'چھوٹی'زبانیں، بڑی لاپروائی

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
مردم شماری میں چھوٹی زبانیں نظر انداز کیوں؟

ناروے سے تعلق رکھنے والے ماہرِ لسانیات گیورگ مورگن سٹائرن نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان کا ضلع چترال لسانی اعتبار سے دنیا کا سب سے زرخیز علاقہ ہے اور ایک چھوٹے سے ضلعے میں کم از کم دس مختلف زبانیں بولی جاتی ہیں۔

٭ گلگت بلتستان: قدیم زبانیں اور دائمی محرومی

* پاکستان کی ’چھوٹی‘ زبانیں

صرف چترال ہی نہیں، پاکستان کے بیشتر علاقے زبانوں کے لحاظ سے خاصے مالامال ہیں، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں چار مختلف لسانی خاندانوں کی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ ہند یورپی (اردو، پنجابی، پشتو وغیرہ)، دراوڑی (براہوی)، چینی تبتی (بلتی)، جب کہ ہنزہ کی بروشسکی ایسی زبان ہے جو دنیا کی کسی اور زبان سے نہیں ملتی، اس لیے لامحالہ اسے بھی ایک الگ خاندان قرار دینا پڑے گا۔ دوسری جانب یہاں عربی (افریقی ایشیائی خاندان) سمجھنے اور بولنے والے بھی لاکھوں میں ہیں۔

پاکستان میں بولی جانے والی 74 میں سے درجنوں زبانوں کے سر پر معدومی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ کم از کم ایک زبان 'بدیشی' ایسی ہے جس کے بولنے والے کسی فرد کا پتہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ کئی زبانوں کے بولنے والوں کی تعداد ایک ہزار سے بھی کم ہے اور وہ آس پاس کی دوسری زبانوں کے غلبے تلے دب کر ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

یہ تعداد محض اندازے ہیں جو اکثر و بیشتر مغربی ماہرینِ لسانیات نے برسوں دور دراز پہاڑی علاقوں میں کام کر کے اخذ کیے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کے پاس سرکاری سطح پر اس ضمن میں کوئی اعداد و شمار موجود نہیں۔

ان زبانوں کی شناخت، ترویج اور تحفظ کے لیے حکومتی سطح پر کیا کوششیں ہو رہی ہیں؟

اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ حالیہ مردم شماری میں پاکستان میں بولے جانے والی 74 میں سے صرف نو کی گنتی ہو رہی ہے، جب کہ بقیہ 65 زبانوں کو 'دیگر' کے کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔

ان زبانوں کے بولنے والوں کا کہنا ہے کہ مردم شماری میں ان زبانوں کی عدم شمولیت دراصل ان 'چھوٹی' زبانیں بولنے والوں کے حصے میں آنے والی محرومیوں کے عمل کا تسلسل ہے۔

اسلام آباد میں واقع ایک غیر سرکاری ادارہ فورم فار لینگویج انیشی ایٹیو (ایف ایل آئی) ان کم بولے جانے والی زبانوں کے تحفظ کے لیے کام کر رہا ہے۔ اس ادارے کے سربراہ فخرالدین نے بی بی سی کو بتایا کہ 19 برس بعد ہونے والی 'حالیہ مردم شماری کے فارم میں صرف نو زبانوں کو لانا اور باقی کو نظرانداز کرنے کا مطلب یہ ہے جیسے اس ملک میں یہ زبانیں وجود ہی نہیں رکھتیں۔ اگر آپ صرف نو زبانوں کو فوقیت دے رہے ہیں اور باقی کو پیچھے رکھتے ہیں تو آپ ان کو مانتے ہی نہیں ہیں۔'

ان زبانوں سے لاپروائی کا سب سے بڑا نقصان گلگت بلتستان کو ہوا ہے کہ اس 73 ہزار مربع کلومیٹر کے علاقے کی ایک زبان بھی مردم شماری کے فارم کی زینت بننے سے قاصر رہی ہے۔ اس کے علاوہ ضلع چترال اور ضلع کوہستان کی بھی کوئی زبان شامل نہیں ہے۔ اسی طرح سندھ کے ضلع تھرپارکر میں ڈھٹکی، مارواڑی اور دوسری زبانیں بولی جاتی ہیں جن کو پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے۔

