چمن: افغان فورسز کی فائرنگ سے نو شہری ہلاک، سرحد بند

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
چمن میں سرحد پار سے فائرنگ میں ہلاکتیں

پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں حکام کا کہنا ہے کہ افغانستان سے متصل سرحدی شہر چمن کے قریب گولہ باری سے نو افراد ہلاک اور کم از کم 42 زخمی ہو گئے ہیں جس کے بعد چمن سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔

سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح سرحد پار سے گولہ باری کے بعد شروع ہونے والی دو طرفہ فائرنگ کا سلسلہ تاحال جاری ہے۔

پاکستان فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی ایک پریس ریلیز کے مطابق پاکستان اور افغانستان کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کے درمیان رابطہ ہوا اور پاکستان کے ڈی جی ایم او میجر جنرل شیر شمشاد مرزا نے پاکستانی دیہات اور سکیورٹی فورسز پر بلا اشتعال فائرنگ کی شدید مذمت کی ہے۔

اس واقعے کے بعد پاکستانی دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کیا اور شدید احتجاج ریکارڈ کروایا۔

پاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق افغان ناظم الامور کو بتایا گیا ہے کہ ’افغانستان کی جانب سے چمن کے علاقے میں بلااشتعال فائرنگ کے نتیجے میں متعدد افراد مارے گئے جبکہ کئی زخمی بھی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔‘

٭ اشرف غنی نے دورۂ پاکستان کی دعوت مسترد کر دی

٭ 33 روزہ بندش کے بعد پاک افغان سرحد کھول دی گئی

بیان کے مطابق ’افغان حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کے اس سلسلے کو روکنے کے لیے اقدامات کرے۔‘

اس سے قبل چمن کے ضلعی ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے ایم ایس ڈاکٹر اختر نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ ہسپتال میں لاشیں لائی گئیں ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوجی کے شبعہ تعلقات عامہ کے ڈی جی میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ میں کہا ہے کہ افغان سرحدی فورس نے چمن سرحد کے قریب ایک گاؤں میں مردم شماری کی سکیورٹی پر تعینات ایف سی کے اہلکاروں پر فائرنگ کی۔

شبعہ تعلقات عامہ کے مطابق افغان حکام کو سرحد پر منقسم دیہات کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں مردم شماری کے بارے میں پیشگی طور پر آگاہ کر دیا گیا تھا تاہم افغان سرحدی فورس 30 اپریل سے مردم شماری کی راہ میں رکاوٹیں ڈال رہی ہے۔

کلی لقمان اور کلی جہانگیر منقسم دیہات ہیں جو کہ سرحد کے دونوں جانب واقع ہیں۔

پاکستان میں دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طاہر مسعود نے بی بی سی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں میں مردم شماری جیسا عمل شروع کرنے سے پہلے چار مختلف سطحوں پر رابطے کیے جاتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ مقامی سطح ر یقیناً رابط کیا گیا ہو گا اور انھیں اس بارے میں عمل ہو گا۔

انھوں نے کہا کہ فائرنگ کرنا تو انتہائی قدم ہے اور ایسا اقدام کرنے سے گریز کیا جانا چاہیے۔

میجر جنرل ریٹائرڈ طاہر مسعود نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد کے بارے میں بات کرتے ہوئِے کہا کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان کے نکتہ نگاہ سے بین الاقوامی سرحد ہے اور اس کے پار افغانستان کی کوئی عملداری نہیں جس افغانستان کو سمجھنا چاہیے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یہ پاکستان اور افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار اور دیگر جنوبی علاقوں کے درمیان اہم گزرگاہ ہے

چمن میں انتظامیہ کے ایک اہلکار نے فون پر بی بی سی کو بتایا کہ گولے افغانستان کی جانب سے فائر کیے گئے۔

نامہ نگار محمد کاظم نے بتایا کہ انتظامیہ کے افسر کے بقول یہ گولے جمعہ کو علی الصبح فائر کیے گئے جو کہ پاکستانی سرحد کے حدود میں واقع دیہاتوں میں گرے۔

انتظامیہ کے اہلکار کے مطابق افغانستان کی جانب سے فائر کیے جانے والے گولوں کے بعد سرحدی علاقے میں کشیدگی پیدا ہوگئی ہے۔

چمن کوئٹہ شہر سے اندازاً 120 کلومیٹر کے فاصلے پر شمال میں واقع ہے۔

یہ پاکستان اور افغانستان کے دوسرے بڑے شہر قندہار اور دیگر جنوبی علاقوں کے درمیان اہم گزرگاہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں