’بہن بھائیوں سے مل کر جو خوشی ہوئی ہے وہ بیان نہیں کر سکتی‘

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
65 برس بعد بھائیوں سے ملاقات

'زندگی کا وہ وقت جو والدین سے دور گزرا وہ کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے ، اب اتنے عرصے بعد آئی ہوں تو والدین نہیں ہیں لیکن بہن بھائیوں سے مل کر جو خوشی ہوئی ہے وہ بیان نہیں کر سکتی۔'

یہ الفاظ ہیں جان سلطانہ خاتون کے جو پینسٹھ سال بعد ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر سے اپنے آبائی علاقے دیر میں عشیری درہ پہنچی ہیں ۔

جان سلطانہ اپنی پشتو زبان میں باتیں کر رہی تھیں۔ اگرچہ ان کی زبان میں روانی نہیں تھی لیکن وہ اپنا موقف اچھی طرح بیان کر لیتی ہیں۔ اپنے گھر میں وہ کشمیری زبان بولتی ہیں ۔

بی بی سی سے خصوصی گفتگو میں انھوں نے کہا کہ انھیں وطن واپس اپنے کی بہت خوشی ہے لیکن والدین کا ذکر کرتے ہوئے ان کی انکھوں میں آنسو بھر آئے۔ جان سلطانہ نے کہا میں واپس آگئی ہوں لیکن میرے ماں باپ اب اس دنیا میں نہیں رہے ۔

ان سے جب پوچھا کہ زندگی کیسے گزری تو ان کا کہنا تھا کہ زندگی اچھی گزری لیکن جو وقت والدین کے بغیر گزرا اس کی کمی شدت سے محسوس ہوتی ہے اور شاید وہ کمی کبھی پوری نہیں ہو سکے گی ۔

انھوں نے کہا کہ 'یہ کمی مجھے اکثر محسوس ہوتی تھی تو آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے تو بچے پوچھتے تھے کہ کیوں رو رہی ہیں۔ میں ان سے یہی کہتی تھی کہ اپنا علاقہ اور ماں باپ، بہن بھائی سب یاد آتے ہیں۔'

جان سلطانہ انتہائی کم عمری میں اپنے علاقے سے چلی گئی تھیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے مرضی سے اپنے شوہر کے ساتھ کشمیر چلی گئی تھیں ۔

انھوں نے بتایا کہ اس وقت پاسپورٹ وغیرہ نہیں ہوتا تھا اس لیے وہاں جانے میں کوئی مشکل نہیں تھی۔ ان سے جب پوچھا کہ کیا یہ واقعہ ہندوستان کی تقسیم سے پہلے کا ہے تو انھوں نے کہا کہ انھیں اس بات کا علم نہیں ہے۔

جان سلطانہ نے بتایا کہ ان کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں جن کے اپنے بھی بچے ہیں جس کی وجہ سے گھر میں رونق لگی رہتی ہے۔ دو بیٹے استاد ہیں اور ایک بیٹا اپنا کاروبار کرتا ہے ۔

جان سلطانہ نے کہا کہ یہ سب ایک خواب کی طرح لگتا ہے۔ وہ اپنے وطن واپس آئی ہیں تو یقین نہیں آتا۔ انھوں نے بتایا کہ جس وقت وہ اپنے آبائی علاقے سے گئی تھیں اس وقت وہ اپنے بھائیوں کو ماں کی گود میں چھوڑ کر گئی تھیں۔ 'ایک بھائی تین ماہ کا تھا اور ایک کی عمر کوئی تین سال تھی اب انھیں دیکھا تو ان کی سفید داڑھیاں ہیں۔'

جان سلطانہ کے ساتھ ان کے چھوٹے بیٹے ضیا منٹو ، بیٹی اور نواسہ بھی ان کے ساتھ یہاں آئے ہیں۔

ضیا منٹو نے بی بی سی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے گوگل کی مدد سے اور والدہ سے علاقے کا نام اور ان کے والدین اور بھائیوں کے نام تلاش کیے لیکن اس علاقے کے بارے میں انٹرنیٹ پر کوئی زیادہ معلومات دستیاب نہیں ہیں ۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد انھوں نے فیس بک پر دیر کے پی کے کے صفحے پر پیغام بھیجا جس میں والدہ کا تعارف اور علاقے کے نام وغیرہ لکھے تھے۔ یہ صفحہ رحیم الدین کا ہے اور انھوں نے تمیر گرہ میں مقامی تاجر اکرام اللہ سے رابطہ کیا۔ اس کے بعد اکرام اللہ نے کوششیں کیں اور جس میں بالآخر انھیں کامیابی حاصل ہوئی۔

ضیا منٹو نے بتایا کہ ان کی والدہ بھائیوں سے ملاقات کے لیے بےتاب تھی اور انھیں بار بار یہی کہتی تھیں کہ انھیں اپنے بھائیوں سے ملاقات کرنی ہے اور وہ ان سے ملنے کے لیے اپنے گاؤں جانا جاتی ہے ۔

انھوں نے کہا کہ وہ اپنی والدہ کو یہ نہیں بتا سکتا تھا کہ دونوں ممالک کے سفارتی تعلقات میں ان دنوں تناؤ پایا جاتا ہے اور پاسپورٹ اور ویزے کا حصول اتنا آسان کام نہیں ہے۔

جان سلطانہ گزشتہ روز تیمر گرہ میں مقامی تاجر اکرام اللہ ہمدرد کے ہاں مدعو تھیں۔

اکرام اللہ ہمدرد نے بتایا کہ اس پورے سلسلے میں ان کی موجودگی جنوری میں شروع ہوئی تھی۔ اس کے بعد دیر کے پی کے فیس بک صفحہ کے منتظم رحیم الدین کے توسط سے عشیری درہ میں انھوں نے اس خاندان کے افراد سے رابطہ کیا اور ان سے معلوم کیا کہ ان کی کوئی بہن لاپتہ ہے تو ان کی تصدیق کے بعد انھیں بتایا گیا کہ ان کی بہن کشمیر میں ہیں۔

اکرام اللہ نے بتایا کہ جب جان سلطانہ کا ان کے بھائیوں کے ساتھ رابطہ ویڈیو چیٹ کے ذریعے کرایا گیا تو وہ بہت جذباتی لمحہ تھا اور دونوں جانب بیٹھے لوگ رو رہے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے ذریعے یہ سب کچھ ممکن ہو سکا اور بچھڑا ہوا خاندان پینسٹھ سال بعد ملا ہے۔

جان سلطانہ ان دنوں اپنے رشتہ داروں سے ملاقاتیں کر رہی ہیں۔وہ اپنے بچھڑے بھائیوں کے ساتھ پرانی یادیں تازہ کرتی ہیں، بہن بھائیوں سے والدین کے بارے میں پوچھتی ہیں اور اپنی سہیلیوں کےبارے میں جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ وہ سب اب کہاں ہیں۔ وہ ان لمحوں کی کمی محسوس کرتی ہیں اور ان رشتہ داروں کو یاد کرتی ہیں جو اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں