سپریم کورٹ: کسی سیاسی جماعت کے غیر قانونی فنڈز کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption عدالت پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کر رہی ہے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جماعت کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے غیر قانونی طریقے سے فنڈز اکٹھا کرنے کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔

'اتنی خاموشی کیوں ہے بھائی؟'

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے رہنما حنیف عباسی کی طرف سے دائر کی گئی درخواستوں کی سماعت کی۔

اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے حنیف عباسی کے وکیل اکرم شیخ نے کہا کہ عمران خان نے اپنی جماعت کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے بیرون ملک تحریک انصاف لائبیلٹی لمیٹیڈ کمپنی رجسٹرڈ کروائی تھی جس میں کوئی شخص اپنی ذاتی حیثیت میں پیسے نہیں دے سکتا تھا بلکہ اس کو بھی کمپنی کے ذریعے ہی کچھ حصہ ڈالنا پڑتا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ اس کمپنی کی مد میں عمران خان نے لاکھوں امریکی ڈالر اکٹھے کیے تھے جن کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AAMIR QURESHI
Image caption اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ نے آف شور کمپنیاں بنا کر بیرون ملک جائیداد خریدی ہے

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ عوامی نمائندگی ایکٹ اور سیاسی جماعتوں کے لیے بنائے گئے قوائد وضوابط میں بھی اس کی ممانعت ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اس طرح فنڈز اکٹھا نہیں کرسکتی۔

اس تین رکنی بینچ میں موجود جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح فنڈر اکٹھا کرنے کے معاملے کو کیسے نظر انداز کیا جاسکتا ہے۔

اُنھوں نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا یہ معاملہ کہیں اُٹھایا گیا ہے، جس پر اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے ناراض رہنما اکبر ایس بابر نے اس کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کر رکھی ہے جس کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اکرم شیخ نے استدعا کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو نااہل قرار دیا جائے

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے آف شور کمپنیاں بنا کر بیرون ملک جائیداد خریدی ہے۔

عدالت کے استفسار پر درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ عمران خان نے 1983 میں ٹیکس دینا شروع کیا تھا لیکن اس کے بعد سنہ 2015 تک جتنے بھی ٹیکس گوشوارے جمع کروائے گئے ہیں ان میں کہیں بھی آف شور کمپنیوں اور بیرون ممالک میں جائیداد کا کوئی ذکر نہیں ہے۔

اکرم شیخ کا کہنا تھا کہ اس جائیداد کے بارے میں عمران خان نے الیکشن کمیشن میں جمع کروائے گئے گوشواروں میں بھی کوئی ذکر نہیں کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ بنی گالہ کی جائیداد کے بارے میں بھی عمران خان کے بیانات میں تضاد ہے اس لیے وہ صادق اور امین نہیں رہے۔

اُنھوں نے استدعا کی کہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین کو نااہل قرار دیا جائے۔

ان درخواستوں کی سماعت 8 مئی تک ملتوی کر دی گئی ہے۔

اسی بارے میں