’میں نے اس وقت بھی تاج محل نہیں دیکھا تھا‘

Image caption شایان نے تاج محل کی تعمیر اور اس کی تاریخ کے حوالے سے کافی کچھ پڑھ رکھا ہے تاہم وہ ایک دفعہ اس کو قریب سے دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔

ہندو شدت پسند تنظیم کی دھمکیوں کے بعد انڈیا کے دورے پر گئے ہوئے پاکستانی طلبا قبل از وقت وطن واپس بھیجے جانے پر ناخوش اور مایوس ہیں۔

لاہور گرامر سکول انٹرنیشنل سے تعلق رکھنے والے بتیس طلبا اور دس اساتذہ کا ایک وفد ایک غیر سرکاری تنظیم کی دعوت پر یکم مئی کو انڈیا گیا تھا۔

انڈیا پاکستان: ’طلاق یافتہ جوڑے کی مانند‘

انڈیا پاکستان جھگڑا اور فنکاروں کے بیانات

طلبا کے اس وفد کو اپنا دورہ مختصر کرنے کے بعد گذشتہ بدھ کو پاکستان واپس آنا پڑا تھا۔ وفد میں شامل بچوں کو واپسی کے فیصلے سے منگل کی رات آگاہ کیا گیا تھا۔ اس سے قبل انڈیا دیکھنے کے لیے ان کو صرف ایک ہی دن میسر آ سکا تھا جس میں انھوں نے انڈیا کے دارالخلافہ دہلی کی سیر کی۔

واہگہ کے راستے لاہور پہنچنے کے اگلے روز بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وفد میں شامل طالبِ علم شایان عقیل کا کہنا تھا کہ ان اور ان کے ساتھیوں کو قبل از وقت واپسی کا سن کر سخت مایوسی ہوئی اور کچھ غصہ بھی آیا۔

’اگلے روز ہمیں تاج محل دیکھنے جانا تھا جو کم از کم میرے لیے اس دروے کا بنیادی مقصد بھی تھا۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی کہ آپ انڈیا آئیں اور تاج محل بھی نہ دیکھ پائیں۔‘

شایان کے مطابق دورہ مختصر کر کے واپس جانے کی وجہ ان کو یہ بتائی گئی تھی کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان سرحد پر مبینہ کشیدگی کا واقعہ ہوا تھا۔ ایسی صورتحال میں شایان کا کہنا تھا کہ انھیں قطعی طور پر خوف محسوس نہیں ہوا۔

انھیں اندیشہ تھا کہ ایسا ہو سکتا ہے کیونکہ ایک مرتبہ پہلے بھی ان کا ایک دورہ حالات ناسازگار ہونے کی وجہ سے مؤخر ہو چکا تھا۔ اس لیے وہ ذہنی طور پر ایسی کسی صورتحال کے لیے تیار تھے۔ تاہم ان کی تاج محل دیکھنے کی خواہش دوسری دفعہ بھی پوری نہ ہو سکی۔ اس سے قبل بھی ایک مرتبہ شایان انڈیا جا چکے ہیں۔

’میں نے اس وقت بھی تاج محل نہیں دیکھا تھا، امی مجھے رشتہ داروں کے گھر چھوڑ کر چلی گئیں تھیں۔ اور اس دفعہ حکومت نے نکال دیا۔‘

شایان نے تاج محل کی تعمیر اور اس کی تاریخ کے حوالے سے کافی کچھ پڑھ رکھا ہے تاہم وہ ایک دفعہ اس کو قریب سے دیکھنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ شایان کی والدہ محترمہ عقیل بھی دو مرتبہ انڈیا جا چکیں ہیں۔

ان کے خیال میں جس طرح شایان اور اس کے ساتھی زمینی راستے سے بارڈر پار کر کے گئے تھے ایسے مواقع زندگی میں بہت کم ملتے ہیں۔ ’میں خوش ہوں کہ میں نے اپنے بیٹے کو بھیجا اور اس کو امرتسر اور گولڈن ٹیمپل دیکھنے کا موقع ملا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ان کی خواہش ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات بہتر ہو جائیں۔ ’ویسے بچوں کے ساتھ تو ایسا نہیں ہونا چاہیے تھا۔ بچے تو بچے ہوتے ہیں اور اس دورے کا تو مقصد ہی امن کے قیام کے لیے کوشش تھا۔‘

ان کا کہنا تھا کہ دونوں طرف کے عوام شاید لڑائی جھگڑا نہیں چاہتے، وہ امن چاہتے ہیں۔ زیادہ تر کشیدگی میں میڈیا اور سیاستدانوں کا کردار زیادہ ہے۔ ’اور بچوں کا تو اس میں کہیں کوئی کردار نہیں ہوتا اور نہ ہی ہونا چاہیے۔‘

’اگر بچوں کو یہ دورہ مکمل کیا جانے دیا جاتا تو ان کے لیے زندگی بھر کا یادگار تجربہ ہوتا اور ہمیشہ ان کے دل میں رہتا کے انڈیا ایک اچھا ملک ہے مگر اب ان کے اس خوف کی تصدیق کر دی گئی کہ حالات خراب ہی رہیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ اس طرح بچوں کے ذہنوں میں یہ آ گیا ہو گا کہ بچوں کو بھی برداشت نہیں کیا گیا اور ان کو واپس بھیج دیا گیا ہے۔

دورے کی تفصیلات بتاتے ہوئے لاہور گرامر سکول انٹرنیشنل کی سربراہ ڈاکٹر شازیہ اقبال خان کا کہنا تھا یہ کلچرل ایکسچینج یعنی بچوں کے لیے ایک ثقافتی دورہ تھا جو بنیادی طور پر انڈیا میں ایک غیر سرکاری تنظیم کے تعاون سے گزشتہ سال ہونا تھا مگر پاکستان اور انڈیا کے خالات خراب ہونے کی وجہ سے نہ ہو سکا۔

’اس سے قبل اسی طرح کے دورہ پر انڈیا سے بھی طلبا پاکستان آ کر جا چکے ہیں۔ ایسے دوروں کا مقصد دونوں ملکوں کے لوگوں کی درمیان ہم آہنگی بڑھانا ہے۔‘

ڈاکٹر شازیہ اقبال خان خود بھی وفد میں شامل تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے اور ان کے طلبا نے کسی بھی موقع پر خود کو انڈیا میں غیر مخفوظ یا خطرے میں محسوس نہیں کیا۔ وفد میں آٹھ سے لیکر چودہ سال تک کی عمر کے بچے شامل تھے۔ ان کی میزبان تنظیم اور بھارتی سرکاری حکام نے ان کی آرام کا خیال بھی رکھا اور ان کو بچوں کو بخیریت پاکستان واپس میں مدد بھی کی۔

تاہم دورہ مختصر کر کے بچوں کو واپس لانے کا فیصلہ انھوں نے انڈین حکام کے کہنے پر بچوں کی حفاظت کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تمام بچوں کے پاکستان بخیریت پہنچنے کی بعد پاکستان پہنچنے والی وفد کی آخری رکن تھیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں