پاناما لیکس: تفتیش کے ضوابطِ کار متعین کرنے کے لیے اجلاس

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption اس تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیاء کا تعلق پولیس گروپ سے ہے اور وہ آج کل ایف آئی اے میں ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن کے عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بیٹوں کے خلاف پاناما لیکس کے معاملے میں تحقیقات کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کا پہلا اجلاس پیر کے روز فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں منعقد ہو رہا ہے جس میں سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں تفتیش کے دائرہ کار کے بارے میں ضوابطِ کار طے کیے جائیں گے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ابتدائی اجلاس میں سپریم کورٹ کے ایڈیشنل رجسٹرار اس چھ رکنی تحقیقاتی کمیٹی کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے احکامات کے بارے میں بریفنگ دیں گے۔

’پاناما لیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے اجتناب کریں‘

پاناما لیکس کی جے آئی ٹی کی نگرانی کے لیے تین رکنی بینچ تشکیل

تحقیقاتی کمیٹی کے ارکان جوڈیشل اکیڈمی پہنچ گئے ہیں اور معاونت کے لیے وہ اپنے اپنے اداروں سے متعلقہ عملہ بھی ساتھ لائے ہیں۔

یہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم اپنی ابتدائی رپورٹ 22 مئی کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

دوسری جانب وزارتِ خزانہ نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اس تحقیقاتی کمیٹی کے لیے ابتدائی طور پر دو کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں جبکہ سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کے ارکان کی حفاظت کے لیے اسلام آباد پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں پر مشتمل سکواڈ تعینات کردیا ہے۔

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں قائم ہونے والی اس کمیٹی میں سٹیٹ بینک میں تعینات گریڈ 21 کے افسر عامر عزیز، سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بلال رسول، قومی احتساب بیورو کے گریڈ 20 کے افسر عرفان نعیم منگی کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید اور ملٹری انٹیلیجنس کے بریگیڈیئر کامران خورشید شامل ہیں۔

پاناما لیکس کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے اس کمیٹی کے حوالے سے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اس تحقیقاتی ٹیم کو ضابطۂ فوجداری، نیب ایکٹ اور ایف آئی اے ایکٹ کے تحت تحقیقات کرنے کا حق ہوگا۔

عدالت کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات میں معاونت کے لیے ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص اس ٹیم کے سامنے پیش ہونے یا کسی بھی سوال کے بارے میں زبانی یا تحریری بیان دینے سے انکاری ہو تو اس بارے میں عدالت عظمیٰ کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ اس ضمن میں مناسب احکامات جاری کیے جا سکیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو اپنے تفصیلی فیصلے میں وزیر اعظم اور اُن کے دونوں بیٹوں سے کہا تھا کہ وہ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی عمل کا حصہ بنیں جبکہ اُن کی صاحبزادی مریم نواز کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

عدالت نے اپنے حکم میں وفاقی حکومت کو کہا ہے کہ وہ اس تحققیاتی ٹیم کے لیے ابتدائی طور پر دو کروڑ روپے کا بندوبست کرے تاکہ اُنھیں کوئی پریشانی نہ ہو۔ عدالت نے سیکرٹری داخلہ کو اس تحقیقاتی ٹیم کی سیکیورٹی کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالتی حکم کے مطابق یہ تحقیقاتی ٹیم دوماہ میں اپنی تفتیش مکمل کرنے کی پابند ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں