’شمالی کوریا نے پاکستان سے باضابطہ شکایت کی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سفارتخانے کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں محکمہِ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے مسلح اہلکار ان کے ایک سفارتکار کے گھر میں نو اپریل کو گھس آئے تھے اور انھوں نے سفارتکار اور ان کی بیوی پر بندوقیں تان لی تھیں۔

پاکستان میں شمالی کوریا کے سفارتخانے نے ملک میں ٹیکس حکام پر ان کے ایک سفارتکار اور ان کی بیوی کی مار پیٹ کرنے کا الزام لگایا ہے۔

جمعرات کے روز پاکستانی حکام نے اس بات کی تصدیق کی کہ سفارتخانے نے پاکستانی حکام کو ایک شکایت نامہ بھیجا ہے۔

محکمہِ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سربراہ شعیب صدیقی نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’یہ ایک انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے اور ہم نے کوریائی سفارتخانے کے الزامات کی جانچ کے لیے ایک تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔‘

سفارتخانے کا دعویٰ ہے کہ کراچی میں محکمہِ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے مسلح اہلکار ان کے ایک سفارتکار کے گھر میں نو اپریل کو گھس آئے تھے اور انھوں نے سفارتکار اور ان کی بیوی پر بندوقیں تان لی تھیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کا کہنا ہے کہ انھوں نے سفارتخانے کی جانب سے دائر کی گئی تحریری شکایت کی کاپی دیکھی ہے جس میں محکمہِ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے سربراہ سے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کے لیے کہا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس تحریری شکایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے سے پاکستان اور شمالی کوریا کے سفارتی تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔

اے ایف پی کے مطابق شکایت نامے میں کہا گیا ہے کہ نو اپریل کو دس مسلح افراد کراچی میں سفارتکار کی رہائش گاہ میں داخل ہوئے اور ان کی بیوی کو ’بالوں سے گھسیٹا، دونوں کو تھپڑ مارے اور ان پر بندوقیں تان لیں۔‘

اے ایف پی نے شکایت نامے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اہلکاروں نے سفارتکار اور ان کی بیوی کی تصاویر بھی کھینچیں۔

27 اپریل کو بھیجے گئے شکایت نامے میں کہا گیا ہے کہ اس واقعے کی سکیورٹی کیمروں نے ویڈیو بنائی ہے۔

شعیب صدیقی کا کہنا ہے کہ وہ ان ویڈیوز کا جائزہ لیں گے تاکہ ان افراد کی شناخت ہو سکے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں