انڈین خاتون نے ہائی کمیشن سے خود رابطہ کیا: دفترِ خارجہ

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Tahir
Image caption محمد طاہر کی ڈاکٹر عظمی کے ساتھ ملاقات ملائیشیا میں ہوئی

پاکستانی دفترِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ پاکستان آکر پسند کی شادی کرنے والی خاتون ڈاکٹر عظمیٰ نے انڈین ہائی کمیشن سے خود رابطہ کیا تھا اور اپنے وطن واپس جانے کی درخواست دی تھی۔

خیال رہے کہ اس سے قبل انڈین خاتون کے ساتھ پسند کی شادی کرنے والے پاکستانی نوجوان طاہر علی نے الزام عائد کیا تھا کہ اُن کی بیوی کو اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن کے اہلکاروں نے اغوا کیا ہے جس کے بارے میں اُنھوں نے متعقلہ پولیس کو درخواست دی ہے۔

اس حوالے سے پولیس کا موقف تھا کہ درخواست تو اُنھیں موصول ہوگئی ہے تاہم اس پر قانونی کارروائی اس لیے نہیں ہوسکتی کہ انڈین ہائی کمیشن میں تعینات افراد کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے۔

اتوار کی شب پاکستانی دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ’انڈین ہائی کمیشن نے وزارتِ خارجہ کو بتایا ہے کہ ایک انڈین شہری مِس عظمیٰ جن کی عمر 20 سال ہے نے ان سے رابطہ کیا اور وطن واپس پہنچانے کی درخواست کی۔‘

انڈین ہائی کمیشن کے مطابق خاتون کا دعویٰ ہے کہ انھوں نے طاہر نامی شخص سے شادی کی۔ انھوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ انھیں شادی کے بعد علم ہوا کہ طاہر پہلے سے شادی شدہ ہیں اور ان کے چار بچے ہیں۔‘

سیکرٹریٹ سرکل کے سب ڈویژنل پولیس افسر اشرف شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ درخواست کے بارے میں دفتر خارجہ کے حکام کو بھی آگاہ کردیا گیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ اس درخواست پر قانونی کارروائی کے لیے اسے پولیس کی لیگل برانچ کو بھجوا دیا گیا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پولیس براہ راست کسی بھی سفارت خانے سے رابطہ نہیں کرسکتی اس کے لیے اُنھیں پہلے دفتر خارجہ کے حکام کو آگاہ کرنا ہوتا ہے۔

درخواست گزار محمد طاہر نے بی بی سی کے نامہ نگار شہزار ملک کو بتایا کہ انڈین شہری ڈاکٹر عظمیٰ کے ساتھ ان کی ملاقات ملائیشیا میں ہوئی۔ جس کے بعد 3 مئی کو انھوں نے صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر بونیر میں شادی کی۔ شادی کے دو دن بعد وہ اپنی بیوی کے ساتھ انڈیا کا ویزہ لگوانے کے لیے اسلام آباد میں واقع انڈین ہائی کمیشن گئے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ وہاں پر تعینات بھارتی عملے نے ان کی بیوی کو تو اندر بلا لیا جبکہ انہیں باہر رکنے کو کہا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Tahir
Image caption پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طاہر علی جب اپنی بیوی سے ملنے انڈین ہائی کمیشن جائے گا تو اُنھیں سکیورٹی فراہم کی جائے گی

اُنھوں نے کہا کہ ان کی بیوی کا تعلق انڈیا کے دارالحکومت نئی دلی سے ہے اور وہ شادی کی غرض سے یکم مئی کو واہگہ بارڈر کے راستے پاکستان آئی تھیں۔

طاہر علی کے مطابق ان کی بیوی کے بھائی نے نئی دلی سے فون کرکے بتایا تھا کہ پاکستان میں انڈین ہائی کمیشن میں تعینات محمد عدنان سے مل لیں تو وہ انڈین ویزہ حاصل کرنے میں معاونت فراہم کرے گا۔

درخواست گزار کا کہنا تھا کہ دونوں میاں بیوی اسی سلسلے میں انڈین ہائی کمیشن گئے تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ چار گھنٹے انتظار کرنے کے بعد جب انہوں نے دوبارہ انڈین ہائی کمیشن کے حکام سے رابطہ کیا تو ان کاموقف تھا کہ نہ تو اُن کی بیوی عظمیٰ ہائی کمیشن میں ہے اور نہ ہی اُن کا موبائل فون اُن کے پاس ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ انڈین ہائی کمیشن کے اس رویے کے بعد اُنھوں نے پولیس کو درخواست دی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Tahir
Image caption ڈاکٹر عظمی اور محمد طاہر نے 3 مئی کو صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر بونیر میں شادی کی

طاہر علی کے مطابق انڈین ہائی کمیشن نے ان سے رابطہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اُن کی بیوی اپنی مرضی سے ہائی کمیشن میں رکی ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ بھارتی حکام نے کہا ہے کہ وہ 8 مئی کو انڈین ہائی کمیشن میں آجائیں جہاں پر اُن کی ملاقات ان کی بیوی سے کروائی جائے گی۔

طاہر علی کے مطابق انڈین سفارت کاروں نے انہیں اپنا پاکستانی پاسپورٹ بھی ساتھ لانے کو کہا ہے اور اُن کا کہنا ہے کہ ملاقات کے بعد فیصلہ کرلیں کہ اُنھوں نے پاکستان میں رہنا ہے یا پھر انڈیا جانا ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں کے ایسے رویے سے دلبرداشتہ ہوکر اب وہ انڈیا نہیں جائیں گے۔

دوسری جانب پولیس حکام کا کہنا تھا کہ طاہرعلی جب اپنی بیوی سے ملنے انڈین ہائی کمیشن جائیں گے تو اُنھیں سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں