پاناما لیکس کے لیے جے آئی ٹی کے اجلاس کی کارروائی کھلے عام کی جائے: تحریک انصاف

عمران تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پاناما کیس کے لیے بنائی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے اجلاس تک میڈیا کو ویسی ہی رسائی دی جائے جیسی سپریم کورٹ میں جاری سماعت میں تھی۔

خیال رہے کہ جے آئی ٹی کا پہلا اجلاس گذشتہ روز ہوا، جب کہ وہ اپنی ابتدائی رپورٹ 22 مئی کو سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔

٭’پاناما لیکس سے متعلق عدالتی فیصلے کی غلط تشریح سے اجتناب کریں‘

٭پاناما لیکس کے بعد کیا ہوا؟

منگل کو اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان اور ان کی پارٹی کے سینیئر رہنماؤں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد پارٹی کی جانب سے جاری کیے گئے اعلامیے میں کہا گیا کہ یہ کیس عوام کا ہے اور اس تفتیشی کمیٹی کے عمل میں ضروری ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے خاندان کے معاشی امور کا مکمل جائزہ لیا جائے اور شفاف طریقے سے تحقیق کی جائے۔

اس کے علاوہ میٹنگ میں پی ٹی آئی نے حکومت پر زور دیا کہ وہ ڈان لیکس جیسے 'حساس معاملے' پر بنائی جانے والی رپورٹ کو عوام کے سامنے لائے۔ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ ڈان لیکس میں ملوث لوگوں کو بچانے کی ہر کوشش کو پی ٹی آئی ناکام بنا دے گی۔

پریس ریلیز میں یہ بھی بتایا گیا کہ پی ٹی آئی کے رہنماؤں کو نواز شریف کی جانب سے مبینہ طور پر اسامہ بن لادن سے مالی مدد لینے کے بارے میں تفصیلات بھی دی گئیں۔

یاد رہے کہ وزارتِ خزانہ نے سپریم کورٹ کے احکامات کی روشنی میں اس تحقیقاتی کمیٹی کے لیے ابتدائی طور پر دو کروڑ روپے جاری کر دیے ہیں جبکہ سیکرٹری داخلہ نے کمیٹی کے ارکان کی حفاظت کے لیے اسلام آباد پولیس اور رینجرز کے اہلکاروں پر مشتمل سکواڈ تعینات کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ واجد ضیا کا تعلق پولیس گروپ سے ہے اور وہ آج کل ایف آئی اے میں ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل امیگریشن کے عہدے پر اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔

ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا کی سربراہی میں قائم ہونے والی اس کمیٹی میں سٹیٹ بینک میں تعینات گریڈ 21 کے افسر عامر عزیز، سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کمیشن کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر بلال رسول، قومی احتساب بیورو کے گریڈ 20 کے افسر عرفان نعیم منگی کے علاوہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے بریگیڈیئر نعمان سعید اور ملٹری انٹیلیجنس کے بریگیڈیئر کامران خورشید شامل ہیں۔

پاناما لیکس کے بارے میں عدالتی فیصلے پر عمل درآمد سے متعلق جسٹس اعجاز افضل کی سربراہی میں قائم تین رکنی بینچ نے اس کمیٹی کے حوالے سے اپنے حکم میں کہا تھا کہ اس تحقیقاتی ٹیم کو ضابطۂ فوجداری، نیب ایکٹ اور ایف آئی اے ایکٹ کے تحت تحقیقات کرنے کا حق ہو گا۔

عدالت کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقات میں معاونت کے لیے ملکی اور غیر ملکی ماہرین کی خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ اگر کوئی شخص اس ٹیم کے سامنے پیش ہونے یا کسی بھی سوال کے بارے میں زبانی یا تحریری بیان دینے سے انکاری ہو تو اس بارے میں عدالت عظمیٰ کو فوری طور پر آگاہ کیا جائے تاکہ اس ضمن میں مناسب احکامات جاری کیے جا سکیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے 20 اپریل کو اپنے تفصیلی فیصلے میں وزیر اعظم اور اُن کے دونوں بیٹوں سے کہا تھا کہ وہ پاناما لیکس سے متعلق تحقیقاتی عمل کا حصہ بنیں جبکہ اُن کی صاحبزادی مریم نواز کے بارے میں کچھ نہیں کہا گیا۔

اسی بارے میں