احسان اللہ احسان کے خلاف ایک اور رٹ دائر

احسان اللہ احسان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption احسان اللہ احسان نے گذشتہ دنوں اپنے آپ کو پاکستان فوج کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے خلاف پشاور کے آرمی پبلک سکول پر حملے کا مقدمہ درج کرنے کے لیے پشاور ہائی کورٹ میں ایک اور رٹ داخل کی گئی ہے۔

آرمی پبلک سکول پر حملےکے حوالے سے یہ تیسری رٹ پیٹیشن ہے جو پشاور ہائی کورٹ میں داخل کی گئی ہے۔

رٹ دائر کرنے کا فیصلہ سکول حملے میں ہلاک ہونے والے 25 بچوں کے والدین نے متفقہ طور پر کیا۔ اس حملے میں ہلاک ہونے والے طالبعلم اسفندیار خان کے والد اجون خان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ رٹ انھوں نے گذشتہ روز پشاور ہائی کورٹ میں جمع کرائی ہے اب اس پر کارروائی ہو گی۔

انھوں نے کہا کہ ان کا مطالبہ یہی ہے کہ احسان اللہ احسان نے آرمی پبلک سکول پر حملے کی زمہ داری قبول کی تھی اس لیے اس کے خلاف مقدمہ فوجی عدالت میں سنا جائے اور فوجی عدالت ہی سے سزا دی جائے۔

یہ درخواست اس واقعے میں ہلاک ہونے والے ایک طالبعلم صاحبزادہ عمر کے والد فضل خان ایڈووکیٹ نے جمع کرائی ہے۔ اس رٹ میں کہا گیا ہے کہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے خلاف فوجی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے۔

اس رٹ میں چیف آف آرمی سٹاف، وفاقی سیکرٹری داخلہ، چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا، سیکرٹری دفاع، ڈی جی آئی ایس آئی اور سیکریٹری قانون و انصاف کو فریق بنایا گیا ہے۔ اس رٹ میں یہ موقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخواست گزار کا بیٹا صاحبزادہ عمر آٹھویں جماعت کا طالبعلم تھا جسے آرمی پبلک سکول پر حملے میں ہلاک کر دیا گیا تھا۔

اس حملے میں سکول کے 148 طلبہ اور سٹاف کے افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

اس رٹ میں مزید کہا گیا ہے اب احسان اللہ احسان کی گرفتاری عمل میں آئی ہے جس کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ آرمی پبلک سکول پر حملے میں ملوث افراد کو سزا دی جا سکے گی۔

آرمی پبلک سکول پر حملہ 16 دسمبر 2014 کو کیا گیا تھا اور اسے پاکستانی تاریخ میں شدت پسندی کا بڑا واقعہ قرار دیا گیا تھا۔

اجون خان ایڈووکیٹ نے بتایا کہ بچوں کے والدین کی جانب سے اب تک تین رٹیں پشاور ہائی کورٹ میں جمع کی جا چکی ہیں دو اب تک زیر التوا ہیں۔

ان میں جوڈیشل انکوائری کے لیے کہا گیا تھا اور دوسری پیٹیشن ایف آئی ار میں ترمیم کا کہا گیا تھا تاکہ ان افراد کو بھی اس ایف آئی آر میں نامزد کیا جا سکے جن کی غفلت سے یہ واقعہ پیش آیا تھا۔

اسی بارے میں