جنوبی وزیرستان میں ایک قدیم زبان اورمڑی بولی جاتی ہے۔ تحریکِ انصاف کے عمران خان کی والدہ، جن کے نام پر شوکت خانم ہسپتال قائم کیا گیا ہے، اورمڑی زبان بولنے والے برکی قبیلے سے تعلق رکھتی تھیں۔

ماہرِ لسانیات روزی خان برکی کہتے ہیں کہ 'اس زبان کے بولنے والوں کی شدید بدقسمتی یہ رہی ہے کہ وہاں امن و امان کی صورتِ حال اور فوجی آپریشنوں کے باعث وہ مکمل طور پر بےگھر ہو کر ملک کے دوسرے حصوں میں جانے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ اس طرح یہ شاید پاکستان کی واحد زبان ہے جس کے پاس اپنی زمین نہیں رہی۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورتِ حال میں اس زبان کا مستقبل سخت خطرے میں ہے۔'

مردم شماری کے فارم میں اس زبان کو بھی جگہ نہیں مل سکی کہ کم از کم یہی پتہ چل جاتا کہ اورمڑی بولنے والے ہیں کتنے اور کہاں کہاں آباد ہیں۔

اس بارے میں محمکۂ شماریات کا کیا موقف ہے جو مردم شماری کا انعقاد کرتا ہے؟ رکن مردم شماری بورڈ حبیب اللہ نے بی بی سی کو بتایا: 'مردم شماری فارم میں زبانیں بولنے والوں کی آبادی اور ان کی جغرافیائی نمائندگی پر توجہ دی گئی ہے، چنانچہ ہر صوبے سے دو زبانیں شامل کی گئی ہیں: بلوچستان سے بلوچی اور براہوی، سندھ سے سندھی اور اردو، پنجاب سے پنجابی اور سرائیکی، خیبر پختونخوا سے پشتو اور ہندکو، جب کہ کشمیر سے کشمیری شامل کی گئی ہے۔'

حبیب اللہ کو خود بھی احساس ہے کہ اس فارم میں خامیاں ہیں: 'اس فارم میں صفر سے لے کر نو تک صرف دس ہندسے شامل کیے جا سکتے ہیں، اس سلسلے میں مقدمے بھی دائر کیے گئے اور میں خود کئی ججوں کے سامنے پیش ہوا اور ان کو یہی عذر پیش کیا کہ اس فارم کی خامی ہے جس کی وجہ سے ہم مزید زبانیں شامل نہیں کر سکتے، ورنہ ہمیں خود محسوس ہو رہا ہے۔'

لیکن ایف ایل آئی کے فخرالدین کو اس سے اتفاق نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ 'یہ کوئی منطق نہیں ہے۔ ہم نے حکومت کو تجویز دی تھی کہ آپ بقیہ زبانوں کا کوڈ بےشک نہ لکھیں، لیکن دیگر کی آپشن کے بجائے ایک خانہ بنا دیں جس کے اندر مردم شماری کا عملہ ہاتھ سے زبان کا نام لکھ دے۔ تاہم کا ہمیں یہ جواب دیا گیا کہ اب چونکہ لاکھوں فارم پرنٹ ہو چکے ہیں اس لیے ان میں تبدیلی ممکن نہیں ہے۔ لیکن بعد میں یہ فارم دوبارہ پرنٹ کیے گئے اور ان میں ہماری تجویز کردہ سفارشات شامل نہیں کی گئیں۔'

آخر حکومت ایسا کیوں کر رہی ہے؟ فخرالدین کہتے ہیں: 'دراصل حکومت ہر جگہ آسانی چاہتی ہے، یہ مردم شماری بھی سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ہو رہی ہے۔ خود یہ کرنے والے نہیں تھے۔ حالانکہ ایک فارم میں ترمیم کرنا اتنا مسئلہ نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہر کام میں شارٹ کٹ چاہتے ہیں۔'

ہمارے خیال سے ایک مسئلہ سیاسی بھی ہے۔ نظرانداز شدہ زبانیں بولنے والے تعداد میں کم اور ملک کے دور دراز علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں اس لیے ان کی سیاسی طاقت اتنی نہیں ہے کہ اقتدار کی اونچی دیواروں کے اندر ان کی شنوائی ہو سکے۔

یہی وجہ ہے کہ سیاسی لحاظ سے طاقتور زبانوں کے نقارخانے میں ان زبانوں کی آواز سننے والا کوئی نہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں