پاناما لیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے اجتناب کریں: سپریم کورٹ

Image caption تاثر دیا جا رہا ہے کہ پانچوں ججز نے وزیر اعظم کو 'جھوٹا' قرار دیا ہے جبکہ فیصلے میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا: سپریم کورٹ

پاکستان کی عدالت عظمی نے سیاست دانوں اور ذرائع ابلاغ کو متنبہ کیا ہے کہ پاناما لیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے اجتناب کیا جائے اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو پھر ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے پاناما لیکس کے بارے میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی تشکیل سے متعلق سماعت کی۔

* ’پاناما ون ختم، پاناما ٹو شروع ہو گیا ہے‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت کے دوران سٹیٹ بینک کے قائم مقام گورنر ریاض الدین ریاض اور سکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کے سربراہ ظفر حجازی عدالت میں پیش ہوئے اور اُنھوں نے اپنے اپنے اداروں میں کام کرنے والے گریڈ اٹھارہ اور اس سے اوپر کام کرنے والے سینکٹروں افسران کے ناموں کی فہرست عدالت میں پیش کی۔

عدالت نے پاناما لیکس سے متعلق قائم کی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی میں شامل ممکنہ افسران کے نام سوشل میڈیا پر آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کے سربراہان اگر اپنی خفیہ معلومات کا تحفظ نہیں کرسکتے تو یہ اُن کی ناکامی ہے۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل سے پہلے ہی اس کو متنازع بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ تحقیقاتی کمیٹی کا اعلان آج ہی کیا جائے گا اور اس بارے میں باضابطہ نوٹیفکیشن جاری ہوگا۔

پاناما لیکس کی تحقیقات چھ اداروں کے افسران کریں گے جن میں ایف آئی اے، نیب، سٹیٹ بینک، سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن، آئی ایس آئی اور ایم ائی کے نمائندے شامل ہوں گے۔

اس تین رکنی بینچ میں شامل جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ان اداروں کی طرف سے عدالت عظمی کو جو نام بھجوائے گئے تھے تو ان کے بارے میں چیف جسٹس اور ان کے سٹاف کو بھی معلوم نہیں تھا لیکن وہ نام سوشل میڈیا پر کیسے آگئے۔

اُنھوں نے کہا کہ جن افراد کے نام بھیجے گئے ان کی سیاسی وابستگیوں کے بارے میں جو معلومات آرہی ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ افراد غیر جانبدارانہ طریقے سے تحقیقات نہیں کر سکیں گے۔

جسٹس عظمت سعید کا کہنا تھا کہ ’ہمارے ساتھ کوئی کھیل نہ کھیلے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کی اجازت دی جائے گی۔‘

جسٹس اعجاز افضل نے کسی بھی سیاسی رہنما کا نام لیے بغیر کہا کہ وہ پاناما لیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کی غلط تشریح کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ سیاسی رہنما میڈیا اور جلسوں میں یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ پاناما لیکس سے متعلق درخواستوں کی سماعت کرنے والے پانچوں ججز نے وزیر اعظم کو ’جھوٹا‘ قرار دیا ہے جبکہ فیصلے میں ایسا کچھ نہیں کہا گیا۔

اُنھوں نے کہا کہ عدالت عوام کے جذبات کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے نہیں کرتی بلکہ آئین اور قانون کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلے کیے جاتے ہیں۔

ان اداروں کی طرف سے عدالت عظمی کو جو نام بھجوائے گئے تھے تو ان کے بارے میں چیف جسٹس اور ان کے سٹاف کو بھی معلوم نہیں تھا لیکن وہ نام سوشل جن افراد کے نام بھیجے گئے۔

جسٹس عظمت سعید
AFP

اُنھوں نے کہا کہ چاہے آسمان گرے یا زمین پھٹے سپریم کورٹ قانون کے مطابق ہی فیصلہ دے گی۔

جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ دونوں اطراف سے جو شور مچایا جارہا ہے عدالت کو اس سے کوئی غرض نہیں ہے لیکن اس فیصلے کی غلط تشریح میں ججز کی عزت اچھالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اُنھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ اس معاملے میں صبر سے کام لے رہی ہے اور عدالت عظمی کے صبر کو مزید نہ آزمایا جائے۔

بینچ میں موجود جسٹس عظمت سعید نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کو سوشل میڈیا اور ذرائع ابلاغ کو کنٹرول کرنا آتا ہے لیکن عدالت عظمی میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔

اسی بارے میں