ملیے حارث خان ٹروڈو سے

حارث خان ٹروڈو کا ٹوئٹر کا صفحہ
Image caption ’میں جسٹن ٹروڈو کی طرح کا انسان بننا چاہتا ہوں‘

کیا آپ کبھی کسی کو اتنا پسند کرتے ہیں کہ اپنے نام کے ساتھ اس کا نام ہی جوڑ لیتے ہیں۔ ہاں ایسا فلموں میں تو ہوتا ہے، شاید کسی لڑکی لڑکے کی محبت میں بھی ہو۔ لیکن شاید ہی کسی کو کوئی سیاسی لیڈر اتنا پسند آیا ہو کہ اس نے اپنے نام کے آگے اس کا نام لگوا لیا ہو۔

کبھی سنا ہے محمد ادریس نواز شریف یا آمنہ خان شاہ سلمان یا پھر مستنصر حسین ٹرمپ لیکن پاکستان کے شہر پشاور میں 16 سال کے ایک نوجوان ہیں جو ایک عالمی لیڈر سے اتنا متاثر ہوئے کہ ان کا نام اپنے نام کے آگے لگوا لیا۔

ملیے حارث خان ٹروڈو سے۔

حارث پشاور میں دسویں جماعت کے طالب علم ہیں لیکن سیاست سے انتہائی شغف رکھتے ہیں اور ان کو کینیڈا کے نوجوان وزیرِ اعظم جسٹن ٹروڈو اتنے پسند ہیں کہ انھوں نے اپنے نام کے آگے ٹروڈو لگوا لیا ہے۔

جسٹن ٹروڈ صرف نام کے آگے نہیں بلکہ ہر جگہ ہیں۔ حارث خان کے ٹوئٹر کے صفحے پر بھی جسٹن ٹروڈو ہر طرف نظر آتے ہیں۔ جہاں جہاں یاسر خان کی تصویر ہے وہیں جسٹن ٹروڈو کی بھی۔ بلکہ یہاں تک کہ فوٹو شاپ کی ہوئی تصاویر میں تو حارث خان اور جسٹن ٹروڈو ایک ہی طرح کی سانتا کی ٹوپی پہنے ہوئے نظر آتے ہیں۔

اور ذرا ان کے ٹوئٹر ہینڈل @harismalapolit پر ان کے اپنے بارے میں لکھی ہوئی معلومات پڑھیے۔ یہ کچھ اس طرح ہے:

میں جسٹن ٹروڈو کے لیے جان دینے کو تیار ہوں

اگر دنیا جسٹن ٹروڈو کے خلاف ہے تو میں دنیا کے خلاف ہوں

اور تو اور انھوں نے کینیڈین وزیرِ اعظم سے محبت میں اپنی لوکیشن بھی پشاور، پاکستان، کینیڈا لکھی ہے۔ یہ ہوتا ہے پیار۔

اتنی محبت دیکھ کر تو مجھ سے رہا نہ گیا میں نے حارث خان ٹروڈو سے ٹوئٹر پر رابطہ کر کے ان سے ان کا فون نمبر مانگا اور ان سے بات کی۔ گفتگو کا خلاصہ ذرا یوں ہے۔

Image caption میں ایک عام انسان ہوں اور وہ ایک وزیرِ اعظم

آپ کا نام کیا ہے؟

حارث خان ڈروڈو۔

یہ آخر میں ٹروڈو کیوں؟

اصل میں میرے جتنے سکول میں دوست ہیں، میرے کزنز، بلکہ میرے اساتذہ بھی مجھے اسی نام سے پکارتے ہیں کیونکہ انھیں پتہ ہے میں جسٹن ٹروڈو کی حمایت کرتا ہوں۔

آپ ان کی کیوں حمایت کرتے ہیں؟

اس لیے کہ ان میں انسانیت کا جذبہ ہے۔ وہ اس کا کبھی احساس نہیں کرواتے کہ وہ وزیرِ اعظم ہیں۔ وہ وزیرِ اعظم ہوتے ہوئے بھی لوگوں سے ایک سادہ آدمی کی طرح ملتے ہیں۔ وہ انسانیت کے بارے میں بات کرتے ہیں لوگوں کے مذہب کے بارے میں نہیں سوچتے۔

لیکن آپ پشاور میں رہتے ہوئے جسٹن ٹروڈو کو اتنا کیوں فالو کرتے ہیں۔

جس دن وہ وزیرِ اعظم منتخب ہوئے تھے تو میں نے دیکھا تھا کہ انھوں نے مسلمانوں کے ساتھ زمین پر بیٹھ کر کھانا کھایا تھا۔ چاہے کوئی سکھ ہو، ہندو ہو، عیسائی ہو وہ سب کو سپورٹ کرتے ہیں۔ اور سب کے ساتھ پیار کرتے ہیں۔ ان کے اندر انسانیت کا بہت جذبہ ہے۔

آپ نے اپنے ٹوئٹر پر ان کی تصاویر اپنے ساتھ لگائی ہیں۔ یہ خیال کیسے آیا؟

میں سوچتا ہوں کہ ہو سکتا ہے کہ میں زندگی میں ان کے ساتھ نہ مل سکوں، اس لیے میں نے ان کی تصویر اپنے ساتھ لگائی ہے۔ کیونکہ میں ایک عام آدمی ہوں اور وہ وزیرِ اعظم ہیں اس لیے میں اپنا پوائنٹ تصویر لگا کر ہی پیش کرتا ہوں۔ میں ان کے بارے میں تقریباً سب کچھ جانتا ہوں۔

اگر کبھی جسٹن ٹروڈو سے ملاقات ہو گئی تو کیا کہیں گے انھیں؟

میں کہوں گا کہ آج میری زندگی کی ایک بہت بڑی خواہش پوری ہو گئی۔ میں کہوں گا کہ اگر میں مستقبل میں سیاستدان بن گیا تو میری ساری سیاست ان کی طرح ہو گی۔

جب میں نے حارث سے پوچھا کہ آپ جسٹن ٹروڈو کو اتنا کیوں پسند کرتے ہیں کہ ان کا نام اپنے نام کے آگے لگا لیا تو حارث ٹروڈو نے جواب دیا کہ میں تو اپنے شناختی کارڈ پر بھی ٹروڈو لکھوانے کا سوچ رہا ہوں۔

حارث خان ٹروڈو کے ٹوئٹر پر 2144 فالوورز ہیں لیکن وہ خود تین افراد کو فالو کرتے ہیں۔ بقول ان کے ان کے 70 فیصد فالورز کا تعلق کینیڈا سے ہے اور ان میں تین ممبر پارلیمان بھی ہیں۔

حارث کے والد کا انتقال ایک بم دھماکے میں زخمی ہونے کے بعد ہوا تھا۔ وہ تین بھائی ہیں اور حارث کے انکل ان کی پروریش کرتے ہیں۔ حارث کا کینیڈا جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