پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پر بحث نہیں ہو سکتی: آئی جی ایف سی

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ان جھڑپوں میں عام شہری بھی زخمی ہوئے ہیں

افغان سرحد سے متصل صوبہ بلوچستان کے شہر چمن میں دونوں ملکوں کی سکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپ کے بعد اتوار کے روز فلیگ میٹنگ ہو رہی ہے جس میں متنازع سرحدی پٹی کی حدود کا تعین کیا جائے گا تاکہ یہ تنازع حل ہو سکے۔

یہ بات اتوار کے روز کوئٹہ میں انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل ندیم احمد نے پریس کانفرنس میں کہی۔

میجر جنرل ندیم احمد نے بتایا کہ جب پانچ مئی کو جھڑپیں جاری تھیں تو افغان حکومت نے پاکستانی حکومت کو جنگ بندی کی درخواست دی جس کے بعد پاکستانی سکیورٹی فورسز نے دوپہر دو بج کر بیس منٹ پر جنگ بندی کی تھی۔

چمن گولہ باری:500 متاثرہ خاندانوں کے لیے کیمپوں کا انتظام

افغان فورسز کی فائرنگ سے نو شہری ہلاک، سرحد بند

انھوں نے بتایا کہ پانچ مئی کو فلیگ میٹنگ ہوئی جس میں کچھ امور زیر بحث آئے۔ 'یہ ہمارا اٹل فیصلہ ہے کہ پاکستان کی بین الاقوامی سرحد پر بحث نہیں ہو سکتی اور ہم اس پر کسی قسم کی خلاف ورزی کو قبول نہیں کریں گے۔ اس کے دفاع کے لیے جس حد تک جانا پڑا جائیں گے۔'

آئی جی ایف سی نے کہا کہ اتوار کو فلیگ میٹنگ ہو رہی ہے جو جی ایچ کیو اور افغان ملٹری کے درمیان روابط کا نتیجہ ہے۔

'آج افغانستان اور پاکستان کی سروے ٹیمیں اس سرحد کا جائزہ لیں گی جس کو افغانستان متنازع بنانا چاہتا ہے اور سرحد کے اس حصے کو ڈیمارکیٹ کر کے اس تنازع کو ختم کرنے کی پوری کوشش کی جائے گی۔'

جھڑپوں کی تفصیلات

انسپیکٹر جنرل فرنٹیئر کور میجر جنرل ندیم احمد نے پریس کانفرنس میں کہا کہ افغانستان کے ساتھ سرحد کے قریب پاکستان کے گاؤں میں مردم شماری جاری تھی جب افغان بارڈر پولیس نے اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔

مردم شماری کے چوتھے روز 29 اپریل کو مردم شماری کی ٹیم کلی لقمان اور کلی جہانگیر میں مردم شماری کے لیے گئی تھی۔ یہ وہ گاؤں ہیں جو سرحد کی دونوں جانب ہیں لیکن ہماری ٹیمیں پاکستان میں مردم شماری کر رہی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

30 اپریل کو اس حوالے سے افغان بارڈر پولیس کے مقامی کمانڈر کے ساتھ میٹنگ کی گئی جس میں انھوں نے کہا کہ 'ہمیں تین چار روز دے دیں پھر اس کے بعد آپ اپنا کام دوبارہ شروع کر لیجیے گا۔'

آئی جی ایف سی نے بتایا کہ حکام نے افغان بارڈر پولیس کو دوبارہ چار مئی کو بتایا کہ کل یعنی پانچ مئی سے مردم شماری کا کام دوبارہ شروع کیا جا رہا ہے بالخصوص ان دو گاؤں کے ان حصوں میں جو پاکستان میں آتے ہیں۔

'افغان بارڈر پولیس چار اور پانچ مئی کی درمیانی رات کو افغانستان میں پڑنے والے ان دو دیہات کے حصوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی حصے میں داخل ہوئے اور لوگوں کے ساتھ زور زبردستی کی اور ان کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا۔ ان رہائشیوں کے مکانوں پر قبضہ کر کے پوزیشنیں سنبھال لیں۔'

اس حوالے سے جب افغان بارڈر پولیس سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اس کا جواب دینے سے انکار کر دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

'ہمارے بہادر اور غیور لوگوں نے افغان بارڈر پولیس کے اہلکاروں کی مزحمت کی تو انھوں نے ایک بچے کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور اپنی پوزیشنیں مستحکم کر لیں۔'

اس کے بعد چار اور پانچ مئی کی رات کو ایف سی اور پاکستانی فوج نے آپریشن کا آغاز کیا اور صبح افغان بارڈر پولیس کے اہلکاروں کو پاکستانی علاقے سے نکال دیا۔

'ہم چاہتے تو زیادہ نفری اور طاقت کے ساتھ علاقہ بہت جلدی خالی کرا لیتے لیکن پاکستان اور افغانستان میں شہری آبادی ہونے کے باعث ہم نے ایسا نہیں کیا۔'

انھوں نے مزید بتایا کہ علاقے سے نکالے جانے پر افغان اہلکاروں نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 40 سے زیادہ شہری زخمی ہوئے اور 12 افراد ہلاک ہوئے۔

'ہم نے ان چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جہاں سے شہری آبادی پر فائر آ رہا تھا۔ ان کی پانچ چیک پوسٹیں مکمل طور پر تباہ کی گئیں اور افغان بارڈر پولیس اور سکیورٹی فورسز کے 50 اہلکار ہلاک اور 100 سے زیادہ زخمی ہوئے۔'

انھوں نے کہا کہ اس واقعے کی تمام تر ذمہ داری افغان بارڈر پولیس کے کمانڈر اور سپین بولڈک میں تعینات کمانڈروں کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں