’اتنی خاموشی کیوں ہے بھائی۔۔۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM
Image caption پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف عدالت سے باہر جاتے ہوئے

پاکستان کی عدالت عظمیٰ میں پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور جنرل سیکرٹری جہانگیر ترین کی نااہلی کے لیے درخواستوں کی سماعت جاری ہے۔

ان درخواستوں کی کوریج کے لیے جمعرات کی صبح جب سپریم کورٹ کی عمارت میں پہنچا تو اس کا ماحول اُس سپریم کورٹ سے انتہائی مختلف نظر آیا جس میں سپریم کورٹ کا ایک پانچ رکنی بینچ پاناما لیکس پر وزیراعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کررہا تھا۔

’غیر قانونی فنڈز کے معاملے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا‘

میاں نواز شریف کے خلاف ان درخواستوں کی سماعت کے دوران نہ پارکنگ میں جگہ ملتی تھی اور نہ ہی اس کمرہ عدالت میں تل دھرنے کی جگہ ہوتی تھی جہاں ان درخواستوں کی سماعت ہوتی تھی۔

مقامی میڈیا ان درخواستوں کی سماعت کے لیے آنے والی سیاسی قیادت کی سپریم کورٹ کے بیرونی دروازے سے کوریج کرتا ہوا ان کو مرکزی دروازے تک چھوڑ کر آتا تھا۔

جمعرات کو بھی ایسی ہی درخواستوں کی سماعت تھی جن میں اثاثے چھپانے اور جھوٹ بولنے کے الزامات لگائے گئے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ پہلے والی درخواستوں میں وزیر اعظم اور ان کے بچوں کو فریق بنایا گیا تھا جبکہ ان درخواستوں میں عمران خان اور جہانگیر ترین کو نشانے پر رکھا گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ ARIF ALI
Image caption نواز شریف حکومت کے حامی

پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے خلاف ان درخواستوں کی سماعت کے لیے کمرہ عدالت کے باہر نہ تو لوگ موجود تھے اور نہ اُنھیں کنٹرول کرنے کے لیے پولیس اہلکار۔ ایسی ہی صورت حال کمرہ عدالت کے اندر بھی تھی۔ کمرہ عدالت میں متعدد نشستیں خالی پڑی تھیں اور ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے یہاں پر حزب مخالف کی سب سے مقبول جماعت کی قیادت کے خلاف درخواستوں کی سماعت نہیں ہو رہی بلکہ جیسے یونین کونسل کے کسی چیئرمین کی نااہلی کے لیے دائر کی گئی درخواست کی سماعت ہو رہی ہے۔

حکمراں جماعت کے رہنما جن میں درخواست گذار حنیف عباسی، دانیال عزیز اور محسن شاہنواز رانجھا شامل ہیں، کمرہ عدالت میں داخل ہوتے تو ان کے چہروں پر طمانیت نظر آتی تھی جبکہ پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان اور دیگر رہنماؤں کے چہروں پر تھکاوٹ اور پرشانی کی اثرات نمایاں ہوتے تھے۔ وزیر اعظم کی نااہلی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران یہ صورت حال اس کے برعکس ہوتی تھی۔

ان درخواستوں کی سماعت کے دوران بینچ میں شامل جج صاحبان جب ایسے ریمارکس دیتے یا درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کرتے جو اُن کی نظر میں پاکستان تحریک انصاف کی قیادت اور عمران خان کے خلاف ہوتے تو کمرہ عدالت میں اس جماعت سے وابسطہ افراد نفی میں سر ہلا دیتے۔

درخواست گذار کے وکیل اکرم شیخ کی معاونت کے لیے رکن قومی اسمبلی دانیال عزیز اپنی نشست سے اُٹھتے تو پاکستان تحریک انصاف کے ایک ترجمان فواد حسین اشارہ کر کے انھیں کہتے کہ وہ اکرم شیخ کی جگہ خود روسٹم پر آجائیں اور دلائل دیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ FAROOQ NAEEM
Image caption پاکستانی وزیر دفاع خواجہ آصف عدالت سے باہر جاتے ہوئے

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے سپریم کورٹ کے احاطے میں غیر متعقلہ افراد کو ان درخواستوں کے بارے میں میڈیا پر آکر تبصرہ کرنے سے روک دیا ہے جس کی وجہ سے حکمراں جماعت کافی ناراض دکھائی دیتی ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ صرف وکلا اس معاملے پر میڈیا سے بات کرسکتے ہیں لیکن وہ بھی سپریم کورٹ کی عمارت کے باہر۔

عدالتی حکم کے بعد حکمراں جماعت کے رہنما اپنے وکیل سے پوچھتے رہے کہ اگر وہ اس معاملے پر بات کریں گے تو اُنھیں کہیں توہین عدالت کا نوٹس تو نہیں مل جائے گا۔

اس جماعت کے رہنماؤں کا موقف ہے کہ وزیر اعظم اور اُن کے بچوں کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے بعد عدالتی حکم کے باوجود پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے سپریم کورٹ کے باہر ان کی قیادت کا میڈیا ٹرائل کیا جبکہ عمران خان کے خلاف درخواست کی سماعت پر اُنھیں ایسا کرنے سے روک دیا گیا ہے۔

سماعت کے دوران حکمراں جماعت کے رہنما نے کمرہ عدالت میں موجود میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ وہ اپنے کیمرہ مینوں سے کہیں کہ وہ اپنے کیمرے سپریم کورٹ کی عمارت میں داخل ہونے والے دروازے کے سامنے لے جائیں تاکہ عدالت کے حکم کی خلاف ورزی بھی نہ ہو۔

عمران خان کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے باہر موجود میڈیا اتنا متحرک نظر نہیں آرہا جتنا نواز شریف کے خلاف درخواستوں کی سماعت کے دوران متحرک تھا جس پر وہاں سے گزرنے والے وکلا کیمرہ مینوں اور میڈیا کے نمائندوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہتے تھے:

'اتنی خاموشی کیوں ہے بھائی'

اسی بارے میں