ڈان لیکس: حکومتی نوٹیفیکشن مسترد کرنے والی ٹویٹ واپس

آصف غفور تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس نوٹیفیکیشن کے بارے میں فوج کا ٹویٹ نامکمل سفارشات سے متعلق تھا

پاکستان کی فوج نے ڈان لیکس کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے بارے میں وزیراعظم ہاؤس کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کی ٹویٹ واپس لے لی ہے۔

ادھر پاکستان کی وزارتِ داخلہ نے کہا ہے کہ کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کیا جا چکا ہے اور اب ڈان لیکس کا معاملہ نمٹ چکا ہے۔

٭ڈان لیکس پر وزیراعظم کا نوٹیفیکیشن، فوج کی طرف سے مسترد

٭’ڈان لیکس‘: طارق فاطمی نے الزامات مسترد کر دیے

٭’خبر رکوانے میں ناکامی پرویز رشید کی برطرفی کی وجہ بنی‘

آئی ایس پی آر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 29 اپریل کو فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے شائع کیے جانے والے ٹویٹ کا ہدف کوئی حکومتی ادارہ یا شخص نہیں تھا۔

اس بیان کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس نوٹیفیکیشن کے بارے میں فوج کا ٹویٹ نامکمل سفارشات سے متعلق تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’نامکمل چیز آج مکمل ہوگئی ہے اور وزارت داخلہ نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔‘

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 'پاک فوج بھی جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنی باقی سب کرتے ہیں۔'

خیال رہے کہ میجر جنرل آصف غفور باجوہ نے اپنی 29 اپریل کی ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'ڈان لیکس کے حوالے سے جاری کیا گیا اعلان انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے۔ یہ نوٹیفیکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔'

یہ بیان وزیر اعظم کے پرنسپل سییکرٹری فواد حسن فواد کی طرف سے جاری کیا گیا تھا اور اس میں کہا گیا تھا کہ کمیشن کی طرف سے جو سفارشات پییش کی گئی تھیں اس پر من وعن عمل درآمد کیا جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Interior Ministry
Image caption وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری کیے گیے بیان کا عکس

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈان لیکس کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا 18 میں جو سفارشات دی گئی تھیں اور ان کی منظوری وزیراعظم نواز شریف نے دی تھی ان پر عملدرآمد ہو گیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس عملدرآمد کے نتیجے میں ڈان لیکس کا معاملہ حل ہو چکا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس صورتحال میں فوج کے ترجمان کا ٹویٹ واپس لیا جاتا ہے اور یہ پیغام غیرموثر ہو گیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی فوج جمہوری عمل کی حامی ہے اور ملک کے آئین کی عملداری یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

فوج کے اس بیان کے بعد پاکستان کی وزارتِ داخلہ کی جانب سے بھی ایک اعلامیہ جاری کیا گیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے 29 اپریل کو ڈان لیکس کی تحقیقاتی کمیٹی کی جن سفارشات کی منظوری دی تھی ان پر متعلقہ وزارتوں اور ڈویژنز کی جانب سے عملدرآمد کیا جا چکا ہے اس لیے ڈان لیکس کا معاملہ اب نمٹ گیا ہے۔

وزارتِ داخلہ کے بیان میں ان سفارشات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں پیش کی تھیں جن کے مطابق ڈان اخبار، اس کے مدیر ظفر عباس اور خبر دینے والے صحافی سرل المیڈا کا معاملہ آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی کو بھجوانے کو کہا گیا ہے جبکہ پرنٹ میڈیا کا ضابطہ اخلاق بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے خاص طور پر ان معاملات میں جو پاکستان کی سکیورٹی سے متعلق ہوں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی 29 اپریل کی ٹویٹ کا عکس

اس کے علاوہ کمیٹی نے وزیراعظم کی جانب سے اس معاملے میں وزیرِ اطلاعات پرویز رشید نے ان کا عہدہ واپس لینے کے فیصلے کی توثیق جبکہ راؤ تحسین کے خلاف 'ایفیشنسی اینڈ ڈسپلن' کے قوانین کے تحت کارروائی اور وزیراعظم کے معاونِ خصوصی طارق فاطمی سے عہدہ واپس لینے کی سفارش کی تھی۔

فوج اور وزارتِ داخلہ کے یہ بیانات بدھ کو وزیر اعظم ہاؤس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی وزیر اعظم نواز شریف سے ملاقات کے بعد سامنے آیا ہے۔

وزیراعظم ہاؤس کے ترجمان کے مطابق اس ملاقات میں نہ صرف ڈان لیکس سے متعلق معاملے پر تفصیلی بات کی گئی بلکہ اس معاملے پر میڈیا پر آنے والی خبروں کے بعد ریاستی اداروں کے درمیان پییدا ہونے والی غلط فہمی کو بھی زیر بحث لایا گیا۔

اس ملاقات میں فوج کے خفیہ ادارے انٹر سروسز انٹیلیجنس کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل نوید مختار کے علاوہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان بھی موجود تھے۔

اسی بارے میں