حکومت مریم نواز کو بچانے میں مکمل طور پر کامیاب رہی: اعتزاز احسن

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی فوج کی طرف سے ڈان لیکس کی تحقیقات کرنے والی کمیٹی کی سفارشات پر عملدرآمد کے بارے میں وزیراعظم ہاؤس کا نوٹیفکیشن مسترد کرنے کی ٹویٹ واپس لیے جانے پر پیپلز پارٹی نے کہا ہے کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اور سینیٹ میں قائد حزب اختلاف اعتزاز احسن نے نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈان لیکس کے حوالے سے معاملات صحیح ہو گئے ہیں۔

ڈان لیکس: حکومتی نوٹیفیکشن مسترد کرنے والی ٹویٹ واپس

کیا تصادم کا خطرہ فی الحال ٹل گیا ہے؟

انھوں نے کہا کہ 'نظر آ رہا ہے کہ آپس میں ٹھیک ہو گیا ہے۔ اس میں حکومت کا اصل کام مریم نواز شریف کو بچانے کا تھا اور حکومت اس میں مکمل کامیاب ہو گئی ہے۔'

انھوں نے کہا کہ حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹیفیکیشن میں زیادہ فرق نہیں ہے لیکن جنرل آصف غفور نے ٹویٹ قطعی طور پر واپس لے لی ہے۔

'نوٹیفیکیشن میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ وہی پانچ افراد کا ذکر ہے جن کا پہلے بھی تھا جن میں سے تین کو قربانی کا بکرا بنایا۔ مریم کا نام نہیں لیا اور مریم کے میڈیا سیل کا نام نہیں لیا۔'

ان کا کہنا تھا کہ ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کو ٹویٹ واپس لینے کے بجائے استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔

ڈان لیکس کے حوالے سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے 'ڈان لیکس کا ایشو کبھی بھی حکومت اور فوج کا نہیں تھا۔ یہ ہے نیشنل سکیورٹی کا۔ پوری قوم اب جاننا چاہتی ہے کہ کیا 'طے' پایا۔'

عمران خان نے مزید کہا جس طریقے سے ڈان لیکس کے معاملے کو حل کیا گیا ہے اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ 'ایک قانون طاقتور کے لیے ہے اور دوسرا قانون کمزور کے لیے ہے'۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

عمران خان نے کہا کہ ڈان لیکس کی انکوائری کمیشن رپورٹ کو منظر عام پر لایا جائے۔

پاکستان عوامی لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا کہ ڈان لیکس میں 'بڑوں کو بچا لیا گیا ہے اور چھوٹوں کا صدقہ دے دیا گیا ہے۔

انھوں نے کہا 'ڈان لیکس کے بارے میں جو نوٹیفکیشن جاری کیا گیا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ سکیورٹی بریچ ہوا ہے۔'

واضح رہے کہ آئی ایس پی آر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ 29 اپریل کو فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی جانب سے شائع کیے جانے والے ٹویٹ کا ہدف کوئی حکومتی ادارہ یا شخص نہیں تھا۔

اس بیان کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ڈان لیکس نوٹیفکیشن کے بارے میں فوج کا ٹویٹ نامکمل سفارشات سے متعلق تھا۔

انھوں نے کہا کہ 'نامکمل چیز آج مکمل ہوگئی ہے اور وزارت داخلہ نے اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔'

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ 'پاک فوج بھی جمہوریت کی اتنی ہی تائید کرتی ہے جتنی باقی سب کرتے ہیں۔'

خیال رہے کہ میجر جنرل آصف غفور باجوہ نے اپنی 29 اپریل کی ٹویٹ میں کہا تھا کہ 'ڈان لیکس کے حوالے سے جاری کیا گیا اعلان انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں ہے۔ یہ نوٹیفکیشن مسترد کیا جاتا ہے۔'

آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ڈان لیکس کی تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کے پیرا 18 میں جو سفارشات دی گئی تھیں اور ان کی منظوری وزیراعظم نواز شریف نے دی تھی ان پر عملدرآمد ہو گیا ہے۔

فوج کا کہنا ہے کہ اس عملدرآمد کے نتیجے میں ڈان لیکس کا معاملہ حل ہو چکا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق اس صورتحال میں فوج کے ترجمان کا ٹویٹ واپس لیا جاتا ہے اور یہ پیغام غیرموثر ہو گیا ہے۔

اسی بارے میں