پاک افغان سرحد پر تازہ کشیدگی کا ذمہ دار کون؟

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان میں حکام کے مطابق اس جھڑپ میں نو افراد جبکہ افغان حکام کے مطابق ان کے چار سپاہی ہلاک ہوئے ہیں

پاکستان اور افغانستان کے درمیان گذشتہ روز چمن کے قریب سرحد پر جھڑپ اب تک کی سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوئی لیکن اس کی وجہ کیا تھی؟

کابل میں پاکستان اور افغان ذرائع سے بات کرنے سے بھی صورتحال واضح نہیں ہوسکی ہے۔

پاکستان کہتا ہے کہ افغان حکام کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی اور جواب صرف حملے کی صورت میں ملا۔ دوسری جانب افغان حکام کہتے ہیں کہ پاکستان کو اس علاقے میں نہ جانے کے لیے کہا گیا تھا۔

سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل تنازع 28 اپریل کو شروع ہوا جب پاکستانی فوج نے افغان حکام کو اطلاع دی کہ وہ چمن سرحد کے قریب دو دیہاتوں میں مردم شماری کے لیے جا رہے ہیں۔ وہاں افغان فورسز نے انہیں روک دیا اور کہا کہ یہ افغان علاقہ ہے۔ اس پر پاکستانی حکام نے انہیں نقشوں کی مدد سے سمجھانے کی کوشش کی لیکن تنازع حل نہ ہوا لہٰذا اس روز ٹیم واپس لوٹ گئی۔

پاکستانی ذرائع کے مطابق اس کے بعد متعدد مرتبہ افغان حکام سے رابطہ کیا گیا اور اپنی خواہش کا اظہار کیا گیا لیکن چار مئی تک کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ اس کے بعد ٹیم ایک مرتبہ پھر وہاں روانہ کی گئی اور پھر جھڑپ ہوئی اور بارہ افراد ہلاک ہوگئے۔

تاہم افغان میڈیا میں سرکاری ذرائع کے حوالے سے کہا جا رہا ہے کہ پاکستان کو وہاں جانے سے منع کیا گیا تھا لیکن پاکستان نے بات نہیں سنی۔ نتیجے میں چمن سرحد بند کر دی گئی اور تعلقات ایک مرتبہ پھر تلخی کی انتہا تک پہنچ گئے ہیں۔ جھڑپ کے بعد دو فلیگ میٹنگز اب تک بے نتیجہ رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption چمن سرحد کے قریب دو دیہاتکے بارے میں افغان فورسز کا کہنا ہے کہ یہ افغان علاقہ ہے

افغانستان کے نائب وزیر اطلاعات سید آغا حسین سنگچرکی نے پاکستانی صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ پاکستانی فوجی افسران نے سرحدی جھڑپ میں اپنی غلطی تسلیم کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی فوج کے اہلکاروں نے ہمارے ساتھ ملاقاتوں میں اپنی غلطی کا اعتراف کیا ہے۔‘

لیکن اس بارے میں پاکستانی فوج نے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ تاہم افغان وزیر نے اس واقعے کے ذمہ داروں کے تعین کے لیے آزادانہ تحقیقات کے امکانات کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔

بعض پاکستانی حکام اس جھڑپ کی ذمہ داری قندہار میں افغان پولیس کے سربراہ عبدالرازق پر بھی ڈالتے ہیں لیکن افغانستان میں اولسی جرگہ میں ان کی خدمات کو سراہا گیا ہے۔

دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات دہشت گردی سے نمٹنے کے معملے پر اختلافات کی وجہ سے اکثر کشیدہ رہتے ہیں۔ لیکن حالیہ چند ماہ میں تھوڑی سے تلخی جان لیوا ثابت ہو رہی ہے جس سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ غصے کی سطح خطرناک حد تک بڑھی ہوئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان کہتا ہے کہ افغان حکام کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی اور جواب صرف حملے کی صورت میں ملا

پاکستان میں حکام کے مطابق ان حالات سے دو ہزار خاندان متاثر ہوئے ہیں۔ علاقے میں نقل وحرکت بند ہے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کا مشورہ دیا گیا ہے۔

اسلام آباد کی جانب سے اس واقعے کو ایک مرتبہ پھر تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ پاکستان کی جانب سے تین اعلیٰ سطحی وفود کے کابل کے دورے کے تناظر میں تعلقات میں بہتری کی کوششوں کو روکنے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

افغانستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنی مکمل مدد کا یقین دلانے کی خاطر فوجی اور پارلیمانی وفود نے کابل کے حالیہ دنوں میں دورے کیے تھے اور تعلقات میں گرمجوشی کی امید کی جا رہی تھی۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کہہ چکے ہیں کہ افغانستان حالیہ دنوں میں ان کی کوششوں کا مثبت جواب نہیں دے رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں