’2016 میں 728 افراد لاپتہ ہوئے، تعداد چھ سال میں سب سے زیادہ‘

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (ایچ آر سی پی) کے مطابق ملک میں جبری طور پر لاپتہ کئے گئے افراد کی تعداد میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے مطابق 2016 میں مزید 728 افراد لاپتہ ہوئے اوریہ تعداد چھ سالوں میں سب سے زیادہ ہے۔

یہ اعدادوشما پاکستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر نظر رکھنے والے ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کی بدھ کو جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ برائے سال 2016 میں پیش کئے گئے ہیں۔

پاکستان میں حقوق انسانی کی کارکن اور وکیل عاصمہ جہانگیر نے ایچ آر سی پی کے ارکان کے ہمراہ یہ رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں لبرل نظریات رکھنے والے افراد کو ہدف بنایا جارہا ہے اور آہستہ آہستہ وہ پلیٹ فارمزمحدود ہوتے جارہے ہیں جہاں کھل کر اظہارِ رائے کیا جاسکتا تھا۔

* لاپتہ بلاگرز کی فوری بازیابی قومی مفاد میں ہے، ایچ آر سی پی

* ’حکومت گلگت بلتستان کے عوام کی آواز کو دبا رہی ہے‘

ادارے کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس انسانی حقوق کے تین کارکنوں، چھ صحافیوں اور ایک بلاگر کے قتل اور بعض خبروں کی گردش نے ذرائع ابلاغ کے لیے خوف کی فضا میں اضافہ کیا اور اس سے ذرائع ابلاغ کی خودساختہ سنسر شپ کے رجحان میں بھی اضافہ ہوا۔

ہماری نامہ نگار شمائلہ خان نے بتایا کہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقلیتوں کےخلاف حملوں میں اہم شعبوں میں مہارت رکھنے والے افراد کو خصوصی طورپرنشانہ بنایا گیا۔ سال 2016 میں احمدیہ برادری سے تعلق رکھنے والے چار لوگ قتل ہوئِے جن میں تین ڈاکٹرز تھے۔

رپورٹ کہتی ہے کہ سال 2015 کے مقابلے 2016 میں دہشت گردی کےواقعات میں 45 فیصد کمی واقع ہوئی تاہم 211 حملوں میں 48 فیصد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو نشانہ بنایاگیا۔ سندھ اور بلوچستان میں ہوئے زیادہ تر واقعات کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی۔

ایچ آر سی پی مطابق گذشتہ برس 487 افراد کو موت کی سزاسنائی گئی جبکہ 87 کو پھانسی دی گئی۔

توہینِ مذہب کےالزام میں 15 افراد کے خلاف مقدمات درج ہوئےجس میں دو مسلمانوں اور دو مسیحوں کو توہینِ مذہب کے جرم میں موت کی سزاسنائی گئی۔

مشال قتل کیس سمیت توہینِ مذہب کےالزامات کے بعد ہجوم کی جانب سے فیصلہ سنائے جانے کے واقعات پرتشویش کا اظہار کرتے ہوئے عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ 'مذہب کا غلط استعمال مذہب کی خدمت نہیں ہے۔ میں سمجھتی ہوں یہ بغاوت ہے کہ آپ مذہب کا غلط استمعال کریں۔'

Image caption ہیومن رائیٹس کمیشن آف پاکستان کی سالانہ رپورٹ برائے سال 2016

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت کو چاہیے کہ توہینِ مذہب کےقوانین میں ترمیم کے لیے اتفاقِ رائے قائم کرے۔

انسانی حقوق کمیشن برائِے پاکستان نے ملک میں خواتین کے تحفظ کے لیے بنائے گئے نئے قوانین کو خوش آئند قرار دیا لیکن ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز میں نمایاں کمی دیکھنے کو نہیں ملی۔

آیچ آر سی پی کی جانب سے وفاقی سطح پہ آئین سازی کی شرح میں اضافے کو بھی سراہا گیا۔

رپورٹ کے مطابق وفاقی پارلیمان نے 2016 میں 51 قوانین بنائے اوریہ تعداد گذشتہ برس کے مقابلے میں دوگنی سے بھی زیادہ ہے۔ 2015 میں یہ تعداد 20 تھی۔

دوسری جانب صوبوں نے 81 معاملات پر قانون سازی کی جو گذشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طورپر کم تھی۔ 2015 میں 120 قوانین بنائے گئے تھے۔

انصاف کی صورتحال پر ادارے کا کہنا ہے کہ ملکی عدالتوں میں 30 لاکھ کیسز اب بھی زیرِ التوا ہیں البتہ ججوں اور وکلاء کےخلاف تشدد کےواقعات کے باعث شعبہ قانون سے وابستہ افراد میں عدم تحفظ بڑھ گیاہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں