میرے ساتھ زبردستی ہوئی ہے، واپس نہیں جاؤں گی: ڈاکٹر عظمیٰ

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ TAHIR ALI
Image caption ڈاکٹر عظمیٰ نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کردیا ہے۔

اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن میں پناہ لینے والی ڈاکٹر عظمیٰ نے اپنے پاکستانی شوہر طاہر علی پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اور اُن کے اہلخانہ انھیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔

یہ دعویٰ انھوں نے اسلام آباد کی ایک مقامی عدالت میں دائر کی گئی ایک درخواست میں کیا ہے۔

انڈین خاتون نے ہائی کمیشن سے خود رابطہ کیا: دفترِ خارجہ

ڈاکٹر عظمی اور پاکستانی لڑکے طاہر علی کی شادی اس ماہ کی تین تاریخ کو ہوئی تھی جبکہ وہ یکم مئی کو واہگہ بارڈر کے راستے نئی دلی سے پاکستان آئی تھیں۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق ڈاکٹر عظمی نے مقامی مجسٹریٹ حیدر علی کی عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ ان کی شادی بندوق کی نوک پر کروائی گئی ہے جبکہ وہ شادی کی غرض سے نہیں بلکہ اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے پاکستان آئی تھیں۔

تاہم ابھی تک پاکستان میں ڈاکٹر عظمی کے رشتہ دار سامنے نہیں آئے ہیں۔

ڈاکٹر عظمی کا کہنا ہے کہ شادی کے بعد انھیں تشدد کا نشانہ بنانے کے علاوہ ان کی امیگریشن کی دستاویزات بھی چھین لی گئیں۔

اُنھوں نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کردیا ہے اور کہا ہے کہ جب تک وہ بحفاظت اپنے وطن واپس نہیں پہنچ جاتیں اس وقت تک وہ اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن سے باہر نہیں جانا چاہتیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Tahir
Image caption پولیس حکام کا کہنا ہے کہ طاہر علی جب اپنی بیوی سے ملنے انڈین ہائی کمیشن جائے گا تو اُنھیں سکیورٹی فراہم کی جائے گی

یاد رہے کہ طاہر علی اپنے اہلیہ کے ہمراہ 5 مئی کو ویزے کی معلومات لینے کے لیے بھارتی ہائی کمیشن گئے تھے۔ اس موقع پر ڈاکٹر عظمی ہائی کمیشن کے اندر چلی گئیں جبکہ طاہر علی کو باہر ہی روک لیا گیا تھا۔

پہلے تو انڈین ہائی کمیشن کے حکام نے انھیں کہا تھا کہ ان کی بیوی ہائی کمیشن میں موجود نہیں لیکن ایک روز کے بعد ہائی کمیشن نے پاکستانی دفتر خارجہ سے رابطہ کیا اور بتایا کہ ڈاکٹر عظمی اپنی مرضی سے ہائی کمیشن میں رکی ہیں۔

ڈاکٹر عظمی کے شوہر طاہر علی پیر کو اپنے بیوی سے ملنے کے لیے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن میں پہنچے تاہم ان کی اپنی منکوحہ سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔

دوسری طرف ڈاکٹر عظمی کے سُسر نذیر الرحمن نے اس بات کی تردید کی ہے کہ ان کے شوہر یا سسرال والوں نے ڈاکٹر عظمی کو تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ ان دونوں کی شادی رضامندی سے ہوئی ہے اور ان کے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Tahir
Image caption ڈاکٹر عظمی اور محمد طاہر نے 3 مئی کو صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر بونیر میں شادی کی

نذیر الرحمن کا کہنا ہے کہ دونوں کا نکاح ڈگر پیر بابا کی ایک مقامی عدالت میں ہوا ہے اور جج نے انڈین لڑکی سے پوچھا تھا کہ ان کی زبردستی شادی تو نہیں کروائی جا رہی جس کا ڈاکٹر عظمی نے نفی میں جواب دیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ ڈاکٹر عظمی کو معلوم تھا کہ طاہر علی پہلے سے شادی شدہ اور چار بچوں کا باپ ہے۔

نذیر الرحمن نے دعویٰ کیا کہ ڈاکٹر عظمی نے جب ویزے کے لیے پاکستانی ہائی کمیشن میں درخواست دی تھی تو رشتہ داروں میں اُن کا (نذیر الرحمن) کا نام دیا تھا۔

اُنھوں نے کہا کہ اُن کا بیٹا اور بہو گھر والوں کی اجازت سے ویزے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن گئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں