیں اور انھوں نے بتایا کہ بچوں ایک عجیب صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور انڈین حکومت کی جانب سے بارڈر سیل ہونے کا خطرہ ہے۔ تب ہم ڈر گئے۔ لیکن ساتھ ہی افسوس تھا کہ آئے ہوئے ایک ہی دن ہوا ہے اور ابھی تو تاج محل بھی جانا تھا۔'

عائرہ متین نے بتایا کہ اٹاری پہنچنے پر امیگریشن والے بھی پریشان ہو گئے کہ 'ابھی تو آپ لوگ آئے تھے، اب جا کیوں رہے ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ پریشان نہ ہوں آپ کو سرحد پار کروا دیں گے۔'

عائرہ متین نے کہا کہ مایوسی بہت ہوئی کیونکہ یہ دورہ گذشتہ سال ستمبر میں ہونا تھا لیکن کشمیر کی صورتحال کے باعث نہ ہو سکا۔ 'اب اس مرتبہ ہم کافی خوش تھے کہ انڈیا پہنچ گئے ہیں۔'

ان کا کہنا تھا کہ انڈیا میں مظاہرین کہہ رہے تھے کہ ہمارے دو فوجی مارے گئے ہیں، ہم کم از کم 50 پاکستانی ماریں گے۔ 'ہم زیادہ ڈر گئے کیونکہ وہاں کئی لوگوں نے پہچان لیا تھا کہ ہم پاکستانی ہیں۔'

تاہم غیر سرکاری تنظیم ’روٹس ٹو روٹس‘ کے ترجمان راکیش گپتا نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لاہور کے سات مختلف سکولوں سے 27 طلبا اور 17 اساتذہ اور پرنسپل آئے تھے۔

انھوں نے بتایا کہ پاکستانی طلبا کی انڈین طلبا کے ساتھ ملاقات نہیں ہو سکی کیونکہ یہ ملاقات بدھ کو ہونی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ یہ بچے امرتسر گھومے اور دہلی میں کئی جگہوں پر گئے۔

'لیکن دو انڈین فوجیوں کی مسخ شدہ لاشوں کے ملنے کے بعد ملک میں جذبات بھڑک اٹھے تھے۔ اگر کچھ ہو جاتا تو سارا اچھا کام تباہ ہو جاتا۔ ہم نے احتیاطی طور پر اور حکومتی ایڈوائزری پر ان بچوں کو واپس پاکستان بھیجا۔'

جب راکیش گپتا سے پوچھا گیا کہ بچوں کا واپس بھیجے جانے پر کیا ردعمل تھا تو انھوں نے کہا کہ وہ نہایت مایوس تھے۔

ایک اور سوال پر انھوں نے کہا کہ وہ حالات کے بہتر ہونے کا انتظار کریں گے اور اس کے بعد انڈین بچوں کو پاکستان کا دورہ کروائیں گے۔

پروگرام کی تفصیلات

روٹس ٹو روٹس کی جانب سے پاکستان اور انڈیا کے طلبا کے تبادلوں کا پروگرام 2010 میں شروع کیا گیا تھا۔

پاکستان اور انڈیا کے مخصوص سکولوں سے طلبا کو چنا جاتا ہے۔ پہلے یہ طلبا ایک دوسرے کو خط لکھتے ہیں، پوسٹ کارڈز بھیجتے ہیں اور ایک دوسرے کو اپنی آوازوں کی ریکارڈنگز بھیجتے ہیں۔ ایسا تقریباً ایک سال تک چلتا رہتا ہے۔ ایک سال کے بعد انڈیا کے طلبہ پاکستان اور پاکستان کے طلبہ انڈیا جاتے ہیں۔

پاکستانی طلبا کے واپس جانے پر انڈیا کے طلبا نے پاکستان جانا تھا اور وہ ان طلبا سے ملتے جن کو وہ خط اور پوسٹ کارڈز لکھتے رہے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں