پاکستان میں نیو یارک ٹائمز کا اداریہ ’صاف‘

سنسرشپ
Image caption محمد حنیف کے نیو یارک ٹائمز میں لکھے گئے کالم کا عکس

امریکی اخبار دی نیو یارک ٹائمز کے عالمی ایڈیشن کے پاکستانی ناشر، ایکسپریس ٹربیون نے پانچ مئی کو معروف صحافی اور تجزیہ نگار محمد حنیف کا تحریر کیا ہوا کالم اخبار سے حذف کر دیا ہے۔

'دی ہیٹ ٹرائی اینگل' یعنی نفرت کی تکون نامی اس کالم میں محمد حنیف نے پاکستانی طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کی فوج کو دی جانے والی گرفتاری اور اس کے بعد جاری ہونے والی ویڈیو اور فوج اور حکومت کے درمیان ڈان لیکس کے معاملے پر ہونے والے تنازع کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔

Image caption پانچ مئی کا نیو یارک ٹائمز جس میں محمد حنیف کا کالم حذف کر دیا گیا

’صحافی سیلف سینسرشپ پر مجبور‘

پاکستانی میڈیا میں صحافتی معیار کتنا اہم؟

پاکستانی تاریخ میں صحافیوں پر پابندیاں

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کئی صارفین نےایکسپریس ٹربیون میں ہونے والی سنسرشپ کو نمایاں کیا اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption شرمین عبید چنائے کی ٹویٹ

پاکستان کی جانب سے دو مرتبہ آسکر ایوارڈ جیتنے والی ہدایت کار شرمین عبید چنائے نے اپنی ٹویٹ میں اخبار کی تصویر کے ساتھ لکھا ' پاکستان میں ملنے والے آج کے نیویارک ٹائمز میں سنسر شپ الرٹ۔ محمد حنیف کا مضمون۔'

کراچی سے تعلق رکھنے والی صحافی اور مصنفہ صنم مہر نے اپنی ٹویٹ میں کہا 'شاید ایکسپریس ٹربیون کو محمد حنیف کا کالم پسند نہیں آیا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption صنم مہر کی ٹویٹ

دوسری جانب جیو نیوز سے وابستہ صحافی بینظیر شاہ نے اپنی ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ 'پھر ایکسپریس ٹربیون کی دی نیو یارک ٹائمز کے ساتھ شراکت ہے ہی کیوں؟'

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption بینظیر شاہ کی ٹویٹ

یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ایکسپریس ٹربیون نے دی نیو یارک ٹائمز کے عالمی ایڈیشنز میں چھپی ہوئی تحریریں اور تصاویرں حذف کر دی ہوں۔ ایک روز قبل شائع ہونے والے اخبار میں بھی چیچنیا میں ہم جنس پرستوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف لکھا گیا کالم حذف کر دیا گیا تھا۔

ان عالمی ایڈیشنز میں جن خبروں کو حذف کیا جاتا ہے اس پر دی نیو یارک ٹائمز کی جانب سے یہ بھی درج ہوتا ہے کہ 'یہ مضمون یا تصویر نیو یارک ٹائمز کے پاکستان میں موجود ناشر نے حذف کیے ہیں۔ دی نیو یارک ٹائمز اور اِس کے ملازمین کا اِس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Sanam Maher

گذشتہ کچھ سالوں سے ایکسپریس ٹربیون میں ہونے والی سنسر شپ کا ریکارڈ رکھنے والی صحافی صنم مہر نے بتایا کہ یہ سنسرشپ مضامین، تصاویر اور مختلف کالمز پر لاگو ہوتی رہی ہے۔

اس سے قبل 2014 میں دی نیو یارک ٹائمز کی صحافی کارلوٹا گال کا مضمون 'پاکستان کو اسامہ بن لادن کے بارے میں کیا معلوم تھا' بھی ایکسپریس ٹربیون نے شائع نہیں کیا تھا جس کے بعد بھی مختلف صحافیوں اور نیوز ویب سائٹس نے اس سنسر شپ پر سوالات اٹھائے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں گذشتہ کچھ عرصے سے سنسرشپ پر مختلف حلقوں میں شدید بحث جاری ہے۔

دو دن قبل ہونے والے صحافتی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر ملک بھر میں کئی تنظیموں نے مظاہرے کیے تھے اور ملک کے سب سے پرانے انگریزی اخبار ڈان کی حمایت کا اظہار کیا تھا جس پر پچھلے سال فوج اور حکومت کے درمیان اختلافات کے بارے میں لکھے گئے ایک مضمون کی وجہ شدید دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔

ڈان لیکس کے نام سے مشہور اس تنازع کے حل کرنے کے لیے پچھلے سنیچر کو حکومت کی جانب سے ایک اعلامیہ سامنے آیا تھا لیکن فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کے ذریعے اس نوٹیفیکیشن کی سر عام رد کر دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption 2014 میں کارلوٹا گال کا مضمون حذف کر دیا گیا تھا

پاکستان میں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا میں میں سنسر شپ کی تاریخ نئی نہیں ہے۔ فوجی آمر ضیا الحق کے دور میں صحافیوں پر کوڑے پڑتے رہے ہیں اور اس کے علاوہ اخبارات وہ جگہ خالی چھوڑ دیتے تھے جہاں حکومت وہاں لگے ہوئے مضامین کو حذف کرنے کا کہتی تھی۔

سن 2000 کے عشرے میں فوجی آمر صدر مشرف نے ایک طرف الیکٹرونک میڈیا کو ملک میں فروغ دیا لیکن دوسری جانب ایمرجنسی بھی نافذ کی جس کے وجہ سے مختلف چینلز پر پابندی بھی لگائی گئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں